07:39 am
رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

07:39 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی مبارک شب بھی آتی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ایک عجیب حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی نعمت بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کی ستائیسویں شب کو عطا کی اور قرآن کا نزول بھی لیلۃ القدر کے مبارک لمحات میں ہوا ۔ اس لحاظ سے رمضان ، قرآ ن اور پاکستان کا ایک بہت گہرا تعلق ہے ۔  قیام پاکستان کے حوالے سے دو حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن ان کو ہم مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ یہ پوری دنیا میں واحداسلامی ملک ہے جو اسلام کے نام پر آزاد ہوا ۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مغربی استعمار سے آزادی کی تحریکیں عرب سمیت پورے عالم اسلام میں چلیں لیکن ہر جگہ یہ تحریک اپنے ملک کی آزادی کے لیے تھی۔ واحد ملک پاکستان ہے جہاں تحریک چلی ہی اس بنیاد پر کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک اس نعرے نے تحریک کی شکل اختیار نہیں کی مسلم لیگ کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ہماری تاریخ سے ویسے ہی کاٹ دیا گیا ہے ۔ نصاب میں ان تاریخی حقائق کو اس طرح سے اُجاگر ہی نہیں کیا گیا کہ پاکستانی قوم کی نئی نسلوں میں قیام پاکستان کا اصل مقصد واضح ہوتا۔ پڑھایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی جماعت تھی اس لیے اس کی عظمت تھی ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ کی کوئی حیثیت ہی نہیںتھی، شروع میںوہ نوابوں کا ایک ٹولہ تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کانگریس ایک بڑی مضبوط سیاسی اور عوامی جماعت تھی۔ جس میں انڈیا کے تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کی نمائندگی موجود تھی۔ خودقائداعظم سمیت مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر کانگریس میں تھے۔ لیکن جب پاکستان کا نام سامنے آیا اور پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعرے برصغیر کی فضاؤں میں گونجنا شروع ہوئے تو مسلم لیگ کو ایک  غیبی قوت مل گئی۔ اب وہ ایک سیاسی جماعت کی بجائے ایک تحریک تھی ۔
 
 قائداعظم جو حالات سے مایوس ہو کر لندن چلے گئے تھے علامہ اقبال کی سفارش پر واپس آئے اور  مسلم لیگ کی قیادت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور مسلمان اقلیت میں تھے ، اکثریتی جماعت کانگریس بھی پاکستان کی مخالف تھی، گاندھی نے نعرہ لگایا تھا کہ پاکستان میری لاش پر بنے گا اور انگریز بھی مسلمانوں کے مخالف اور ہندوؤں پر مہربان تھے۔ ساری قوت اور اقتدار بھی انگریزوں کے پاس تھا ۔ بظاہر کوئی امکان نہیں تھا کہ پاکستان بن جاتا۔ لیکن     اللہ تعالیٰ کی غیبی تدبیر تھی۔کیونکہ دوہری غلامی میں جکڑے مسلمانوں نے رو رو کر اللہ سے التجائیں کی تھیں کہ پروردگار! تو ہمیں آزاد خطہ عطافرما دے ۔ ہم تیرے اس ملک میں تیرا دین قائم کریں گے۔قائداعظم کے بیسیوں ایسے بیانات ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مقصد کیا تھا۔ پوچھا گیا کہ آپ جو پاکستان بنانے چلے ہیں اس کا آئین کیا ہوگا ۔ فرمایا : ’’13سو سال پہلے سے طے ہے کہ ہمارا آئین قرآن ہے‘‘۔ آئین سٹیٹ کے معاملات سے بحث کرتا ہے ۔اس کا واضح مطلب تھاکہ سٹیٹ کے معاملات قرآن کے مطابق چلیں گے اور یہی دین کا اصل تقاضا ہے۔ لیکن نصاب میں تاریخ کے اصل پہلوؤں کو اُجاگر نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ آج عام تصور یہ بن چکا ہے کہ پاکستان مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے لیے بنا ہے ریاستی نظام تو پیش نظر ہی نہیں تھا ۔جبکہ قائداعظم کے بیسیوں بیانات ایسے ہیں جو بتا رہے ہیں کہ ان کے نزدیک اصل مقصد اسلامی نظام تھا ۔اس کا اعتراف خود قائداعظم نے اپنے بالکل آخری لمحات میں بھی کیا تھا۔
 قائداعظم کے بالکل آخری دور میں جب وہ بستر مرگ پر تھے اور ٹی بی سے متعلقہ دوسرے عوارض بھی انہیں لاحق ہو چکے تھے تو ان کی دیکھ بھال کے لیے ڈاکٹروں کی پوری ٹیم ان کے ساتھ ہوتی تھی ۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر ریاض علی شاہ بھی شامل تھے ۔ انہوں نے اپنی یاداشتوں ( جنہیں بعض اخبارات نے بھی شائع کیا تھا )میں لکھا ہے کہ ایک روز ہم نے محسوس کیا کہ قائداعظم کچھ کہنا چاہ رہے ہیں ۔ ٹی بی کا افیکٹ اتنا گہرا ہو چکا تھا کہ بات بھی کرتے تھے تو ہانپ جاتے تھے اور یہ صورتحال ان کے لیے بڑی خطرناک ہو سکتی تھی۔اس لیے ہم نے انہیں بات کرنے سے منع کیا ہوا تھا ۔ ڈاکٹرز نے مشورہ کیا کہ جو کہنا چاہتے ہیں اس کا موقع دینا چاہیے ورنہ اس کا بھی منفی اثر پڑے گا ۔ لہٰذا سب نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی ۔ پہلی بات انہوں نے یہ کی کہ جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن گیا تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ مجھے کتنی خوشی اور روح کو اطمینان ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کی تائید اور رسول خدا کے فیضان کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا ۔ اگلے الفاظ  پاکستان کے اصل مستقبل کے حوالے سے بہت زیادہ اہم ہیں جو یہ تھے ’’ اب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ یہاں پر خلافت راشدہ کا نظام قائم کریں‘‘ ۔
 تنظیم اسلامی نے سود کے حوالے سے تحریک چلائی تھی جس میں ہم نے قائداعظم کی اس Statemnet کو عام کیا تھا جو یکم جولائی 1948ء کو سٹیٹ بینک آف پاکستان پشاور برانچ کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر قائداعظم کی تقریر کا حصہ تھی:’’مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لاینحل مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔‘‘
 اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشی نظام یہ نہیں ہے کہ محض نصابی کتب (اسلامیات) میں لکھ دیا جائے کہ سود حرام ہے اور عملاً سارا معاشی نظام سود کی بنیاد پر ہو۔ نہیں۔ بلکہ قائداعظم کے نزدیک پاکستان کا معاشی ، سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی تعلیمات کے مطابق قائم کرنا مقصد تھا۔ورنہ انگریز کے دور میں بھی نماز پڑھنے کی پابندی نہیں تھی ۔
(جاری ہے)

