10:24 am
بھارتی جمہوریت،غربت کا خاتمہ اور احساس پروگرام

بھارتی جمہوریت،غربت کا خاتمہ اور احساس پروگرام

10:24 am

ارادہ تھا کہ بھارتی جمہوریت کی ناکامیوں پر لکھوں گا اور حالیہ انتخابات کے نتائج کے تناظر میں قارئین کے سامنے یہ بات رکھوں گا کہ جب بدمعاش’ چور اچکے‘ رسہ گیر' قاتل اور بدکار اراکین پارلیمنٹ بن جاتے ہیں تو ان پر مشتمل پارلیمنٹ سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ سوچ اس لئے پیدا ہوئی کہ بھارتی انتخابات میں جیتنے والے 543اراکین میں سے 233یعنی 40فیصد اراکین کیخلاف کریمنل مقدمات درج ہیں۔ ایک رکن جن کا تعلق نام نہاد سیکولر جماعت کانگریس کے ساتھ ہے پر 204 مقدمات قائم ہیں۔ چور اچکوں اور قاتلوں کی یرغمال جمہوریت کا جائزہ لینے کیلئے جب مختلف پہلوں پرتحقیق کی تو ایک حوالے سے بڑی حیرت ہوئی۔ تمام تر خرابیوں کے باوجودجمہوریت کے تسلسل نے بھارتیوںکو غربت کی لکیر سے باہر نکالا ہے۔ 1992 کی معاشی ریفارمز کے بعد سے غربت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اب تک 270ملین بھارتی غربت سے نجات پا چکے ہیں۔ دسمبر 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک منٹ میں 44بھارتی غربت کی زنجیروںکو توڑ کر باہرنکل رہے ہیں چنانچہ 2019 کابھارت دنیا کی سب سے غریب آبادی رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ اب یہ طوق نائیجیریا کے گلے میں ہے جہاں پر ایک منٹ میں 29نائیجیریائی خط افلاس سے نیچے جا رہے ہیں۔ چین ، بھارت میں جس بڑی تعداد میںلوگ خوشحال ہوئے اس نے دنیا کے غربت کے انڈکس کو تبدیل کر دیا ہے 2010-11 میںدنیا کی آدھی آبادی غریب تھی جبکہ ایک ارب آبادی انتہائی غریب شمار تھی ۔
 
