10:26 am
آزادی یاغلامی

آزادی یاغلامی

10:26 am

اگرسننے والے مزاج آشناہوں توگفتگوکرنے کامزا آتاہے اوران سب کی سننے کی خواہش بھی مزادیتی ہے لیکن پتہ نہیں ان دنوں طبیعت کیوں بوجھل سی رہتی ہے ۔اردگردسناٹاسا محسوس ہوتاہے اورجذبات کی شائیں شائیں نے کپکپی طاری کررکھی ہے۔اسی لئے گزشتہ چنددنوں سے فون کاگلہ دباکرسب کے ساتھ رابطہ منقطع کئے خاموش بیٹھاہوں۔اچانک کل صبح کسی نے گھرکادروازہ زورزورسے پیٹناشروع کردیا۔دروازہ کھولاتوباباجی نے فون نہ اٹھانے کی شکایت شروع کردی۔ منافقت بھری مسکراہٹ سے آنے کامقصد دریافت کیاتوبولے:’’جنوبی ایشیاء اور جمہوریت‘‘ پرایک مباحثہ کی دعوت دینے آیاہوں‘انکارنہیں چلے گا۔اب وہاں جو کچھ کہا سنا‘آپ بھی پڑھ لیں،اس سے متفق ہوناکیاضروری ہے،معلوم نہیں۔
 
