07:38 am
صدقہ فطر واجب ہے!

صدقہ فطر واجب ہے!

07:38 am

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جا کر مکہ معظمہ کے گلی کوچوں میں اعلان کر دو ’’صدقہ فطر واجب ہے‘‘۔ (جامع ترمذی، ج۲ ص۱۵۱‘ حدیث ۶۷۴)حضرت سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ مدنی سرکار، غریبوں کے غمخوار جناب رسول اللہﷺنے صدقہ فطر مقرر فرمایا تاکہ فضول اور بیہودہ کلام سے روزوں کی طہارت (یعنی صفائی) ہو جائے، نیز مساکین کی خورش (یعنی خوراک) بھی ہو جائے۔ (سنن ابی دائود ج۲، ص۱۵۸، حدیث ۱۶۰۹)
 
حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سرکار نامدار، مدینے کے تاجدارﷺ فرماتے ہیں: جب تک صدقہ فطر ادا نہیں کیا جاتا، بندے کا روزہ زمین و آسمان کے درمیان معلق (یعنی لٹکا ہوا) رہتا ہے۔ (کنز الاعمال، ج۸، ص۲۵۳، حدیث ۲۴۱۲۴)صدقہ فطرہ کے 16 مدنی پھول:صدقہ فطر ان تمام مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے جو ’’صاحب نصاب‘‘ ہوں اور ان کا نصاب ’’حاجات اصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی سے)‘‘ فارغ ہو۔ (عالمگیری ج۱، ص۱۹۱)۔ جسکے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم یا اتنی مالیت کا مال تجارت ہو (اور یہ سب حاجات اصلیہ سے فارغ ہوں) اس کو صاحب نصاب کہا جاتا ہے۔
٭صدقہ فطر واجب ہونے کیلئے ’’عاقل و بالغ‘‘ ہونا شرط نہیں بلکہ بچہ یا مجنوں (یعنی پاگل) بھی اگر صاحب نصاب ہو تو اسکے مال میں سے ان کا ولی (یعنی سرپرست) ادا کرے۔ (ردالمختار ج۳، ص۳۱۲)
٭’’صدقہ فطر‘‘ کیلئے مقدار نصاب تو وہی ہے جو زکوٰۃ کا ہے جیسا کہ مذکور ہوا لیکن فرق یہ ہے کہ صدقہ فطر کیلئے مال کے نامی (یعنی اس میں بڑھنے کی صلاحیت) ہونے اور سال گزرنے کی شرط نہیں۔ اسی طرح جو چیزیں ضرورت سے زیادہ ہیں (مثلاً وہ گھریلو سامان جو روزانہ کام میں نہیں آتا) اور ان کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہو تو ان اشیاء کی وجہ سے صدقہ فطر واجب ہے۔ زکوٰۃ اور صدقہ فطر کے نصاب میں یہ فرق کیفیت کے اعتبار سے ہے۔ (وقار الفتاویٰ جلد۲، ص۳۸۵)
٭مالک نصاب مرد پر اپنی طرف سے، اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے اور اگر کوئی مجنوں اولاد ہے (چاہے پھر وہ پاگل اولاد بالغ ہی کیوں نہ ہو) تو اس کی طرف سے بھی صدقہ فطر واجب ہے، ہاں اگر وہ بچہ یا مجنوں خود صاحب نصاب ہے تو پھر اسکے مال میں سے فطرہ ادا کر دے۔ (عالمگیری، ج۱، ص۱۹۲) ٭مرد صاحب نصاب پر اپنی بیوی یا ماں باپ یا چھوٹے بھائی بہن اور دیگر رشتہ داروں کا فطرہ واجب نہیں۔ (عالمگیری ج۱، ص۱۹۳)
٭والد نہ ہو تو دادا جان والد صاحب کی جگہ ہیں یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتیوں کی طرف سے ان پر صدقہ فطر دینا واجب ہے۔ (ردمختار، ردالمختار ج۲، ص۳۱۵)٭ماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں۔ (ردالمختار ج۲، ص۳۱۵) 
٭باپ پر اپنی عاقل بالغ اولاد کا فطرہ واجب نہیں۔ (ردمختار مع ردالمختار ج۳، ص۳۱۷)٭کسی صحیح شرعی مجبوری کے تحت روزے نہ رکھ سکا یا معاذاللہ عزوجل کسی بدنصیب نے بغیر مجبوری کے رمضان المبارک کے روزے نہ رکھے اس پر بھی صاحب نصاب ہونے کی صورت میں صدقہ فطر واجب ہے۔ (ردالمختار ج۳، ص۳۱۵)٭بیوی یا بالغ اولاد جن کا نفقہ وغیرہ (یعنی روٹی کپڑے وغیرہ کا خرچ) جس شخص کے ذمہ ہے وہ اگر ان کی اجازت کے بغیر ہی ان کا فطرہ ادا کر دے تو ادا ہو جائیگا۔ ہاں اگر نفقہ اُسکے ذمہ نہیں ہے مثلاً بالغ بیٹے نے شادی کر کے گھر الگ بسا لیا اور اپنا گزارہ خود ہی کر لیتا ہے تو اب اپنے نان نفقہ کا خود ہی ذمہ دار ہو گیا ہے لہٰذا ایسی اولاد کی طرف سے بغیر اجازت فطرہ دیدیا تو ادا نہ ہو گا۔بیوی نے بغیر حکم شوہر اگر شوہر کا فطرہ ادا کر دیا تو ادا نہ ہو گا۔
٭عیدالفطر کی صبح صادق طلوع ہوتے ہی جو صاحب نصاب تھا اسی پر صدقہ فطر واجب ہے، اگر صبح صادق کے بعد صاحب نصاب ہوا تو اب واجب نہیں۔ (عالمگیری ج۱، ص۱۹۲)٭صدقہ فطر ادا کرنے کا افضل وقت تو یہی ہے کہ عید کو صبح صادق کے بعد عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے، اگر چاند رات یا رمضان المبارک کے کسی بھی دن بلکہ رمضان شریف سے پہلے بھی اگر کسی نے ادا کر دیا تب بھی فطرہ ادا ہو گیا اور ایسا کرنا بالکل جائز ہے۔ (عالمگیری ج۱، ص۱۹۲)٭اگر عید کا دن گزر گیا اور فطرہ ادا نہ کیا تھا تب بھی فطرہ ساقط نہ ہوا بلکہ عمر بھر میں جب بھی ادا کریں ادا ہی ہے۔ (ایضاً)٭صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں یعنی جن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں انہیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے ان کو فطرہ بھی نہیں دے سکتے۔(عالمگیری ج۱، ص۱۹۴)۔ ٭ساداتِ کرام کو صدقہ فطر نہیں دے سکتے۔ 
٭صدقہ فطر کی مقدار:۔ ایک سو 75 روپے اٹھنی بھر (یعنی دو کلو سے 80 گرام کم) وزن گیہوں یا اس کا آٹا یا اتنے گیہوں کی قیمت ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے۔ 

تازہ ترین خبریں