07:56 am
مودی کا ایجنڈا

مودی کا ایجنڈا

07:56 am

ہندو راشٹریہ کے نعروں تلے کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو بدترین شکست دے کر  ہندو انتہا پسند جشن منا رہے ہیں۔ہندو انڈیا کے نظریہ پر نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ میں کابینہ تشکیل دینے پر مشاورت ہو رہی ہے۔ اس موقع پر دنیا سوال کرتی ہے کہ انڈیا نے مودی کو ووٹ کیوں دیا۔ نیو یارک ٹائمز کے ادارتی صفحہ پر دہلی سے کسی سکھ شہری کے نام سے ایک خط شائع کرایا گیا ہے جس میں اسی سوال کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ انڈیا نے مودی کو ووٹ ان زبردست ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے دیا۔ اس خط میں دنیا کو تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مودی کو بیت الخلاء کی تعمیر، چھوٹے کاروبار کے لئے قرضہ جات، صحت کی منصوبہ بندی، سبسڈی پر گیس کنکشنز جیسے ترقی کے کاموں کی وجہ سے ووٹ ملا، دیگر عوامل کی طرف جانا سفید جھوٹ ہو گا۔ جب کہ دیگر عوامل ہی بنیادی اسباب میں سرفہرست ہیں۔ جنگی جنونیت کے دوران عام انتخابات ہوئے۔ 
 