جناب صدرمجلس!موجودافرادکی تقاریرآپ نے سنیں جن میں انہوں نے آزادملک کے آزاد شہریوں کی پرکیف زندگی کے بڑے سہانے مناظردکھائے ہیں۔ ان  تمام حضرات کی تقاریرسے میں محظوظ ہوئے بغیرنہیں رہ سکا۔یقین ہوگیاہے کہ بینائی اس حدتک کمزورہوسکتی ہے‘معلومات کااس قدرفقدان ہوسکتا ہے  یاہم حقائق سے نظریں چراتے ہیں!ہماری خودمیں مصروف زندگیاں ہمیں اجازت نہیں دیتیں کہ ہم عوام کی اس دھندلائی ہوئی تصویرکادوسرارخ بھی دیکھ سکیں جہاں صرف دکھ ہے،دردہے،محرومی ہے،احساسِ غلامی ہے، اپنے تمام اورمکمل وجودکے ساتھ بھی بے دست وپائی ہے، آزاد ملک کے شہری ہونے کے باوجود احساسات تک پہرے میں ہیں،زندگی کی ہرسانس مقروض ہرفکرپہ پہرہ ہرجنش پر چیک ہربات کی نگرانی۔یہ توایک مڈل کلاس اورکچھ سوچنے سمجھنے والے کا حشرہے اوریہ بھی عوام کی زندگی کاایک رخ ہے۔
آپ کواورقابل احترام ساتھیوں کوبہت خوشی ہوگی سن کر،جنوبی ایشیامیں ہرایک آزادہے،دال کھائے، چٹنی کھائے،کھاسکے توکھائے ورنہ آزادہے کہ رات کوبھوکا ہی سوجائے۔ اگراس کامعصوم بچہ بیمارہے اور اس کودواکی ضرورت ہے تووہ بالکل آزاد ہے چاہے اس کوبخارسے سلگ کرمرنے دے، چاہے 10روپے کی میٹھی گولیاں لادے ‘جس طرح چاہے مرنے دے اس پرکوئی پابندی نہیں۔وہ کسی کی ذمہ داری نہیں ہے،اس کی موت کسی کابوجھ نہیں۔اگروہاں کے شہری کو بڑھاپے یاادھیڑعمری نے آلیاہے،اس کوکوئی تکلیف ہے تووہ بالکل آزادہے چاہے اپنی کھولی میں دم توڑے، سڑک کے کنارے کھانس کھانس کرمر جائے یاچلتی ہوئی کسی منی بس سے اترتے ہوئے اس کے پہیوں تلے کچلا جائے اورہاں اگرکوئی مقروض ہے، اولادکابوجھ ہے، ذمہ داریاں ہیں، قرض اتارناہے تووہ بالکل آزاد ہے گردہ بیچ ڈالے،اپنالہوفروخت کردے اپنی ایک آنکھ بیچ دے۔اگر عورت ہے تواپنا جسم بیچ دے،عزت وآبروسر بازار نیلام کردے کیونکہ وہ آزاد وطن کا آزادشہری ہے۔
اگرکوئی نوجوان اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے شہرمیں دن بھرآوارہ گردی کرناچاہے تو کر سکتا ہے  اسے مکمل آزادی ہے۔وہ جب تک او ر جتناچاہے سڑکیں ناپ لے اورجب چاہے جس طرح چاہے خودکشی کرلے۔ریل کی پٹری پرلیٹ جائے گھرمیں پنکھے سے لٹک جائے زہرپی لے‘اس پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ اس کی اپنی زندگی تھی،اپنی موت ہے،وہ آزادہے جس طرح چاہے مرجائے۔ایک اوردلچسپ بات ہیاوریہ پہلو بھی اجاگرکرنا مناسب سمجھتاہوں کہ ہمارے ہاں ہرطرح کی آزادی ہے ہم جس کی بہن بیٹی بیوی کو جب چاہیں اورجہاں سے چاہیں اٹھالیں اوراس کے ساتھ جوچاہے سلوک کریںاورپھرجس طرح چاہیں کہانی ختم کرا دیں۔خواہ ہم اسے کاری کہہ دیں اس کو زندہ دفن کر دیں چاہیں تواس کوختم کرنے سے پہلے کتوں سے نچوابھی سکتے ہیں۔ہمیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ہم آزاد ہیں۔لوگوں کی یہ بات قطعی غلط ہے کہ ہم پرکوئی چیک لگاسکتاہے اورجوہماراسماج ہے ناں اس میں تو مزید آزادی یہ بھی ہے کہ جب جس کا بس چلے وہ دوسری خاتون کوجلادے۔یہ نہیں کرسکتاتوکم ازکم اس پرتیزاب توپھینک سکتاہے ناں۔ہمارا قانون ہماری پولیس بھی بالکل آزادہیں ان کوکوئی کچھ نہیں کہہ سکتا نہ ہاتھ پکڑ سکتاہے نہ پوچھ سکتاہے،وہ جس کو چاہیں مجرم بنادیں اورجس کوچاہیں معصوم۔اسی آزادی کی وجہ سے آج وہ جمہوری ایوان وجود میں آیاہے جس میں صرف مراعات یافتہ لوگ ہی براجمان ہوسکتے ہیں مگریہاں موجود معزز افرادیقینااس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ آزادی اورجمہوریت کے راگ الاپنے والے تمام لوگ کس طرح ایوان تک پہنچتے ہیں۔حالت جب یہ ہوکہ عوام کے نمائندگان کونمائندگی دینے کا فیصلہ بھی کہیں اورسے ہوتاہوتوکیایہ آزادعوام کی نمائندگی ہے؟ 
میں پوچھتاہوں جس ملک میں صابن اور ڈٹر جنٹ  سے لیکرتمام کی تمام اشیاء صرف غیرملکی کمپنیاں بناتی ہوں اورملک میں روٹی سے لیکرپٹرول اورتیل وگیس کی قیمتیں تک آئی ایم ایف طے کرے،اس ملک کوکیاآپ آزادکہہ سکتے ہیں؟آزادی کسی دیوی پری یاکسی مجسمہ کانام تونہیں ہے کہ وہ آپ نے نصب کردیااورسب نے تالیاں بجادیں۔اس کے بعد زندگی پہروں میں رہے سانس بھی قیدمیں ہو‘ہم نے صرف لفظ ِجمہوریت کالولی پاپ عوام کوپکڑادیا کہ خوش ہوجائیے۔آزادی تواپنی سرزمین  پراپنے عقیدے نظریے کے ساتھ اپنے وسائل کوخوداستعمال کرکے اپنی مٹی پرآزادی سے چل کرپیٹ بھرکرروٹی کھانے اورنیند بھرکرسونے کانام ہے۔ آزادی میں اپنے حال اورمستقبل کے فیصلے خودکرنے کااختیارہوتا ہے۔آزاد وطن میں ہرایک اپنا نقطہ نظربیان کرنے اور اپنی مرضی سے جینے میں آزادہوتاہے۔
جمہوری وطن کے لوگوں اوربچہ جمہورامیں بڑا فرق ہوتاہے۔کاش یہ ہمارے مظلوم اور پسے ہوئے عوام کوپتاہوتا۔اگروہ یہ جان جائیں توجومنظرآج ہے وہ نہ ہو۔ جس آزادی کے راگ ہم اورآپ الاپتے رہتے ہیں وہ اگرحقیقتاًعوام کونصیب ہوتوہماری اورآپ کی بڑی مشکل حل ہوجاتی۔ہماری یہ پرتعیش زندگی جس کا ہر ہر پل غریب عوام کے خون سے نچڑکر بناہے،مجھے ان بڑے بڑے ایوانوں لمبی لمبی ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں بلند و بالا سیمینارہالوں سے غریب عوام کے جلے ہوئے خون اور  بھنے ہوئے گوشت کی بوآتی ہے۔میرادل لرزتا ہے کہ جن کے ٹیکسوں سے حکمرانوں نے عیاشی کی،جنہیں مہنگائی کے عذاب نے پیس ڈالا،غریب عوام کی کھال توکیاان کی چربی اورگوشت کی تہہ کوبھی جلاکریہ سارا کاروبارہم نے سجا لیاہے،کہیں ایسانہ ہوکہ ایک دن ہم سب اس میں دفن ہوجائیں۔
 یہ چندپہلوتھے جومختصراً میں نے آپ کے سامنے رکھ دئیے۔وقت کی کمی کے باعث اختصاربرتاہے۔آزادی کیاہوتی ہے کیسی ہونی چاہیے؟آپ تھوڑی دیرکیلئے خودکوعوام سمجھ کرمحسوس کیجیے پھرہم میں سے کسی کویہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ عوام آزادہیں یانہیں۔میں آزادی یاغلامی کا فیصلہ آپ پرچھوڑتاہوں۔ 

تازہ ترین خبریں