08:21 am
 الوداع  ۔۔۔جمعۃ الوداع

 الوداع  ۔۔۔جمعۃ الوداع

08:21 am

جمعہ ج اور م کے پیش سے جمع سے بنا، بمعنی مجتمع ہونا اکٹھا ہونا، چونکہ اس دن میں تمام مخلوقات وجود میں مجتمع ہوئی کہ تکمیل خلق اسی دن ہوئی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی ا س دن ہی جمع ہوئی نیز اس دن میں لوگ نماز جمعہ جمع ہو کر ادا کرتے ہیں، ان وجوہ سے اسے جمعہ کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے اہل عرب اسے عروبہ کہتے تھے چنانچہ ان کے ہاں ہفتہ کے دنوں کے نام حسب ذیل تھے ۔ اول، اہون، جبار، دبار، مونس عروبہ شیاء ۔( اشعہ) جمعہ کی ایک نیکی 70 نیکیوںکے برابر ہوتی ہے اسی لیے جمعہ کا حج’’ حج اکبر‘‘ کہلاتا ہے اور اس کا ثواب 70 حج کے برابر۔بخاری ومسلم کی حدیث پاک ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا’’ہم دنیا میں پیچھے ہیں قیامت کے دن آگے ہوں گے ،بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد۔ پھر یہ یعنی جمعہ کا ان کا دن بھی تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ اس میں اختلاف کر بیٹھے۔ ہمیں اﷲ نے اس کی ہدایت دے دی۔اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں یہودی کل ہیں عیسائی پرسوں۔ (صحیح بخاری ،کتاب الجمعۃ،باب فرض الجمعۃ، جلد 2، صفحہ2،دار طوق النجاۃ) مسلم شریف کی حدیث پاک حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا’’بہترین ہے وہ دن، جس میں سورج نکلے، وہ جمعہ کا دن ہے ،اسی میں حضرت آدم پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں گئے، اسی دن وہاں سے بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی ہوگی۔(صحیح مسلم ،کتاب الجمعۃ،باب فضل یوم الجمعۃ،جلد2،صفحہ 585،دار إحیاء التراث العربی ،بیروت) ابودائود،ترمذی وغیرہ کی دوسری روایت میں ہے کہ اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں وفات پائی اسی میں قیامت قائم ہوگی ۔ ایسا کوئی جانور نہیں جو جمعہ کے دن صبح سے آفتاب نکلنے تک قیامت کا ڈرتے ہوئے منتظر نہ ہو ۔جن و انس کے سوا۔
 
 ترمذی شریف کی حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے ہی مروی ہے رسولؐ اللہ نے جمعہ کے متعلق فرمایا’’ جمعہ سے بہتر کسی دن پر آفتاب طلوع نہیں ہوا ۔اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مومن دعا ئے خیر کرتے ہوئے نہیں پاتا مگر اﷲ اسے قبول کرتا ہے اور کسی چیز سے پناہ نہیں مانگتا مگر اﷲ اسے پناہ دیتا ہے۔ (جامع ترمذی،ابواب تفسیر القرآن،باب ومن سورۃ البروج، جلد5، صفحہ 436، مصطفی البابی الحلبی،مصر) ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس ایک یہودی آیا اوروہ بولا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید بنالیتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کے جواب میں فرمایا’’یہ آیت دو عیدوں کے دن میں اتری یعنی جمعہ اور عرفہ کے دن۔ (جامع ترمذی،ابواب تفسیر القرآن،باب ومن سورۃ المائدہ 3:0،جلد5،صفحہ250،مصطفی البابی الحلبی،مصر) بعض شافعیہ سے مروی ہے کہ سب سے افضل رات وہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیداہوئے ،پھر اس کے بعدلیلۃ القدر ہے، پھر معراج کی رات افضل ہے ،پھر عرفہ کی رات،پھر جمعہ کی رات،پھر پندرہویں شعبان کی رات اور پھر عید کی رات افضل ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الحج، جلد2، صفحہ511، دارالفکر،بیروت) حضرت ابودرداءؓسے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’جو جمعہ پڑھے اس کیلئے ایک مقبول حج کا ثواب ہے اور جو عصر پڑھے اس کیلئے عمرے کا ثواب ہے۔اس میں ایک گھڑی ہے کہ جس میں رب تعالیٰ سے سوال کیا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔‘‘(کنز العمال،الاکمال،فی فضائلہا والترغیب فیہا)،جلد7،صفحہ1233،مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت)۔
  ابودائود نسائی، ابن ماجہ، دارمی بہیقی کی حدیث حضرت اوس ابن اوسؓ سے مروی ہے۔ رسولؐ اﷲ نے فرمایاکہ’’ تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم علیہ پیدا ہوئے اور اسی میں وفات پا گئے اور اسی میں صور پھونکنا ہے اور اسی میں بے ہوشی ہے لہٰذا اس دن میں مجھ پر درود زیادہ پڑھو کیونکہ تمہارے درود مجھ پر پیش ہوتے ہیں‘‘ لوگ بولے یارسولؐ اﷲہمارے درود کیسے پیش ہونگے آپ تو رمیم ہوچکے ہوں گے ۔( یعنی گلی ہڈی) فرمایا ’’ اﷲ نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کردیئے ۔‘‘(سنن ابی دائود،باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، جلد1، صفحہ 275، المکتبۃ العصریۃ،بیروت) ابن جریح نے عطا سے مرفوعاً روایت کیا کہ حضورؐ فرماتے ہیں’’ جو مسلمان جمعہ کے دن یا رات میں وفات پائے وہ عذاب قبر اور فتنہ قبر سے محفوظ رہیگا۔ رب تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اس کے ذمہ کوئی حساب نہ ہوگا اور قیامت میں ایسے آئیگا کہ اس کے ساتھ گواہ ہونگے اور اسکے چہرے پر نورانی مہر ہوگی‘‘ (مرقاۃ ولمعات واشعتہ) 

تازہ ترین خبریں