10:23 am
سرکاری ملازمین کی بجٹ سے وابستہ توقعات

سرکاری ملازمین کی بجٹ سے وابستہ توقعات

10:23 am

جون کے مہینے کے ساتھ کئی نسبتیں وابستہ ہیں۔ جون کا مہینہ اساتذہ اور بچوں کے لئے چھٹیوں کی نوید لاتا ہے۔ جون کے مہینے میں گرمی کی شدت اور حدت  عروج پر ہوتی ہے۔ اسی طرح جون کا  مہینہ قومی سالانہ بجٹ کے ساتھ بھی مخصوص ہے اور ماہ جون مالی سال کا آخری مہینہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین نے بھی اسی مہینے میں اعلان ہونے والے بجٹ کے ساتھ امیدیں وابستہ کر رکھی ہوتی ہیں۔ جہاں جون میں گرمی کی شدت کا خوف ہوتا ہے۔ وہاں تنخواہوں میں اضافے کے خوشگوار احساس بھی گدگدیاں لے رہا ہوتا ہے۔ ہر سرکاری ملازم اسی مہینے کا بے چینی سے انتظار کرتا ہے۔ محدود آمدنی اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ملازم کی آس و امید کا مرکز و محور یہی سالانہ بجٹ ہوتا ہے۔ ویسے تو ہر سرکاری ملازم کا ہر سال دسمبر کے مہینے میں سالانہ انکریمنٹ کے نام سے محدود مالی اضافہ وصول کرتا ہے مگر وہ اتنا قلیل ہوتا ہے کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت اس طبقے کا احساس کرتے ہوئے سالانہ بجٹ میں فیصدی کے حساب سے اضافے کا اعلان کرکے انہیں زندہ رہنے اور گھر کا چولہا جلانے کا حق دیتی ہے۔
 
