07:42 am
مودی کا ایجنڈا

مودی کا ایجنڈا

07:42 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
پاکستان اس خطے میں تیزی سے آنے والی تبدیلی سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ خاص طور پر بھارت کے حالات فکر انگیز ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور تعلقات صرف برابری کی بنیاد پر ہی بہتر کئے جاسکتے ہیں۔ تعلقات استوار کرنا اگر بھارت کی مجبوری نہیں تو اسلا م آبادبھی دیگر آپشنز زیر غور لانے پر توجہ دے سکتا ہے۔ بھارت کو دو طرفہ تجارت اور دوستی کا احساس ہونے تک یہ مشق فضول ہو گی۔ اگر بھارت کا انحصار کسی بھی میدان میں پاکستان پر ہوتا ہے ، چاہے دہلی کو وسط ایشیا ء تک راہداری کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو ، تب ہی  دہلی کی دلچسپی قائم و دائم رہ سکتی ہے۔ اگر جن سنگھی یا دیگر انتہا پسند گروپ یہ گمان کرتے ہوں کہ ان کے ملک کی پاکستان سے بہتر تعلق کے بغیر ہی ترقی ہونی چاہیئے یا پاکستان میں ایسا تاثر ہو تو پھر کشیدگی اور سرد جنگ جاری رہے گی۔ اسی دشمنی اور جنگی جنون کی آڑ  میں اسلحہ کی دوڑ مزید تیز ہو گی۔ تیسری پارٹی اپنا الو سیدھا کرے گی۔ معیشت اسی طرح عسکریت پر قربان ہو گی۔ ان ہی حالات میں بھارت کے چین اور روس کے ساتھ قربت کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔جدید اسلحہ اور جنگی ٹیکنالوجی کے سودے ہو رہے ہیں۔ مشترکہ جنگی مشقوں کے معاہدے ہو رہے ہیں۔ 
 
