07:40 am
نیب پر شاطرانہ وار

نیب پر شاطرانہ وار

07:40 am

 کرپشن اور جاگیردارانہ نظام میں روا  اقربا پروری ملک کی معاشی ابتری کے بنیادی اسباب ہیں ، انہی کے باعث ریاست اور اس کے ادارے کھوکھلے ہورہے ہیں۔ بیوروکریٹ اور صاحب اقتدار سیاست داں نوکریوں کی فروخت اور کک بیک سے مال بنا کر اور تعمیراتی و فلاحی منصوبوں کی رقوم ہڑپ کرکے دہائیوں سے پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ملکی خزانے سے لوٹا گیا یہ سرمایہ پاکستانی  معیشت میں نہیں لگایا جاتا بلکہ نقد کی صورت بیرون ملک منتقل کردیا جاتا ہے(جس طرح پاکستانی ماڈل ایان علی‘ آصف علی  زرداری  کے لیے سوٹ کیس میں پانچ لاکھ ڈالر بیرون ملک منتقل کرتے ہوئے دھر لی گئی) یا پھر اپنا حصہ لینے والے بینکاروں کی مدد اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کردیا جاتا ہے۔ زرداری حکومت کے پانج برس کھلم کھلا اور بے شرمی سے پوری ریاستی حمایت کے ساتھ قومی خزانے کی لوٹ مار کا طویل  ترین دورانیہ تھا۔ 
 
