07:43 am
اعلیٰ ججوں کے خلاف ریفرنس

اعلیٰ ججوں کے خلاف ریفرنس

07:43 am

٭محسن داوڑ گرفتارOاسلام آباد: پولیس سے تصادم میں پیپلزپارٹی کے تمام گرفتار ارکان رہاOحکومت کی طرف سے پی ٹی ایم کو دوبارہ مذاکرات کی پیش کشO محسن داوڑ کے نئے بیانات، نئے مطالباتOبلاول: علی زئی کو اسمبلی میں لانے کا مطالبہ O پنجاب: 36 اضلاع، 38 ترجمان ۔
 
٭ اسلام آباد کا ’ڈی چوک‘ مستقل طور پر میدان جنگ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ طے ہو چکا ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو، اپوزیشن کم از کم اسلام آباد پر ایک حملہ ضرور کرے گی۔ یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ ایک روز حکومت کی پولیس اور اپوزیشن میں ٹکرائو ہو گا۔ ہاتھا پائی، لاٹھی چارج آنسو گیس، پانی کی بارش، کچھ زخمی، کچھ گرفتار، زخمی ہسپتال میں اور گرفتار شدہ افراد فوری طور پر رہا۔ گزشتہ روز بھی یہی ہوا۔ آصف زرداری اور بلاول زرداری کی اسلام آباد پر آمد پر پولیس اور پیپلزپارٹی کے ہجوم میں رسمی تصادم ہوا، پولیس نے 29 ہنگامیوں کو گرفتار کیا اور تھوڑی دیر کے بعد چھوڑ دیا۔ پارٹی کے’ حسن کارکردگی‘ والے ان 29 افراد کو اسلام آباد کے زرداری ہائوس میں افطار ڈنر میں بلا لیا گیا۔ وہاں بلاول، بختاور اور آصفہ زرداری نے ان کی پذیرائی کی۔ پولیس نے بھی بڑے سکون کے ساتھ افطاری کی۔ یوں دونوں فریقوں کا پہلے دن کا پروگرام بحسن و خوبی انجام کو پہنچا۔ 
٭سابق وزیرمملکت برائے داخلہ(اب عجیب سا عہدہ، سیفران!) نے پشتین حقوق تحریک کو اپنے مطالبات کے بارے میں ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ سیاسی طور پر یہ درست اقدام ہے مگر معاملہ اتنا الجھ چکا ہے کہ یہ پیش کش آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ کسی بھی سطح پر ایسے مذاکرات فوج کی شرکت کے بغیر نہیں چل سکتے۔ معاملات کی اب تک شکل یوں بنتی ہے کہ پشتین تحریک کچھ عرصے سے بہت جارحانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ اس کے کچھ مطالبات تو واقعی درست ہیں کہ وزیرستان میںپہلے دہشت گردوںکے ٹھکانوں اور دھماکوں کے باعث تباہی پھیلی، عوام اس کی براہ راست زد میں آئے۔ ان دہشت گردوںکے خلاف آپریشن کے لئے ہزاروں خاندانوں کو وزیرستان سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس سے بھی وہ شدید مشکلات سے دوچار رہے۔ تاہم ان لاکھوں افراد کو کچھ عرصے میں نہ صرف دوبارہ ان کے علاقوں میں واپس لایا گیا۔ ان کے لئے جگہ سکول، ہسپتال، مارکیٹیںاور دوسری سہولتیںبھی فراہم کی گئیں۔ ایسے اقدامات سے مختلف فریقوں کو بعض ناگوار حالات اور نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان باتوں کی تفصیل سامنے آتی رہی ہے۔ بلاشبہ وزیرستان کے نقصان زدہ علاقوں اور متاثرہ افراد کی دادرسی اور دل جوئی بہت ضروری ہے مگر ان معاملات کو جس طرح ابھارا اور الجھایا جا رہا ہے، اس سے ماحول زیادہ خراب ہو رہا ہے۔ پی ٹی ایم نے پہلے فوج سے بدلہ لینے اور اسے الٹا دینے کی دھمکی دی۔ اپنے جلسوں میں وزیرستان کو افغانستان کا علاقہ قرار دیا، پاکستان کا پرچم روندا اور جلایا۔ پھر فوجی چوکی پر حملہ کا واقعہ سامنے آ گیا۔ اس میں تین حملہ آوروں اور ایک فوجی اہلکار کی جانیں چلی گئیں۔ ان واقعات کی قیادت کا الزام محسن داوڑ اور علی وزیر پر لگایاگیا ہے۔ علی وزیر گرفتار اور محسن داوڑ روپوش ہے۔ اب محسن داوڑ کا ایک غیر ملکی خبررساں ادارے سے انٹرویو سامنے آیا ہے کہ وزیرستان سے فوج کو واپس بلایا جائے ورنہ اس کا ایک جوان بھی زندہ واپس نہیں جائے گا۔ کیا ایسا بیان، اتنی بڑی فوج کو ایسی دھمکی کوئی عام تنظیم محض اپنے وسائل کی بنا پر دے سکتی ہے؟ فوج کا ذمہ دار ترجمان الزام لگا چکا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی پاکستان دشمن ایجنسیاں وزیرستان میں برسرپیکار پاکستان مخالف تنظیم کو بھاری مالی امداد دے رہی ہیں۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس (نیشنل ڈیموکریٹک ایجنسی آف سکیورٹی) کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے واضح الفاظ میں پشتون حقوق تنظیم سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ ایسے الجھے ہوئے اور گمبھیر حالات میں کہ فوج کا موڈ بہت سخت ہو چکا ہے، وفاقی وزیر کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش!! مسٹر شہر یار آفریدی اسلام آباد سے ایسے بیانات کی بجائے وزیرستان میں جا کر عوام سے ملو، ان کے مسائل اور دکھ درد سنو، ان سے مل کر ان کی دادرسی اور دل جوئی کے طریقے تلاش کرو! اور ایسا کرنے سے پہلے پاک فوج کے ذمہ داروں سے مشاورت ضروری ورنہ یہ سب کچھ بے کار ہو گا۔