مودی بھارتی ووٹر کے ذہن پر چھا گئے۔ گو کہ منموہن سنگھ کے دور میں بھارت کا افراط زر 12فیصد تھا جسے اپریل 2019ء میں 3فی صد تک کم کر دیا گیا۔ ٹائم میگزین نے بھی دنیا کو یہ تاثر دیا ہے کہ مودی نے بھارت کو متحد کر دیا ہے۔ دنیا کے سامنے مودی کو ہندو قوم پرستی اور جنونیت کو ہوا دینے والے کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اس جیت کا سہرا مودی کی اقتصادی پالیسیوں اور غریبوں کی حالت بہتر بنانے کو دیا جا رہا ہے۔ مودی نے بھارت کو متحد کرنے کے بجائے ہندو انتہا پسندوں کو متحد کیا ہے۔ انہیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف متحد کیا گیا ہے۔ ہندوئوں کو اقلیتوںکے سامنے لا کھڑا کر دیا ہے۔ تا ہم اتخابی مہم کا نشانہ مسلمانوں کو بنایا گیا۔ ہندو نوجوان کو مسلمانوں سے خوفزدہ کیا گیا۔ انہیں ’’ لوجہاد‘‘سے ڈرا کر’’ وندے ماترم ‘‘کا درس دیا گیا۔ اسلامو فوبیا کا یہ عالم ہے کہ مودی کی جیت کا جشن منانے والوں نے جگہ جگہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ 
دہلی میں مسلم نوجوان کی ٹوپی اتار کر اسے جے ماتا دی اور وندے ماترم نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ مسلمانوں کو اس جیت کے بعد بھی گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مودی کے گزشتہ دور حکومت میں کم از کم   44 مسلمانوں پر سر عام تشدد کیا گیا۔ بی جے پی نے پلوامہ حملے کے بعد قومی سلامتی کو اپنا سب سے بڑا انتخابی منشور بنایا۔ ریاست آسام میں بنگالی مسلمانوں کو بے دخل کرنے کا نعرہ لگایا۔ بنگلہ دیش سے آسام آ کر بسنے والوں کو در انداز قرار دیا۔ بی جے پی آسام کو بنگالی مسلمانوں سے صاف کرنے کا اعلان کر رہی ہے۔ صفائی کا مطلب مسلمانوں کا قتل عام بھی ہو سکتا ہے۔
 خدشہ ہے کہ بی جے پی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو آبادی کو بسانے اور مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کے لئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35اے ختم کر دے گی۔ ہندوتوا کے بینر تلے مودی ایک شو پیس کی طرح کام کر رہے ہیں۔ ان سے یہ کام ایسے لیا جا رہا ہے کہ ایک بیک ورڈ کلاس اور چائے فروش کو ملک کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ ہندو ازم میںذات پات اور چھوت چھات عام ہے۔ برہمن کسی شودر اور ہریجن کو برداشت نہیں کرسکتا۔ مگر مسلمانوں کے خلاف یہ ذات پات کے نعرے سب ختم کئے گئے ہیں۔ مودی کے اس سلسلے میں کئی ایجنڈے ہیں۔ ملک کے اندر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پہلا ایجنڈا ہے۔ جب کہ کیس عدالتوں میں ہے۔ عدلیہ پر دبائو بڑھانے کے لئے ہندو قوم پرست ایودھیا میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دوم بی جے پی مقبوضہ کشمیر میں فورسز کو مزید اختیارات دینا چاہتی ہے۔ جن میں مجاہدین کے خلاف فضائی بمباری کا آپشن بھی شامل ہے۔ ظاہر ہے اس کا نشانہ کشمیری شہری آبادی بنے گی جسے جنگجو قرار دیا جائے گا۔ یہ گورنر جگ موہن کا فارمولہ ہے جس پر برسوں تک عمل نہیں کیا جا سکا ہے۔ بی جے پی منشور میں سرمایہ کاری میں اضافہ، شہری اور دیہی ترقی ،سو شہروں کو سمارٹ سٹیز میں بدلنا ، غریبوں کے لئے مکان ، سماجی بہبود، کرپشن کا خاتمہ، کالے دھن اور بینامی کے خلاف مہم، نئی تعلیمی پالیسی جیسے نکات شامل ہیں۔ 
خارجہ پالیسی کی ابتداء پاکستان مائنس فارمولہ ہے۔ پڑوسی ممالک خاص طور پر سارک ممالک کو حلف برداری تقریب میں مدعو کیا جانا اس کی کڑی ہے۔ نریندر مودی جون میں مالدیپ کا پہلا سرکاری دورہ کریں گے۔ گزشتہ برس مالدیپ میں صدر ابراہیم صالح کی حلف برداری تقریب میں مودی کی شرکت اہم تھی کیونکہ انہوں نے چین کے حمایت یافتہ امیدوار عبداللہ یامین کو شکست دی تھی۔ اس دورہ میں دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدے بھی ہونے ہیں۔ اس کے بعد مودی بھوٹان اور نیپال کا دورہ کریں گے۔ بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کے لئے بھی ماحول سازگار بنایا جا سکتا ہے۔ مودی کا آئندہ چند ماہ میں کرغزستان کا دورہ بھی متوقع ہے۔ جہاں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس ہو گا۔ جس میں پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ بشکیک میں شاہ محمود قریسی کی سشما سوراج سے ملاقات ہو گئی۔ تا ہم جیسا کہ یہ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ انتخابات کے فوری بعد پاک بھارت بات چیت شروع ہو گی۔ مگر آثار بتا رہے ہیں کہ بھارت فی الحال اس موڈ میں نہیں۔ ووٹر کو مسلم اور پاکستان دشمنی میں بھڑکایا گیا ہے۔ اتنی جلدی اسے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے بھارت یہ رٹ لگائے رکھے گا کہ پہلے پاکستان ماحول بنائے اس کے بعد ہی اسلام آباد سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ یہی پالیسی دہلی کو راس آ رہی ہے۔
 ہندو انتہا پسندوں کو اشتعال دے کر اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی گیدڑ سنگھی جن سنگھیوں کے ہاتھ آچکی ہے۔ اسے وہ استعمال کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ وزیراعظم عمران خان بات چیت کی دعوتیں دے دے کر تھک چکے ہیں۔ اسے بھی مودی نے اپنے ووٹرز کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کیا۔ جیسا کہ مودی سے ڈر کر پاکستان بات چیت کی بھیک مانگ رہا ہو۔ عمران خان حکومت نے سفارتی آداب اور حکمت عملی میں بہتری لانے کی طرف توجہ نہ دی تو اس کا فائدہ  اٹھانے میں نئی دہلی سستی نہیں کرے گی۔ یہ انہوں نے ثابت بھی کر دیا ہے۔ بات چیت کی پیشکش کو دہلی میں پاکستانی کی کمزوری اور جھک جانے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ دنیا پر بھی کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ کیوں کہ کشکول سے پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر کی گئی ہے۔ کچھ سفاتی بھرم نہیں رکھا گیا۔ شنگھائی تعان تنظیم کے  سربراہ اجلاس میں مودی کی روس کے صدر پیوٹن اور چین کے صدر شی جن پنگ سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ رواں سال کے آخر پر دونوں ممالک کے صدور کا دورہ بھارت طے ہے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں