10:21 am
فیصلے کہاںکے عملدرآمد کہاں پر ؟

فیصلے کہاںکے عملدرآمد کہاں پر ؟

10:21 am

 معلوم نہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی میں کہاں سے سیاسی کایا پلٹ آئی تھی کہ اس نے حکومت کے رخصت ہونے سے چند ماہ پہلے گوادر پورٹ کو سنگاپور سے واپس لے کر چین کے حوالے کرنے کا چونکا دینے والا اور دلیرانہ فیصلہ کر دیا تھا۔ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اس امر کا مکمل ادراک تھا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی ایک عالمی سازش روبہ عمل ہے۔ امریکہ اس سازش کا پس پردہ کردار ہے جبکہ بلوچستان میں بم دھماکوں، تخریبی کارروائیوں اور بلوچ سرداروں سے رابطوں کی ذمہ داری بھارت کے ذمہ ہے اور بھارت پاکستان دشمنی میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ امریکہ نے جب سے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف کابل حکومت کو سبوتاژ کر کے حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کو افغانستان کا حکمران بنایا ہے۔ بھارت اس وقت سے افغانستان میں موجود ہے اور پاکستان کے خلاف بھارتی دشمنی کے ہر وار کو آزما رہا ہے۔
 
  پاکستان پر آج تک جتنے خودکش حملے ہوئے اس میں جتنے ڈالر صرف ہوئے اس رقم کا انتظام بھارت کرتا رہا ہے اور یہ بات بھی وقت آنے پر کھل جائے گی کہ پاکستان کوعسکری اور اقتصادی طور پر تباہ کرنے کی ذمہ داری خود امریکہ بہادر نے بھارت کو سونپ رکھی ہے۔  امریکہ کو روس سے ہمیشہ خطرہ رہا ہے کہ پاکستان کسی وقت بھی روس کی سیاسی و عسکری حمایت سے امریکہ کو خطے سے نکال سکتا ہے اور امریکہ کے لئے بلوچستان کی اہمیت اس لئے دوچند تھی کہ ایک تو بلوچستان معدنیات سے لبریز دھرتی ہے اور دوسرے گوادر ایئرپورٹ پر امریکہ کے قبضے سے وہ سوویت یونین اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ چین کی تجارتی اور اقتصادی تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ زرداری جو مکمل طور پر امریکہ کے زیراثر سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اقتدار میں آکر سب سے زیادہ چین کے دورے کئے تھے۔ امریکہ کو اس کی خبر تھی اور بھارت کو زرداری کے چین کے سرکاری دوروں پر ہمیشہ اعتراض رہا تھا لیکن امریکہ اور بھارت یہ کبھی بھی سوچ نہیں سکتے تھے کہ زرداری کے ہاتھوں پاکستان کے معاشی استحکام کے لئے ایک ایسا کام ہو رہا ہے جس کے مکمل ہونے سے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خواب دیکھنے والوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گوادر ایئرپورٹ کو سنگاپور سے واپس لے کر اسے چین کے سپرد کر دیا گیا۔ اس پر اعلانیہ احتجاج صرف بھارت کی طرف سے سامنے آیا ہے دراصل یہ بھارت کے مذموم عزائم کے خلاف پاکستان کا بھرپور اقدام ہے۔
 امریکہ کے وزیردفاع چیک ہیگل کی 2011ء میں کی گئی تقریر منظرعام پر آ گئی جس میں انہوں نے بھارت پر الزام لگایا  کہ وہ افغان محاذ کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ نئی دہلی کی طرف سے افغانستان کے دہشت گردوں کی مالی امداد سے پاکستان کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور آئے روز کی دہشت گردی کی وارداتوں نے پاکستان کو مالی مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔ پاکستان نے امریکہ کے خلاف عالمی دہشت گردی کی جنگ میں اپنی سالمیت اور بقا دائوپر لگا دی ہے۔
ملک میںدہشت گردی کی صورت  میں جو کچھ ہوا ہے یہ پاکستان میں ایران اور سعودی عرب کی  کشمکش نہیں ہے بلکہ یہ سب گوادر کو چین کے سپرد کرنے کا نتیجہ ہے کہ اس سے چین کو وہ جب خام مال منگواتا ہے تو افریقہ، یورپ اور مشرقی وسطی سے 25ہزار کلومیٹر دور کا سمندری فاصلہ طے کرتا تھا اور گوادر پورٹ سے مذکورہ ممالک کی منڈیوں تک اس کی رسائی آسان تر کر دی ہے۔ سوات میں بھی بھارت اور امریکہ کی یہی گیم تھی کہ وہ گلگت سے گوادر تک کے روٹ کو ڈسٹرب کیاجائے۔ امریکہ کے وزیردفاع نے 2011ء میں بھارت کے حوالے سے جن باتوں کا انکشاف کیا تھا۔ بھارت  اس کی تردید کر رہا ہے لیکن تاجکستان میں بھارتی اڈے کا قیام اس امر کی کھلی گواہی ہے کہ بھارت وسط ایشیائی ریاستوں سے پاکستان کے تعلقات نہیں چاہتاتھا اور بھارت پاکستان کے لئے پسندیدہ ملک بن کر افغانستان پر اپنے اثرورسوخ اور تاجکستان میں اپنے اڈے سے یہ معاشی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا کہ وہ پاکستان کی سرزمین کو پسندیدہ ترین ملک بن کر استعمال کر سکے اور افغانستان کی سرزمین اور تاجکستان میں قائم اپنے اڈے سے فائدہ اٹھا کر وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھارتی تجارت کا حجم بڑھا سکے۔ چین و ایران ایک دوسرے کیساتھ مال کے بدلے مال کا پروگرام بنا چکے ہیں۔ وہ دونوں لین دین کے لئے امریکی ڈالر استعمال نہیں کریں گے اور یہی کام ان ممالک کے ساتھ بھارت کے لئے پاکستان کرے گا۔ یہ بھارت اور امریکہ کی بہت بڑی شکست ہے لہٰذا گوادر چین کے سپرد کرنے سے ایک طرف بھارت کو پاکستان پر بے تحاشا غصہ ہے اور دوسری طرف امریکہ بہادر بلوچستان کوالگ کرنے کے منصوبے میں چین اور روس کی مداخلت پر سیخ پا ہے اور یہ امریکہ کی بہت بڑی ناکامی ہے۔

تازہ ترین خبریں