 آج 2018-19میں لیکن دنیا کی آدھی آبادی اب متوسط کلاس ہے یا پھر امیر ہے تو اسکی وجہ بھارت اور چین ہیں جہاںبالترتیب 270ملین اور 730ملین افراد کو غربت کی لکیر سے اوپراٹھایا گیا ہے۔ غربت کا خاتمہ مختلف عوامل کے نتیجے میں ممکن ہوتا ہے جن میں آمدن ' اثاثوں اور مواقع کی ازسر نو تقسیم ' غریب پرور معاشی ترقی اور سوشل پروٹیکشن کا اہم کردار دیکھا گیا ہے۔ سوشل پروٹیکشن کی چین اور ہندوستان میں غربت میں خاتمے میں خاصی اہمیت ہے۔ سوشل پروٹیکشن کا مقصد غریب اور کمزور افراد کی استعداد کو بڑھانا ہوتا ہے تاکہ وہ بیروزگاری ' بیماری' معذوری اور بوڑھی عمر جیسی مصیبتوں سے نبرد آزما ہو سکیں۔ وسیع تر سوشل پروٹیکشن ان تمام عوامل بشمول سیاسی ' ثقافتی اور سماجی عوامل کو بھی ایڈریس کرتی ہے جو لوگوں کو غربت میں دھکیلنے کا باعث بنتے ہیں۔ دی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ نے ہر غریب گھرانے کے ایک فرد کو سال میں 100دن ملازمت کی ضمانت مہیا کی۔ مقصد بھارت کی دو تہائی آبادی کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانا تھا۔ ابتدا میں اس پروگرام کی لاگت جی ڈی پی کا 05فیصد تھی جب کہ بعد ازاں 2008 میں جی ڈی پی کا ایک فیصد اس پروگرام پر خرچ ہوا۔ لازمی ملازمت کے اس ایکٹ کیساتھ ساتھ ’’انڈین رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ‘‘بھی متعارف کرایا گیا جس کا مقصد ہربھارتی شہری کو یہ حق دینا تھاکہ وہ حکومت سے جس وقت چاہے مطلوبہ انفارمیشن حاصل کر سکتاہے۔ اس ایکٹ کی خاص بات یہ کہی جاتی ہے کہ اس میں ایک شق ایسی بھی ہے جو حکومت کو پابند کرتی ہے کہ بنا مطالبہ تمام اہم معلومات کو شائع کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ پاکستان میں بہت بعد میں رائیٹ ٹو انفارمیشن کا قانون 2013 کے بعد نافذ ہوا اور اپنی ویب سائٹ کے ذریعے ہر محکمے نے معلومات تک عام شہریوں کی رسائی کو یقینی بنایا۔ جمہوریت اور آمریت میںیہ ایک بنیادی فرق ہے۔ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں خاص طور پر جہاں آمریت کے کالے بادل چھائے رہے وہاں حکومتوںکاوطیرہ یہ رہا ہے کہ وہ معلومات کو اپنے شہریوں سے چھپاتی ہیں۔
بات ہورہی تھی بھارت کے ان اقدامات کی جو اس نے غربت کے خاتمے کے لیے اٹھائے ہیں اور جن کی بدولت 2005 میں پائے جانے والی 56فیصد غربت 2015-16میں 28فیصد کی سطح پر آگئی۔ پاکستان میں بھی اس ضمن میں کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن عمران خان کی موجودہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی پیکیج غربت کے خاتمے کیلئے دیا ہے۔ اگلے مالی سال میں ’’احساس پروگرام‘‘ کے تحت 180ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔احساس پروگرام ایک جامع پروگرام ہے جس میں وسیع تر سوشل پروٹیکشن کویقینی بنانے کیلئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک کے تجربے سے استفادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چنانچہ جہاں اس پروگرا م کے تحت نوجوانوں کوقرض حسنہ دینے کا پلان بنایاگیا ہے وہیں اثاثوں کی منتقلی جیسے منصوبے اور ہیلتھ انشورنس کارڈ جیسے تحفظ منصوبے بھی شروع کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔اثاثوں کی منتقلی کا مطلب ہے کہ کسی کو دکان بنا کر دے دی جائے اورکسی کو بھیڑ بکریاں اور مرغیاں مہیا کی جائیں یا کسی کو سلائی مشین سلائی کڑھائی کے لیے دی جائے تاکہ وہ اس سے اپنی فیملی کی گزر بسر کابندوبست کر سکے۔پسماندہ علاقوں کے نوجوانوںکوقرضِ حسنہ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کوئی کاروبار شروع کر سکیں۔ اس سکیم کے تحت 84ہزارسے زائد نوجوانوںکو قرضے دیئے جائیں گے۔ پاکستان میںتیز ی سے بڑھتے ہوئے ناقص غذائیت کے ایشو کو ایڈریس کرنے کیلئے نیوٹریشن پروگرام انڈر گریجویٹ طالب علموں کیلئے اسکالر شپ پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت مختلف منصوبے احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے کے لیے نئے مالی سال میں جب اپنے اہداف حاصل کر رہے ہوں گے تو وطن عزیز میں ایک مختلف ماحول دیکھنے کو ملے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کا ویژن پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک ایسی فلاحی ریاست بناناہے جہاںغریب اور کمزور افراد کو سہارا دے کر انہیںمعاشرے کا مفیدشہری بنانا ہے۔ خدا کرے کہ وہ اپنے اس نیک مقصد میںکامیاب ہو سکیں۔

تازہ ترین خبریں