ایک مدت سے ہمارے معاشرے کے دردمند محب وطن اہلِ دل کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جارہا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہماری اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ پاکستان میں احتساب کے اداروں کو ان کے اصل مقصد کے بجائے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مشرف دور میں بہتر انداز میں کوششوں کا آغاز ہوا تھا لیکن بیچ راہ میں اس کا رُخ بدل دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں احتساب کو بڑا دھچکا لگا تاہم مسلم لیگ ن کی حکومت نے اسے جاری رہنے دیا اور منتخب وزیر اعظم کو اپنی اخلاقی حیثیت (بطور صادق و امین) مجروح ہونے کے باعث منصب سے علیحدہ ہونا پڑا۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی  حکومت نے کرپشن کے خلاف جنگ کو اپنی پالیسی کا مرکزی  نکتہ بنایا اور یہ گزشتہ حکومت کی طرح اپنے اراکین پارلیمنٹ اور  سیاسی کارکنان کو بھی احتساب کے دائرے میں لے کر آئی۔ 
کرپشن کی بیخ کنی میں نیب مرکزی کردارکا حامل  ہے اور چیئرمین نیب پر اس کی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے چیئرمین جاوید اقبال پر حال ہی میں بڑا شاطرانہ وار کیاگیا ہے۔ اگر کوئی شخص بدعنوانی کا مرتکب ہو تو اسے کس طرح دوسروں کے احتساب کا حق دیا جاسکتا ہے؟جاوید اقبال سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں اور اکتوبر 2017ء میں مسلم لیگ ن کی  حکومت نے ، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق، پیپلز پارٹی کے اتفاق رائے کے ساتھ تیار کی گئی فہرست میں سے اس عہدے کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ اُس وقت پی ٹی آئی کے رہنما شاہ  محمود قریشی نے یہ شکایت کی تھی کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے  ان کی جماعت کو اعتماد میںنہیں  لیا گیا اور جسٹس جاوید اقبال کے حوالے سے تحفظات کے باعث وہ ان پر ’’نظر رکھیں‘‘ گے۔
صرف ڈیڑھ برس بعد صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ تحریک انصاف کے اراکین کی حراست اور سزاؤں  کے باوجود اسے نیب سے کوئی  شکایت نہیں۔ جب کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ جسٹس جاوید اقبال پر یہ الزام عائد کررہی ہیں کہ ان کی کارروائیوں کے پیچھے سیاسی عزائم ہیں اور کاروباری افراد کے احتساب سے معیشت متاثر ہورہی ہے۔ خیر، احتساب سے وہی معیشت متاثر ہوسکتی ہے جو کرپشن کے بل پر چلتی ہو! ہفتہ بھر پہلے جسٹس جاوید اقبال نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک کے دو بڑے صنعت کاروں ، عارف حبیب اور میاں  منشا، نے نیب لاہور ریجنل آفس کے نام اپنے خط میں  ادارے کی  کارکردگی کو سراہا ہے۔  زرداری کی  قیادت میںاپوزیشن  کے واویلے پر کوئی تعجب نہیں۔ جب وہ الزامات کارگر ثابت نہیں ہوئے تو چیئرمین نیب کی کردارکُشی کے لیے میڈیا کی مدد سے ایک نئی  لہر اٹھائی گئی۔ نیوز ون پر چلائی  گئی ویڈیو میں ظاہر کیا  گیا  کہ چیئرمین نیب ایک خاتون کو  ہراساں کررہے ہیں، مشکوک پس منظر رکھنے  والی خاتون کا نام طیبہ گل بتایا جاتا ہے۔ طیبہ اور اس کا شوہر فاروق نول 39مقدمات میں ملوث ہیں اور نیب کی کارروائی کو ذاتی انتقام کا تاثر دینے کے لیے بلیک میلنگ کے حربے استعمال کررہے ہیں۔ نیب کے مطابق طیبہ گل  اور فاروق نول کے خلاف چھے شکایات موصول ہوچکی ہیں اور 36افراد کی گواہیاں ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ دونوں کردار کسی بین الاقوامی گروپ کے رکن ہیں جس میں بظاہر ایف آئی اے ، پولیس، اعلیٰ تعلیمی کمیشن، اور دیگر اداروں کے اہل کار اور حکام بھی شامل ہیں۔ طیبہ اور فاروق کے خلاف 630صفحات پر مبنی ایک ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ کے بعض رہنما چیئرمین نیب پر الزامات عائد کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کے ایک حلقے نے خود کو اس مطالبے سے لا تعلق کررکھا ہے۔ حمزہ شریف نے چیئرمین نیب سے متعلق معاملے پر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل  دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایک جائز مطالبہ ہے اور تحقیقات کا مرکزی نکتہ بھی ویڈیو کی حقیقت جانچنے کے ساتھ ساتھ اسے بدنیتی کے ساتھ سوشل میڈیا پر عام کرنے اور میڈیا چینل کی غیر ذمے داری کو بھی دائرہ کار  میں لانا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی اس مبینہ بیلک میلنگ گروہ کو  بے نقاب کرنے کے لیے بھی کڑی جانچ ہونی چاہیے، عین ممکن ہے کہ اپنے مزموم عزائم کے ساتھ اس گروہ کو غیر ملکی خفیہ  اداروں کی ہدایات اور مالی معاونت بھی مل رہی ہوں۔ پاکستان کے گرد ہائبر وار فیئر کا گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے،اس میں نہ صرف دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لیے کام جاری ہے بلکہ فیک نیوز کے طوفان کے ذریعے حقائق کو مسخ کرکے جھوٹی اور جعلی معلومات کو حقائق تسلیم کروانے کی کوششیں بھی  زوروں پر ہیں۔ 
اس ہمہ جہت جنگ  میں ملک اور  ملکی قیادت  کی بے توقیری کرکے معیشت اور ریاستی ڈھانچے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال ہورہا ہے۔ عوام کو  اس صورت حال  سے متعلق اعتماد میں لینا چاہیے اور ساتھ ہی جس طرح چیئرمین نیب کو جن بے بنیاد الزامات سے نشانہ بنایا جارہا ہے ایسی کارروائیوں کی بھی روک تھام ضروری ہے۔ ریاستی اداروں کے سربراہان کی کردار کشی کرنے والے ایسے عناصر ملک کے غدار ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے انہیں سزائے موت دینی چاہیے۔ (فاضل کالم نگاری سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

تازہ ترین خبریں