 اس وقت بھی مسجدوں میں اذانیں ہوتی تھیں اور آج بھی انڈیا میں اذانیں ہوتی ہیں اور ذاتی طور پر کوئی نیک بننا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا ۔لیکن اصل مسئلہ تواجتماعی نظام یعنی ریاستی نظام کا تھا اور قائداعظم کا فرمان بالکل واضح تھا کہ پاکستان کا نظام خلافت راشدہ کی عملی تعبیر ہوگا ۔ جب ہندو ستان ایک وحدت تھا تو مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندو عددی اعتبار سے غالب تھے ۔اب پاکستان کو الگ خطہ مل گیا اور یہاں 96فیصد مسلمان ہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ سو فیصد مسلمانوں کا ملک ہے۔ اب کیا رکاوٹ ہے ؟ اب تو مسلمان اپنا آئیڈیل نظام قائم کریں اور یہی ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ لیکن آج ہماری ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ جیسے نصف النہار پر سورج ہو اور ہم کہیں کہ ہم نہیں مانتے کہ سورج نکلاہوا ہے۔ ہمارے دانشور ڈھٹائی سے انکار کر رہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہی نہیں ہے اور نہ اس کااسلام سے کوئی تعلق ہے ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آج پاکستان مسائلستان کیوں بنا ہوا ہے ۔ ہر طرح کی قدرتی دولت ، علاقائی ٹریوین ، ہر طرح کے موسم ، ہر طرح کی فصلیں ، پھل اور سبزیاں اور ہر وہ نعمت جو ساری کی ساری شاید کسی ایک ملک کو بھی میسر نہیں اللہ نے ہمیں دی ہوئی ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہر طرح کے بحران سے ہم دوچار ہیں ،جمہوریت جمہوریت کرتے کرتے جمہوریت کے پرخچے اُڑا دئیے گئے۔ پھر دہشت گردی کا کہیں بھی دنیا میں کوئی معاملہ ہو تو الزام پاکستان پرآتا ہے۔ ذلت و خواری پاکستان کے حصے میں ہے ، پوری طرح محکوم ہم ہیں ، سیاسی اعتبار سے امریکہ کے غلام ، معاشی اعتبار سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام۔ اسی قوم نے مل کر پاکستان بنایا تھا اور ناممکن کو ممکن کر دیا تھا اور آج یہی قوم مختلف بنیادوں پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہے اور اللہ کی طرف سے بھوک اور خوف کا عذاب اس قوم پر مسلط ہے۔ دنیا ہمیں Failed Nation لکھتی ہے جبکہ اللہ کا وعدہ تھا کہ ’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘ 
 اللہ کی زمین پر کسی مومن کو موقع ملے اور وہ وہاں دین قائم نہ کرے اور شیطانی نظام کو برقرار رکھے تو وہ کیسا مومن ہے؟وہ تو اسلام کے نام پر دھبہ ہے ۔ہجری تقویم کے مطابق اس 27ویں رمضان کو پاکستان کو بنے 73سال پورے ہو گئے ۔ آج بھی اس ملک میں وہی نظام چل رہا ہے جو انگریز نے بنایا تھااور جو قدم قدم پر اسلام کے خلاف ہے۔لہٰذا یہ جتنے عذاب ہم پر مسلط ہیں ان سے نجات ناممکن ہے جب تک کہ ہم سچے مسلمان نہ بنیں اور جس وعدے پر اللہ سے یہ ملک حاصل کیا تھا، اس وعدے کو پورا نہ کریں ۔یہ طے شدہ بات ہے ۔ ہم اللہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ بھول گئے لیکن یہ مت بھولیں کہ اللہ اپنی سنت کو کبھی نہیں بھولتا ۔ بحیثیت مسلمان ہم پر اللہ کے فیصلے لاگو ہیں ۔ پاکستان کے قیام کا فیصلہ رمضان کی 27ویں شب کو ہوا اور یہ چیز بھی indicateکر رہی ہے کہ اللہ کے نزدیک پاکستان کا قرآن اور اسلام کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ چنانچہ اس کا مستقبل وابستہ ہی اسلام سے ہے۔ اگر اس ملک میں اللہ کا دین قائم ہو جائے تو پھر یہ ملک پوری دنیا کے لیے روشنی کا مینار بن سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور ہمارے راہنماؤں کو بھی اس رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین 



 

تازہ ترین خبریں