07:57 am
ایران عرب تعلقات میں نیا موڑ! پاکستان کا اہم کردار

ایران عرب تعلقات میں نیا موڑ! پاکستان کا اہم کردار

07:57 am

٭سپریم کورٹ کے ایک اور سندھ، لاہور ہائی کورٹ کے دو ججوں کے خلاف ریفرنس دائر، املاک کے گوشوارے غلط نکلے! O بھارت کا نئے پاکستانی سفیر معین الحق کی نامزدگی پر اعتراض O عید پر طیاروں کے کرائے دوگنا سے بھی زیادہO مقبوضہ کشمیر میں مزید تین کشمیری شہید،پاکستان کی نئی کشمیر کمیٹی بھی غائب! O وزیراعظم آج سعودی عرب جائیں گےO ایران کی طرف سے عرب ممالک کو دوستی کا ہاتھ، سعودی بادشاہ کی طرف سے قطر کے امیر کو سعودی عرب آنے کی دعوت O آج کرکٹ ورلڈ کپ مقابلے شروع ہو رہے ہیںO تحریک انصاف، فاٹا کے صوبائی انتخابات کیلئے 16 ٹکٹیں Oکالم لکھتے وقت اسلام آباد میںپیپلزپارٹی کے کارکنوں اور پولیس میں بھرپور تصادم، لاٹھی چارج، آنسو گیس، گرفتاریاں!O بجٹ11 جون کو آ رہا ہے۔ خدا خیر کرے!!
٭وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک اور لاہور و سندھ ہائی کورٹوں کے ایک ایک جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میںریفرنس دائر کر دیئے ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ ان ججوں نے اپنی جائیداد کے گوشواروں میں حقائق چھپائے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کی سپین میں جائداد ظاہر نہیں کی۔ ان ریفرنسوں کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو سینئر ججوں کے علاوہ صوبائی ہائی کورٹوں کے دو سینئر ترین ججوں پر مشتمل سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی۔ پانچ رکنی کونسل کے رکن ججوں میں سے کسی جج کے خلاف کوئی ریفرنس آ جائے تو وہ اجلاس میں نہیں بیٹھے گا اور اس سے اگلے سینئر جج کو لے لیا جائے گا۔ ایک بات بہت اہم ہے کہ سپریم اور ہائی کورٹوں کے ججوں کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل فارغ کر سکتی ہے اور یہ کہ ملک کے صدر، وزیراعظم اور کسی بھی منصب دار کو ہٹانے کے لئے آئینی و قانونی طریقے موجود ہیں مگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹائے جانے کا کوئی آئینی یا قانونی طریقہ موجود نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی صدارت لازمی طور پر چیف جسٹس کو کرنا ہوتی ہے۔ خود اس کے خلاف کوئی ریفرنس آ جائے تو وہ کونسل کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکے گا۔ آئین میںکوئی متبادل حل نہیں دیا گیا۔ یوں چیف جسٹس کی عدم موجودگی میں اجلاس ہی نہیںہو سکے گا اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیںہو سکے گی۔ چیف جسٹس کی علیحدگی صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ وہ خود استعفا دے دے، اس کا انتقال ہو جائے یا خصوصی میڈیکل بورڈ اس کے دماغی عدم توازن کا فیصلہ دے دے! ایک آخری بات کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس یا فیصلے کی کوئی آئینی مدت مقرر نہیں۔ کونسل کے اجلاس میں مطلوبہ جج کو صفائی دینے کے لئے بلایا جائے گا۔ اجلاس ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کونسل کے اجلاس کے دوران متاثر جج ویسے ہی ریٹائر ہو جائے تاہم کونسل کی کارروائی  جاری رہے گی۔ اکٹھے تین اعلیٰ ججوں کے خلاف بے ضابطگی کے الزامات؟ فیصلہ جو بھی ہو، الزامات عام آدمی نے نہیں، ملک کی سب سے بڑی حکومت نے لگائے ہیں۔ ظاہر ہے پوری چھان بین اور ذمہ داری کے ساتھ ہی عائد کئے ہوں گے! میں اس خبر پر سخت صدمہ کی حالت میں ہوں۔ اس سے پہلے بھی اکا دکا ججوں کا مواخذہ ہوتا رہا ہے مگر اکٹھے تین جج!! الامان! ملک میں انصاف و عدل کا کیا بھرم رہ جائے گا؟ عوام اب کس طرف دیکھیں؟
