08:28 am
اعلیٰ فوجی و سول افسروں کو سزائیں

اعلیٰ فوجی و سول افسروں کو سزائیں

08:28 am

٭ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غداری کے مجرموں کو موت کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید بامشقت، سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان اور فوج کے ملازم سول افسرڈاکٹر وسیم اختر کو سزائے موت کا حکم! جنرل فیلڈ مارشل کورٹ مارشل نے پاکستان اور بیرون ملک پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ رابطوں اورانہیں اہم معلومات فراہم کرنے پر سزا سنائی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل جاوید قمر باجوہ نے توثیق کر دی ہے۔ ان افراد کو فروری میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس سے پہلے بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل منصور علی کو فرانسیسی آبدوزوں کے سکینڈل میں گرفتار کیا گیا اور قید کی سزا سنائی گئی۔ فضائیہ کے ایک وائس ایئر مارشل شاہد نے طیاروں اور اسلحہ کی خریداری میں کروڑوں ڈالر کا کمیشن لیا اور امریکہ کی شہریت حاصل کر کے وہاں اعلیٰ قسم کے فلیٹ تعمیرکئے۔ وہ واپس نہیں آیا۔ فوج کے فنڈز کے چار ارب 30 کروڑ روپے کے ناجائز استعمال پر دو سابق جرنیلوں، لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور میجرجنرل خالد زاہد اختر کو طویل قید کی سزائیں ملیں۔ انہیں ہر قسم کی فوجی مراعات اور پنشن وغیرہ سے محروم کر دیا گیا۔ سابق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کو بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ کے ساتھ مشترکہ کتاب لکھنے پر کورٹ مارشل کا سامنا کرناپڑا۔ موجودہ سزا یافتہ جنرل جاوید اقبال گوجرانوالہ کا کور کمانڈر اور دوسرے بہت اہم عہدوں پر فائز رہ چکا ہے۔ سزا یافتہ افراد پر بہت سنگین الزام یہ ہے کہ وہ دشمن عناصر کوملکی سلامتی کے منافی معلومات کی فراہمی کے عوض بھاری رقوم حاصل کر کے منی لانڈرنگ بھی کرتے رہے۔ مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ان سزائوں کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج میں کسی بھی جرم پر معافی یا رعائت کا کوئی تصور موجود نہیں!
قارئین کرام! میں نے پہلے لکھا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف کسی جرم پر سزائے موت کی یہ پہلی سزا ہے۔ یہاں تو عجیب واقعات ہوتے رہے ہیں۔ جن افراد کے خلاف غداری کے مقدمات چلے، انہیں بعد میں وزارتیں اور اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔ راولپنڈی سازش کیس میں فیض احمد فیض، ارباب نیاز محمد، میجر جنرل اکبر خاں وغیرہ بہت سے افراد ملوث تھے۔ انہیں ملک سے غداری کے الزام میں قید کی مختلف سزائیں سنائی گئیں۔ دوسروں کی طرح فیض احمد فیض نے بھی چار سال قید کاٹی۔ بعد میں بھٹو کی حکومت میں فیض احمد فیض وزیر کے درجے کے ساتھ نیشنل کونسل آف آرٹس کے چیئرمین بنے۔ ارباب نیاز محمد کو جنرل ضیاء الحق نے وزیر ثقافت بنا لیا۔ میجر جنرل اکبر خان کو نوازشریف نے پنجاب حکومت کا مشیر سلامتی امور مقرر کر دیا۔ اسی طرح بھٹو کے دور میںحیدرآباد سازش کیس سے پہلے ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کو غدار قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی گئی اور ولی خان، غوث محمد بزنجو وغیرہ کو حیدرآباد جیل میں بند کر کے حیدرآباد سازش کیس شروع کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا آیا تو یہ سارے لوگ رہا ہو کر معز ز قرار پائے۔ نیشنل عوامی پارٹی کا نام تبدیل کر کے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رکھ دیا گیا اور اس کے عہدیدار ضیاء الحق کی حکمرانی میں معاون بن گئے۔! ایسے بہت سے تماشے اور بھی ہیں۔
٭قارئین کرام! میں ملک و قوم و آئین سے غداری کے چار مختلف واضح جرائم اور مجرموں کی نشاندہی کرتا رہا ہوں۔ آج پھر دہرا رہا ہوں کہ جن چار فوجی جرنیلوں نے بار بار ملک کا آئین توڑا، جمہوریت ختم کی، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو گرفتار کیا، عدالتیں ختم کیں، ان کے خلاف آج تک غداری کے جرم میںکوئی مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟الٹا ان لوگوں کو قومی ہیرو قرار دیا گیا، مرنے والوںکو فوجی اعزازات کے ساتھ دفنایا گیا، ان کی اولادوں کو اہم عہدے دیئے گئے، ایک زندہ سابق جرنیل کو ملک سے فرار ہونے کا موقع دیا گیا۔ بار بار پاکستان کے آئین کی دفعہ 6 کا حوالہ دے چکا ہوں۔ اس دفعہ میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ ملک کے آئین کی توڑ پھوڑ اِسے منسوخ کرنے، اس میں غیرآئینی تبدیلی اور اس کی شکل بگاڑنے والا غداری کے جرم کا مرتکب قرار پائے گا۔ سپریم کورٹ اس جرم کی سزا موت قرار دے چکی ہے۔ اسے صرف عمرقید میں تبدیل کیا جا سکتاہے۔ کیا آج تک آئین کی توڑ پھوڑ کرنے والے کسی مجرم کو کوئی سزا دی گئی؟ سزا تو کیا کسی کے خلاف غداری کا مقدمہ ہی نہیں چلایا گیا۔ ایک بہت اہم بات یہ کہ 12 اکتوبر 1999ء کو اس وقت کے منتخب وزیراعظم (نوازشریف) نے اپنے آئینی اختیارات کے تحت جنرل پرویز مشرف کو چیف آف سٹاف کے عہدے سے معطل کیا تھا۔ یہ نامناسب اقدام ہی سہی مگر وزیراعظم کو یہ مکمل اختیار آئین نے دیا ہوا تھا۔ اس حکم کے تحت جنرل مشرف آئینی طور پر معزول اور برطرف ہو چکا تھا۔ اس نے کس اختیار کے تحت خود کو چیف آف سٹاف کے عہدے پر برقرار رکھا؟ یہ آئین کے ساتھ صریح غداری تھی۔ تاریخ ان باتوں کا کب جواب دے گی!
٭بات لمبی ہو گئی۔چند مختصر باتیں: کشمیر کمیٹی متحرک ہو گئی۔ مظفر آباد میں کمیٹی کے چیئرمین سعید فخر امام کی زیر صدارت اجلاس، وزیراعظم فاروق حیدر، دوسرے کشمیری رہنمائوں کی شرکت، اجلاس کی کارروائی خبروں میں پڑھ لیجئے۔ غنیمت کہ مولانا فضل الرحمان والی کمیٹی کی دس بارہ برسوں کی گہری نیند (50 کروڑ کے فنڈز؟) کے بعد بالآخر یہ کمیٹی جاگ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن والی کمیٹی دس برسوںمیں مظفر آباد نہ جا سکی۔ جب کہ اُن سے پہلے کمیٹی کے 75 سال سے زیادہ کی عمر والے بزرگ چیئرمین نوابزادہ نصراللہ خان مختلف ملکوںکے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تک پہنچ گئے تھے۔
٭بھارت کی سابق وزیرخارجہ سُشما سوراج کو نریندر مودی کی نئی حکومت میں نہیں لیا گیا۔ ایک بات تو یہ کہ وہ وزیرخارجہ کے طور پر دنیا والوں کو نریندرمودی سے زیادہ نمایاں اور اہم دکھائی دے رہی تھی! اس پر ستم یہ کہ چند روز پہلے کرغزستان کی کانفرنس میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی پر واری صدقے ہونے کے انداز میں مٹھائی کھلا دی۔ اجلاس میں ان کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی اور مٹھائی کھلاتے وقت لوک کہانیوں والا کیا ستم خیز ڈائیلاگ بول دیا کہ ’’میٹھا میٹھا بولا کرو نا!‘‘ ظاہر ہے اس لوک کہانی کا انجام بھی وہی ہونا چاہئے تھا جو دوسری لوک کہانیوں کا ہوتا رہاہے۔ کرغزستان سے واپسی سے پہلے ہی دہلی سے چھٹی کا اشارہ مل چکا تھا۔ بہت سے فلمی بول یاد آ رہے ہیں! چلئے، ایک ’لوک کہانی‘ اور سہی!
٭ایک عرصے کے بعد ن لیگ کے طلال چودھری نے پھر کروٹ لی ہے۔ کہا ہے کہ ’’چیئرمین کا لٹھا‘‘ بہت مشہور تھا اب چیئرمین (نیب) کا ویڈیو مشہور ہو رہا ہے! ماضی میں چابی والا سفید لٹھا اور دوگھوڑے کی بوسکی بہت مشہور تھی، اسے رئیس لوگ پہنا کرتے تھے۔ پتہ نہیں یہ دونوں کہاں گئے؟ ایک عرصہ ہواخواتین کے مختلف کپڑوں کے نام چل پڑے۔ ’’تیری میری مرضی، آنکھ کا نشہ، دل کی پیاس‘‘ وغیرہ! پتہ نہیں آج کل کیا نام چل رہے ہیں؟
٭ایک سوال زیر بحث ہے کہ کیا ججوںکا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ عدلیہ کو تمام اداروں سے زیادہ احترام اور تقدیس حاصل ہوتی ہے اِس کے بارے میں عام طور پر کسی تنقید سے گریزکیا جاتا ہے مگر بعض نمایاں باتیں ایسی سامنے آ جاتی ہی ںکہ زبانیں بند نہیں رہتیں۔اسمبلیاں توڑے جانے کے حق میں چیف جسٹس محمد منیر کے فیصلے، بھٹو کیس میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کا بھٹو کے خلاف کھلا معاندانہ رویہ، پھر سپریم کورٹ کاپہلے سے طے شدہ فیصلہ!! پچھلے 38 برسوں میں کبھی کسی کیس میں ان عدالتوںکے ان فیصلوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ بھٹو کا قتل ہر دور میںعدالتی قتل قرار دیا گیا۔ مگر یہ بھی ہے کہ ان ججوں کے رویوں کا آج تک کوئی احتساب نہیں کیا گیا! اب جب کہ فوج کے سابق صدر، وزرائے اعظم اور اعلیٰ جرنیلوں کے محاسبے ہو رہے ہیں، تو جج بھی اس معاشرے کے رکن ہیں! عدل و انصاف میںکوئی تفریق نہیں!محض تفریح اور نمائش کے لئے نشانہ بنانا ناقابل قبول بات ہے۔

تازہ ترین خبریں