بشکیک میں ہی بھارت اور وسط ایشیائی ممالک کے سربراہ اجلاس میں بھی ان معاہدوں پر غور ہو گا۔ اس کے بعد اوساکا، جاپان میںجی 20سربراہ اجلاس میں دنیا بھارت کو درپیش سیکورٹی خطرات سے مزید خوفزدہ کرے گی۔وہ اپنے اسلحہ خانوں کو اس کے حل کے طورپر پیش کرے گی۔  اوساکا میں ہی مودی کی صدر ٹرمپ سے بات چیت متوقع ہے۔ اگست میں فرانس میں جی7سربراہ اجلاس ہو رہا ہے۔ جہاں پر صدر میکرون نے مودی کو مہمان کے طور پر مدعو کیا ہوا ہے۔ آج 30مئی کو دہلی میں بے آف بنگال انیشیٹو فار ملٹی سیکٹورل ٹیکنیکل اینڈ اکانومک کواپریشن(بیمسٹک )کے لیڈر حلف برداری تقریب میں مدعو ہیں۔ جب کہ رواں سال ہی صدر ٹرمپ ، چین اور روس کے صدور، آسڑیلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن، جاپانی وزیراعظم شینزو ابے بھارت کا دورہ کریں گے۔ 
خارجہ امور کے بعد مودی کے سامنے معاشی ترقی کا چیلنج بھی ہے۔ وہ روزگار کے مواقع کیسے پیدا کریں گے۔ ٹیکسوں کی شرح کیا ہو گی۔ یہ سب جولائی کو پیش ہونے والے بجٹ سے پتہ چل جائے گا۔ زراعت کی ترقی کے لئے کسانوں کے لئے مراعات، عالمی رینکنگ میں اضافہ کے لئے اقدامات، چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی محاز آرائی کے بعد چین سے منتقل ہونے والی کمپنیوں کو بھارت میں سہولیات کی فراہمی بھی مودی کی ترجیحات میں جگہ حاصل کر سکتی ہے۔ بھارت بھی چین سے مغرب کی کشیدگی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو آئوٹ سورس کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ 
بھارت میں جس طرح اپوزیشن نے قومی سلامتی کو ایشو بنا کر مودی کو ہی سیاسی فائدہ پہنچایا۔ بی جے پی نے ووٹر کو تاثر دیا کہ قومی سلامتی پر بات کر کے اپوزیشن پاکستان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جس سے مودی کی ریٹنگ اوپر چلی گئی۔ ورنہ بھارت میں سست روی کی شکار معیشت ، نوٹ بندی کا تنازع، عام آدمی کی معمولی آمدنی، روزگار فراہم کرنے میں ناکامی بی جے پی کو شکست میں اہم ثابت ہو سکتی تھی۔ مودی نے عوام کے جذبات مشتعل کر دیئے۔ ان کو خوفزدہ کر دیا۔ اس دور سے نکالنے کے لئے خود کو پیش کیا۔ ووٹر ان باتوں میں بہک گیا۔ مودی حکومت نے اگر چہ ترقی کے اعداد و شمار میں مبالغہ آرائی سے کام لیا ۔ ووٹر کو گمراہ کیا۔ مگر پاکستان سے کشیدگی نے ماحول کو بی جے پی کے حق میں سازگار بنا دیا۔ یہ پیش رفت باعث تشویش ہے کہ بھارت کا پڑھا لکھا ووٹر پاکستان سے دوستی ، تجارت اور تعلقات کی بہتری کے فوائد سے ہی بے خبر ہے۔ یا اسے گمراہ کر دیا گیا ہے۔ آج کی دنیا تنازعات کے حل، باہمی تجارت ، معلومات اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے بغیر ترقی کا تصور ہی نہیں کر سکتی۔ ممالک ایک دوسرے پر انحصار کر رہے ہیں۔ در آمدات اور برآمدات بھی اسی تناظر میں ہوتی ہیں مگر بھارت میںپڑوسیوں کے بجائے دور دراز کے ممالک سے بہتر تعلقات کو ترجیح دی گئی ہے۔ مودی کا ایجنڈا اسی تناظر میں ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ 
مودی نے جس طرح منقسم ہندو معاشرہ کو متحد کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو بکھیرنے کی پالیسی اپنائی اس کا بھی مودی کے مستقبل کی حکمت عملی تشکیل دینے میں اہم کردار ہو گا۔ جیسے کہ مسلم خاتون کو متوجہ کرنے کے لئے تین طلاق آرڈیننس لایا گیا۔ مودی کا شدت پسندانہ ہندوتوا نظریہ ہی ملک کی خارجہ پالیسی کا مرکز بنا ہے۔ جب یہ شدت پسندی سب اقلیتوں کے خلاف ہے۔ تا ہم مغرب میں اسلاموفوبیا کو ہی سامنے رکھا جاتا ہے۔ اسلام کو مشترکہ خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارت میں عیسائیوں پر کئی حملے ہوئے۔ چرچ نذر آتش کئے گئے۔ مگر اسے دنیا میں ایشو بننے نہیں دیاگیا۔ پاکستان دنیا کو اس طرف متوجہ کرنے میں راغب نہ ہوا۔ اب بھارت میں وجود میں آنے والی پارلیمنٹ میں 40فی صد سے زیادہ ارکان قتل اور ریپ سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ اس کے بارے میں اعداد و شمار بھی موجود ہیں۔ نو منتخب 543ارکان میں سے 233پر مقدمے چل رہے ہیں۔ بی جے پی کے 303نو منتخب ارکان میں سے 116کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں۔ ان مقدمات میں 11قتل، 3ریپ اور 30قتل عام کے مقدامت بھی شامل ہیں۔ جب کہ بھارت میں ایسے افراد انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے جن پر بطور رکن اسمبلی فرد جرم عائد ہو چکی یا وہ کسی جرم میں دو یا دو سال سے زیادہ سزا کاٹ چکے ہوں۔ 
گزشتہ پارلیمنٹ میں بھی 185ارکان پر مقدمات چل رہے تھے۔ بھارت کی یہ جمہوریت ہے جسے بے نقاب کرنے کے لئے کوئی ہوم ورک نہیں کیا گیا۔ بھات کا اصلہ چہرہ دنیا کو دکھانے میں متعلقین سستی دکھاتے ہیں۔ بھارتی ارکان پارلیمنٹ کے مجرمانہ ریکارڈ دنیا کے سامنے نہیں لائے گئے۔ جس ملک میں مجرم لوگ اور قانون کو توڑنے والے ہی قانون سازی کریں تو ایسے ملک پر دنیا کیسے اعتبار کر سکتی ہے۔  ایسے ملک سے جمہوریت اور امن کے فروغ کے بجائے انسانوں کے حقوق پامال ہونا ایک سی بات ہو گی۔ نریندر مودی کا بھی یہی ایجنڈا ہے کہ وہ دنیا کو حقائق سے بے خبر رکھیں اور گمراہ کرتے ہوئے، اعداد و شمار غلط طور پر پیش کریں اور بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی طرف پیش رفت کریں ۔ جمہوریت اور امن پسند دنیانے اقلیتوں کی نسل کشی کے مشن پر قائم مودی کو آگے بڑھنے سے نہ روکا تو اس سے یہ خطہ ہی نہیں بلکہ سب متاثر ہوں گے۔  

تازہ ترین خبریں