نوے کی دہائی میں بالخصوص نواز شریف حکومت کے دوران سالانہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں محض ایک سو روپے اضافے کی نوید سنائی جاتی تھی اور بعض اوقات یہ ایک سو روپے بھی گریڈ ایک سے  سولہ تک کے سرکاری ملازمین کے لئے ہوتا تھا جبکہ افسران حکومت کی  دریا دلی اور سخاوت سے محروم رہتے تھے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں سرکاری ملازمین کے ساتھ اچھا برتائو کیا۔ جہاں اس دور میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے وہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی ہر سال خاطر خواہ اضافہ کیا جاتا۔ اس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سرکاری ملازمین کے ساتھ مشرف دور سے بھی بہتر برتائو اور سلوک کیا۔ انہوں نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں ایک سو فیصد سے زائد کا تنخواہوں میں اضافہ کرکے ایسا ریکارڈ قائم کیا کہ سرکاری ملازمین اس دور کو اپنی زندگی میں کبھی بھی فراموش نہیں کر پائیں گے اور ویسے بھی پی پی پی  جب بھی اقتدار میں آئی ہے۔ سرکاری ملازمین کو مالی لحاظ سے خوب نوازا ہے۔
2013ء میں مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہوئی۔ ان کا ٹریک ریکارڈ ملازمین کے تنخواہوں کے حوالے سے درست نہیں ہے ملازمین بھی بلاشبہ خوف زدہ ہے مگر سابقہ دو حکومتوں نے ایسی ریت ڈال دی تھی کہ نواز حکومت کو مجبوراً ملازمین کو دینا پڑا۔ اگرچہ وہ اپنے پانچ سالہ دور میں کبھی بھی دس فیصد اضافے سے نہیں بڑھ سکے مگر اس دور میں دو مرتبہ سکیلوں پر نظرثانی کی گئی جس کی وجہ سے بنیادی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوا اور بالخصوص ریٹائر ہونے والے ملازمین کو فائدہ ہوا اور جاتے جاتے نواز حکومت نے ٹیکس کی مد میں بھی رعایت دی۔
2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت کے ساتھ پوری قوم نے امیدیں لگا رکھی تھیں۔ مگر اس حکومت اقتدار کی مسند پر بیٹھتے ہی معاشی بدحالی کا  رونا رونا شروع کر دیا۔  11جون کو پیش کیا جانے والا سالانہ بجٹ اس حکومت کا پہلا باقاعدہ بجٹ ہوگا۔ اس حکومت کا دسواں مہینہ جاری ہے۔ اس عرصے میں ابھی تک عوام سکھ کا سانس نہیں لے سکی۔ مہنگائی نے ہر شہری کو بدحال کر رکھا ہے۔ قرضے لینے کے باوجود آسودگی اور خوشحالی کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ مہنگائی نے جہاں عام شہریوں کو متاثر کیا ہے۔ وہاں محدود آمدنی کے حامل سرکاری ملازمین بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مگر حکومت کی طرف سے مسلسل معیشت کی بدحالی کا راگ الاپنے کے سبب سرکاری ملازمین مایوس ہوچکے ہیں۔ لیکن کیا موجودہ حکومت بجٹ کے موقع پر کم سے کم دس فیصد اضافے کی روایت کو ختم کر دے گی؟
موجودہ حکومت جہاں معاشی بدحالی کے تذکرے کر رہی ہے وہاں اسے یہ بھی احساس ہے کہ مہنگائی کے سبب ہر شہری بالخصوص سرکاری ملازمین بہت پریشان ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وفاقی حکومت ملازمین کو حالات کے رحم و کرم پے بے آسرار چھوڑ دے گی۔ شنید ہے کہ مہنگائی کے پیش نظر حکومت کے سامنے20فیصد تنخواہوں میں اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے مگر محدود وسائل کے باعث حکومت نے بیس فیصد اضافہ دینے سے معذرت کرلی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ دس فیصد اضافہ دیا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کے لئے ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں دی گئی ٹیکس رعایت ختم کی جارہی ہے اگر ٹیکس چھوٹ کی کم از کم حد چھ لاکھ روپے کی جارہی ہے جوکہ ملازمین کے ساتھ سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔ گویا مہنگائی کے مارے ملازمین کو دس فیصد اضافہ دے کر فوراً ٹیکس کی مد میں واپس لے لیا جائے گا۔
تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ سرکاری ملازمین کے حوالے سے دو مزید خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ وفاقی حکومت ایسے کیڈر سے تعلق رکھنے والے وفاقی حکومت کے افسران کہ جن کے کیرئیر میں کوئی پروموشن نہیں ہوئی یا ایسے کیڈر سے تعلق رکھنے والے افسران کی پروموشن کے کوئی امکانات بھی نہیں۔ ان کے لئے وفاقی حکومت بجٹ میں ٹائم سکیل پروموشن کا اعلان کرنے جارہی ہے۔ اگر حکومت ایسا کرتی ہے تو یہ اس کا انتہائی مستحسن اقدام ہوگا اور اس سے سینکڑوں ملازمین بالخصوص افسران مسفید ہوسکتے ہیں اور ویسے بھی پنجاب حکومت صوبائی ملازمین کے لئے ٹائم سکیل پروموشن کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر وفاقی ملازمین عدالتوں کی طرف رجوع کر رہی ہے  جس سے حکومت بہت تنگ ہے اور وہ اپنی جان چھڑانے کے لئے ٹائم سکیل پروموشن دینے کا اعلان کرنے جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ حکومت اخراجات بچانے کے لئے ریٹائرمنٹ کی عمر 63سال کر رہی ہے۔ اگرچہ ظاہری طور پر  حکومت کو کم سے کم تین سالوں کے لئے سالانہ 60 سے 70  ارب روپے کی بچت ہوگی مگر حکومت ایسا فیصلہ کرکے بے روزگار نوجوانوں پربہت بڑا ظلم کرے گی اور تین سال بعد پنشن کی مد میں دئیے جانے والے اخراجات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ  وہ ریٹائرمنٹ کی حد 60سے کم کرکے 58سال تک کر دے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مہیا کئے جاسکیں۔

تازہ ترین خبریں