٭آج سعودی عرب میں عرب ممالک اور دوسرے ملکوں کے سربراہوں کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اس میں شرکت کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم پاکستان عمران خاں بھی سعودی عرب جا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دو سال تک سخت محاذ آرائی کے بعد سعودی عرب نے پہلی بار قطر کے امیر کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے۔ اس سے ان دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ قطر کے خلاف عرب ملکوں کو اعتراض ہے کہ وہ ان ملکوں کے سخت مخالف ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، جب کہ ایران نے بھی ایک ڈرامائی اعلان کے ذریعے عرب ملکوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ جواد نے کہا ہے کہ ایران عرب ملکوں کے ساتھ کشیدگی ختم کرنا چاہتا ہے وہ کسی قسم کے ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا اور عرب بھائیوں کے خلاف کسی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں ہو رہا۔ ایرانی وزیرخارجہ نے دو چار روز قبل اسلام آباد کا دو روزہ دورہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے عرب ممالک کو دوستی کا پیغام بھیجا ہے۔ اس سلسلے میں یقینی طور پر وزیراعظم عمران خاں کے اہم کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ عرب ملکوں کے اجلاس میں مزید اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ویسے آج بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی دوبارہ حلف برداری کی تقریب بھی ہے۔ اس میں شرکت کے لئے بہت سے ملکوں کے سربراہوں کو دعوت دی گئی ہے مگر پاکستان کو دعوت نہیں دی گئی! اچھا ہی ہوا، دعوت ملتی بھی تو پاکستان کو نہیں جانا چاہئے تھا، خواہ مخواہ مخالفانہ مظاہروں سے بدمزگی پیدا ہوتی! نوازشریف معراج کی شب عبادت چھوڑ کر مودی کی پہلی حلف برداری میں چلے گئے تھے، پھر مودی کی ماں کو ساڑھی کا تحفہ بھی بھیجا! کیا حاصل ہوا؟ سوائے اس کے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری باشندوں کی شہادتوں کی تعداد میں بھاری اضافہ ہو گیا! پتہ نہیں، مودی کی ماں نے نوازشریف والی ساڑھی کبھی پہنی بھی ہے یا نہیں!
٭ آج سے کرکٹ کے ورلڈ کپ مقابلے شروع ہو رہے ہیں۔ کل پاکستان کا پہلا مقابلہ ویسٹ انڈیز کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے!
٭قارئین کرام۔ ایک ہلکی پھلکی بات! ایک قاری نے توجہ دلائی ہے کہ اس وقت ملک کا سیاسی تھیٹر پوری طرح خواتین کے ہاتھوں میں آ چکا ہے۔ تمام بڑی عمدگی سے پرفارم کر رہی ہیں۔ قاری کے مطابق پیپلزپارٹی کی نفیسہ شاہ، ن لیگ کی مریم نواز، مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، جی ڈی اے کی نصرت سحر، تحریک انصاف کی فردوس عاشق اعوان،  شیریں مزاری اور کچھ دوسری خواتین ایک دوسرے کے بارے میں جو نئے نئے پُرلطف محاورے اور دور رس اصطلاحات استعمال کر رہی ہیں، ان پر باقاعدہ تحقیقی مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔ محترم قاری کی بات پر مجھے معروف مزاح نگار جنرل شفیق الرحمان کی دلچسپ کتاب ’حماقتیں‘ (یا شائد مزید حماقتیں!) میں بلیوں کی لڑائی کا ایک دلچسپ منظر یاد آ گیا ہے جو کچھ یوں ہے کہ گھر سے باہر ’’چاند ہے نکلا ہوا…چاندنی چھٹکی ہوئی… اور لڑ رہی ہیں بِلیاں … تین ہیں یا چار ہیں…دو تو ہو سکتی نہیں…ایک شبہ سا بڑھ گیا ہے کہ شائد پانچ ہوں! کچھ بھی کہا جا سکتا نہیں! چاند ہے نکلا ہوا…اور چاندنی چھٹکی ہوئی… اور لڑ رہی بِلیاں!! قارئین کے پاس مکمل نظم ہو تو پلیز مجھے بھیج دیں!
٭بھارت نے پاکستان کے وزیراعظم کو اپنے وزیراعظم کی حلف برداری میں دعوت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت میں پاکستان کے نئے ہائی کمشنر معین الحق کو قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ بھارتی انٹیلی جنس اداروں کو معین الحق کے بارے میں تحفظات ہیں۔
٭عید کے موقع پر ہوائی کمپنیوں نے لاہور سے کراچی آمدورفت کا کرایہ 14 ہزار سے بڑھا کر 32 ہزار روپے کر دیا ہے۔ دوگنا سے بھی چار ہزار زیادہ!!
٭رمضان المبارک کے دوران مخیرحضرات کی مدد سے  ایک کمرے میں رہنے والی نہائت غریب بیوائوں اور معذور افراد کے دس بارہ گھروں میں ایک ماہ کا راشن پہنچایا گیا تھا۔ اب ان مفلوک الحال گھرانوں کے بچوں کو عید کے موقع پر کپڑوں اور جوتوں کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں