08:25 am
وادی گماں میں بسنے والو!

وادی گماں میں بسنے والو!

08:25 am

وادی گماں میں بسنے والو!اس گماں میں،اس دھوکے میں،فریب میں مت رہناکہ تم ہروقت باوضورہتے ہو،اچھے کپڑے پہنتے ہو،نمازیں اداکرتے ہو،نفلی روزوں کابھی اہتمام کرتے ہوتورب کواس سے کچھ ملتاہوگا،اسے بندگی کرانے کی کوئی خواہش ہے،رب کی عزت میں کوئی اضافہ ہوتاہوگااوراگر تم بغاوت کرتے ہوئے،فرائض نہیں اداکرتے تواسے کوئی نقصان ہوتا ہو گا وہ رنجیدہ ہوتاہوگا،ایسا قطعی نہیں ہے۔ ساری کائنات اس کے سامنے سجدہ ریزہوجائے تواس کی بڑائی بیان نہیں ہوسکتی اورساری کائنات باغی ہوجائے تواسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس حکم کی تعمیل کرتے چلے جا ئوشکرکے ساتھ عاجزی کے ساتھ ،اپنی تمام تربے بسی کے ساتھ ، توبس تمہاراہی فائدہ ہے۔ فلاح پاؤگے،مانتے چلے جا ؤ گے توامن پائوگے،سکون وراحت پاؤگے۔ بغاوت کرو گے توزندگی جہنم بن جائے گی،سکون وقرارکھو بیٹھو گے، اعتبارجاتارہے گا، نفسانفسی مچے گی،کوئی کسی کی نہیں سنے گا،بس پھنس کے رہ جائوگے اس تارِ نفس میں اوردھوکے میں فریب میں۔
 
بس ایک ہی راہ ہے‘تسلیم کرواس کی حاکمیت، رضاپرراضی رہو،اس کے گن گاؤ۔اسی کی مدحت ہے، وہی ہے سزاوارِحمدوثنا،نام اس کاہی بلندرہے گا۔سب چلے جانے کیلئے ہیں، چلے جائیں گے۔کوئی نہیں رہا یہاں  پر،کوئی نہیں رہے گا،رہ ہی نہیں سکتا۔ بہت ہی اتھلا ہے بندہ بشر،بہت ہی تھڑدلا بہت مکاروعیاربہت ہی شکوہ کرنے والا شکایت کرنے والا‘تھوڑی سی راحت پر پھول کرکپاہوجاتاہے اوررب کوبھول جاتاہے اورا گر تھوڑی سی تکلیف پہنچ جائے توبس ڈھنڈورچی بن جاتا ہے۔ سب کوبتانے لگتاہے دیکھومیرے سرمیں دردہے دیکھو مجھے بخارہوگیا دیکھومیں تکلیف میں ہوں،یہ ہوگیا وہ ہوگیا، غضب ہوگیا۔بس میں ہی نظرآتا ہوں رب کو۔
حضرت رابعہ بصری یاد آگئیں کہیں سے گزر رہی تھیں کہ ایک شخص کودیکھاجس نے سرپررومال باندھا ہو اتھا۔ تب اس سے پوچھا‘یہ تم نے سرپررومال کیوں باندھا ہواہے؟وہ بہت عاجزی سے بولا‘ دیکھئے میرے سرمیں دردہے اس لیے۔ تب رابعہ بصری بولیں‘ کیاتم نے کبھی شکرکارومال باندھاہے؟وہ شخص حیران ہوا اور وضاحت چاہی تورابعہ بصری نے فرمایا‘ اتنی راحتیں رب نے دیں تب توتم نے رومال نہیں باندھاکہ جس پر لکھا ہوتا‘ مجھے رب نے راحت دی ہے اس لیے یہ رومال باندھا ہواہے یہ شکرکارومال ہے اورسرمیں تھوڑاسا درد کیاہوگیاکہ شکایت کارومال باندھے گھومتے ہو۔کبھی غورکیاہے ہم نے اِس پر؟ہم سب شکرکے رومال سے محروم ہیں اورشکایت کاپرچم بلندکیے ہوئے ہیں۔ بہت ناشکرے ہیں ہم بہت تھڑدلے بہت بے عقل‘بصیرت نہ بصارت۔ بہت بغاوت کرلی ہم نے نتائج بھی دیکھ رہے ہیں۔ پلٹ کیوں نہیں آتے اپنے رب کی طرف۔
ہاں یہ مجھے میرے ایک بابانے بتایاتھابہت پیارسے کہ اللہ جی اس بندے سے بہت خوش ہوتاہے جوپلٹ آئے،سہماسہماساشرم آرہی ہواسے،اس بات کاملال ہوکہ اتنے عرصے رب کاباغی رہا۔ جب وہ شرمندہ شرمندہ سااپنے رب کے سامنے کھڑاہوتاہے تب رب کی رحمت جوش میں آتی ہے اوروہ اسے اپنی رحمت میں لپیٹ لیتاہے۔ پلٹ آیئے۔یہ سب کچھ رب نے دیاہے۔شکرادا کیجیے اورشکریہ نہیں ہے کہ صرف نمازیں پڑھیں،تلاوت کریں،روزے رکھیں۔یہ تورب کا حکم ہے اسے تواداکرناہی ہے،یہ آپ کااوررب کامعاملہ ہے۔شکریہ بھی ہے کہ آپ بے کسوں کی خبرگیری کریں۔ وہ جوآپ کے محلے میں سفید پوش ہیں ان سے جاکر ملیں ان کے مسائل معلوم کریں اورپھراس طرح کہ ان کی عزت ِنفس ذراسی بھی متاثرنہ ہوان کی مددکریں ان کاشکریہ ادا کریں۔
 وہ بیٹی جوجہیزنہ ہونے کی وجہ سے اپنے بالوں میں چاندی لیے بیٹھی ہے اس کادردمعلوم کریں۔وہ جو بستر پرپڑاایڑیاں رگڑرہاہے اسے راحت وآرام کی چند گھڑیاں دیں۔وہ طالب علم جوچندروپوں کیلئے اپنی تعلیم چھوڑنے کاسوچ رہاہے اس کاہاتھ تھامیں اوران کی خبرگیری کریں جن کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں، یہ جومال ودولت آپ کورب نے دیا ہے اسے اس کی مخلوق کیلئے خرچ کرناسیکھئے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ اس خرچ کرنے کی راحت کوکبھی نہیں بھول پائیں گے۔وہ لمحے جوآپ نے کسی کے کام میں خرچ کیے وہ سرمایہ ہیں زندگی کا‘وہ آنسوجوآپ کی آنکھوں سے کسی اورکیلئے برساوہ انمول ہے اوروہی رب کومطلوب ہے۔دیکھئے پھرکہہ رہاہوں عبادت سے جنت اور خدمت  سے خداملتاہے،انتخاب توآپ کاہے ناں۔ 
ہم سب بلاسوچے سمجھے بولتے رہتے ہیںہمارے شر سے انسان محفوظ نہیں ہیں توجانورکیامحفوظ ہوں گے۔وہ جانورجو بول نہیں سکتے احتجاج نہیں کرسکتے مظاہرہ نہیں کرسکتے،اخباری بیان جاری نہیں کر سکتے، عدالتوں کادروازہ نہیں کھٹکھٹاسکتے۔ہم ہیں کہ جنگلوں کے باسیوں پرالزام پرالزام دھرتے چلے جاتے ہیں۔کبھی سناہے شیرنے کرپشن کی ہو،کسی گدھے کے سوئس اکائونٹ ہوں یاکسی جانورنے کسی دوسرے کوبیچ کھایا ہو ، ذخیرہ اندوزی یامنافع خوری کی ہو!کیاکسی شیرنے اپنے اقتدارکوطول دینے کیلئے اپنے بچوں کوبیچ کھایاہو اور بعدمیں بڑے فخرسے کہے کہ اس نے اپنے ہی جنگل کے اتنے جانوروں کوکسی شکاری کے ہاتھوں فروخت کرکے اتنامال بنایا۔بے بس اورکمزورمرغی بھی اپنے چوزوں کوبچانے کیلئے مقابلے پراترآتی ہے،کہیں کچھ کھانے کونظرآجائے توکوا ہانک لگاکرسب ساتھیوں کوبلا لیتا ہے۔ کبھی آپ نے سناہے کہ جانوروں نے یہ کرتوت کئے ہیں؟وہ بے زبان جانورہیں توہم ان پربہتان طرازی کرتے رہتے ہیں۔مجھے یقین ہوچلا ہے کہ اب ان کاپیمانہ صبربھی لبریزہوگیاہے،کسی دن وہ ہمیں گھیرلیں گے اورجواب طلب کریں گے کہ بتاہم بے زبان تھے ہمیں یہ سب کچھ کیوں کہاگیا؟ 
جب دیکھو یارلوگ کہتے رہتے ہیں:شہروں میں جنگل کاقانون رائج ہے۔امریکہ نے ساری دنیامیں جنگل کا قانون رائج کررکھاہے۔عراق اورافغانستان میں لاکھوں انسانوں کو گاجرمولی کی طرح کاٹ کررکھ دیا۔صدیوں کی تاریخ کے امین یہ ممالک کھنڈربنادیئے گئے،کوئی کہنے والانہیں ہے کہ اس کی وضاحت توکروکہ ایساکیوں کررہے ہو؟کبھی جنگل دیکھا ہے؟وہاں کے باسی دیکھے ہیں؟کیاآپ کسی جنگل میں رہے ہیں؟ پھر آپ یہ کس طرح کہہ دیتے ہیں:جنگل کا قانون۔ جناب آپ کچھ نہیں جانتے۔ جنگل میں قانونِ فطرت رائج ہوتاہے۔وہ بے زبان ہم جیسے شاطروچالاک عیارومکارنہیں ہوتے۔جوہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں۔وہ ہماری طرح منافق اور دوغلے نہیں ہوتے ہم جیسے کرتوت نہیں ہوتے ان کے۔پنے کرتوتوں کوبے زبانوں کے سر مت ڈالیے۔وہ معصوم ہیں انہیں کیوں گالی دے رہے ہیں آپ!

تازہ ترین خبریں