٭ہر کام بے تُکا! بجٹ سر پر آ رہاہے، اپوزیشن کی بیشتر قیادت نیب اورعدالتوں سے نبردآزما ہے۔ وزیرستان میں بیرونی سازشیں زور پکڑ رہی ہیں، عوام شدید مہنگائی میں پس رہے ہیں ملک کا کوئی وزیرداخلہ، وزیراطلاعات بلکہ بظاہر وزیردفاع ہی موجود نہیں۔ ایسے حالات میں اچانک حکومت نے سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کورٹوں کے دو ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے نیا مسئلہ چھیڑ دیا ہے۔ اس پر سندھ میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے احتجاجاً استعفا ددے دیا ہے کہ اس اقدام سے عدلیہ کو بے توقیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تینوں ججوں پر بیرون ملک اثاثے چھپانے کا الزام ہے!59 سالہ جسٹس فائز عیسیٰ نے صدر پاکستان سے اپنے خلاف ریفرنس کی کاپی طلب کرلی ہے۔ انہوں نے صدر کے نام ایک خط میں حکومت کے اس اقدام کو کردار کشی قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ اب عدل کے ایوانوں میں ہے۔ اس پر کوئی تبصرہ نہیںکیا جا سکتا۔ یہاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مختصر تعارف دیا جا رہا ہے۔ وہ لندن سے تعلیم یافتہ بیرسٹر ہیں۔ ان کے والد قاضی محمد عیسیٰ بھی بیرسٹر تھے۔ وہ قائداعظم کے بہت قریبی ساتھی اور تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما تھے۔ بلوچستان کے پہلے غیر ملکی بیرسٹر تھے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے 27 سال تک ملک کی تمام ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ میں وکالت کی۔ 1982ء میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جج، پھر چیف جسٹس 5 ستمبر 2014ء میں سپریم کورٹ کے جج بنے۔ جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر کو اعلیٰ عدلیہ کے 60 جج فارغ کئے، قاضی فائز عیسیٰ کے سوا بلوچستان ہائی کورٹ کے تمام ججوں نے پرویز مشرف کا حلف اٹھا لیا۔ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا اقدام مسترد کر دیا تو بلوچستان کے تمام ججوں کو مستعفی ہونا پڑا۔ صرف جسٹس فائز عیسیٰ باقی رہ گئے۔ انہوں نے چیف جسٹس کے طور پر نئے سرے سے ہائی کورٹ تشکیل دی۔ قانونی حلقوںمیں انہیں نہائت صاف گو، سخت گیر، دیانت دار جج کے طور پر جانا جاتا ہے۔
٭ایک خبر: پنجاب کے 36 اضلاع اور حکومت کے 36 ہی ترجمان تھے۔ گویا ہر ضلع کے لئے ایک ترجمان تھا۔ گزشتہ روز دو مزید ترجمان مقرر ہو گئے۔ اب ترجمانوںکی تعداد 38 ہو گئی ہے۔ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ نئے دو ترجمان کیا کریں گے؟ تھڑا سیاست دان علم دین ایسے موقع پربڑے نادر مشورے دیا کرتا ہے۔ اس کا مشورہ ہے کہ ایک ترجمان کو چیچو کی ملیاں، دوسرے کو چیچا وطنی کی ترجمانی دی جا سکتی ہے۔ 
٭تاریخ کا ایک ورق:30 سال پہلے 29 مئی1988ء جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی وفاقی حکومت اوراسمبلیاں توڑ دیں۔ اگلے روز 30 مئی کو میاںمحمد نوازشریف نے پنجاب کے عبوری وزیراعلیٰ کا حلف اٹھا لیا۔ محمد خاں جونیجو پاکستان مسلم لیگ کے صدر بھی تھے۔ انہوں نے اسلام آباد میں مسلم لیگ کا کنونشن بلایا۔ تقریباً 200 افراد آئے۔ نوازشریف نے 27 ارکان کے ساتھ کنونشن میں جونیجو کے خلاف بغاوت کر دی اور کنونشن سے واک آئوٹ کر دیا۔ اگلے روز ضیاء الحق نے انہیں پنجاب کا قائم مقام وزیراعلیٰ بنا دیا۔ چند روز میں جونیجو والی مسلم لیگ کے تقریباً سارے ارکان بھاگ کر نوازشریف کی لیگ میں آ گئے۔ محمد خاں جونیجو کو کینسر ہو گیا۔ امریکہ میں وفات پا گئے۔ اب مسلم لیگ کے ٹکڑے شروع ہوئے، ق لیگ، چٹھہ لیگ، وٹو لیگ، ن لیگ، فنکشنل لیگ، ضیا لیگ، ملک قاسم لیگ، سیف اللہ بیگ، کلہوڑو لیگ، عوامی مسلم لیگ، آل پاکستان لیگ وغیرہ!! یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ ن لیگ اس وقت پیشیاں بھگت رہی ہے، باقی لیگیں آرام کر رہی ہیں۔

تازہ ترین خبریں