08:23 am
رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

08:23 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 تنظیم اسلامی نے سود کے حوالے سے تحریک چلائی تھی جس میں ہم نے قائداعظم کی اس Statemnet کو عام کیا تھا جو یکم جولائی 1948ء کو سٹیٹ بینک آف پاکستان پشاور برانچ کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر قائداعظم کی تقریر کا حصہ تھی:’’مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لاینحل مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔‘‘
 اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشی نظام یہ نہیں ہے کہ محض نصابی کتب (اسلامیات) میں لکھ دیا جائے کہ سود حرام ہے اور عملاً سارا معاشی نظام سود کی بنیاد پر ہو۔ نہیں۔ بلکہ قائداعظم کے نزدیک پاکستان کا معاشی ، سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی تعلیمات کے مطابق قائم کرنا مقصد تھا۔ورنہ انگریز کے دور میں بھی نماز پڑھنے کی پابندی نہیں تھی ۔
 اس وقت بھی مسجدوں میں اذانیں ہوتی تھیں اور آج بھی انڈیا میں اذانیں ہوتی ہیں اور ذاتی طور پر کوئی نیک بننا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا ۔لیکن اصل مسئلہ تواجتماعی نظام یعنی ریاستی نظام کا تھا اور قائداعظم کا فرمان بالکل واضح تھا کہ پاکستان کا نظام خلافت راشدہ کی عملی تعبیر ہوگا ۔ جب ہندو ستان ایک وحدت تھا تو مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندو عددی اعتبار سے غالب تھے ۔اب پاکستان کو الگ خطہ مل گیا اور یہاں 96فیصد مسلمان ہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ سو فیصد مسلمانوں کا ملک ہے۔ اب کیا رکاوٹ ہے ؟ اب تو مسلمان اپنا آئیڈیل نظام قائم کریں اور یہی ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ لیکن آج ہماری ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ جیسے نصف النہار پر سورج ہو اور ہم کہیں کہ ہم نہیں مانتے کہ سورج نکلاہوا ہے۔ ہمارے دانشور ڈھٹائی سے انکار کر رہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہی نہیں ہے اور نہ اس کااسلام سے کوئی تعلق ہے ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آج پاکستان مسائلستان کیوں بنا ہوا ہے ۔ ہر طرح کی قدرتی دولت ، علاقائی ٹریوین ، ہر طرح کے موسم ، ہر طرح کی فصلیں ، پھل اور سبزیاں اور ہر وہ نعمت جو ساری کی ساری شاید کسی ایک ملک کو بھی میسر نہیں اللہ نے ہمیں دی ہوئی ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہر طرح کے بحران سے ہم دوچار ہیں ،جمہوریت جمہوریت کرتے کرتے جمہوریت کے پرخچے اُڑا دئیے گئے۔ پھر دہشت گردی کا کہیں بھی دنیا میں کوئی معاملہ ہو تو الزام پاکستان پرآتا ہے۔ ذلت و خواری پاکستان کے حصے میں ہے ، پوری طرح محکوم ہم ہیں ، سیاسی اعتبار سے امریکہ کے غلام ، معاشی اعتبار سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام۔ اسی قوم نے مل کر پاکستان بنایا تھا اور ناممکن کو ممکن کر دیا تھا اور آج یہی قوم مختلف بنیادوں پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہے اور اللہ کی طرف سے بھوک اور خوف کا عذاب اس قوم پر مسلط ہے۔ دنیا ہمیں Failed Nation لکھتی ہے جبکہ اللہ کا وعدہ تھا کہ ’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘ 
 اللہ کی زمین پر کسی مومن کو موقع ملے اور وہ وہاں دین قائم نہ کرے اور شیطانی نظام کو برقرار رکھے تو وہ کیسا مومن ہے؟وہ تو اسلام کے نام پر دھبہ ہے ۔ہجری تقویم کے مطابق اس 27ویں رمضان کو پاکستان کو بنے 73سال پورے ہو گئے ۔ آج بھی اس ملک میں وہی نظام چل رہا ہے جو انگریز نے بنایا تھااور جو قدم قدم پر اسلام کے خلاف ہے۔لہٰذا یہ جتنے عذاب ہم پر مسلط ہیں ان سے نجات ناممکن ہے جب تک کہ ہم سچے مسلمان نہ بنیں اور جس وعدے پر اللہ سے یہ ملک حاصل کیا تھا، اس وعدے کو پورا نہ کریں ۔یہ طے شدہ بات ہے ۔ ہم اللہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ بھول گئے لیکن یہ مت بھولیں کہ اللہ اپنی سنت کو کبھی نہیں بھولتا ۔ بحیثیت مسلمان ہم پر اللہ کے فیصلے لاگو ہیں ۔ پاکستان کے قیام کا فیصلہ رمضان کی 27ویں شب کو ہوا اور یہ چیز بھی indicateکر رہی ہے کہ اللہ کے نزدیک پاکستان کا قرآن اور اسلام کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ چنانچہ اس کا مستقبل وابستہ ہی اسلام سے ہے۔ اگر اس ملک میں اللہ کا دین قائم ہو جائے تو پھر یہ ملک پوری دنیا کے لیے روشنی کا مینار بن سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور ہمارے راہنماؤں کو بھی اس رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین 

تازہ ترین خبریں