10:27 am
نیا پٹرول بم، وزراء کے غلط گوشوارے

نیا پٹرول بم، وزراء کے غلط گوشوارے

10:27 am

٭عید کا تحفہ، نیا پٹرول بمO اسمبلی اور سینٹ میں ہنگامے، ہاتھا پائی O بھارت نے پاکستانی طیاروں کے لئے فضا کھول دیO برطانیہ: الطاف حسین، عمران فاروق قتل کی معلومات فراہم کرنے سے انکارO کرکٹ: پہلے میچ میںپاکستانی ٹیم کی بدترین شکست O سات وزراء اور 91 ارکان اسمبلی کے گوشوارے غلط نکلےO سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج کی 35 گاڑیاں O آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری۔
٭ایک اور ماہانہ پٹرول بم! اس پر کہاں تک لکھا جائے۔ یہ حکومت کا ماہانہ مشغلہ ہے۔ ہر ماہ کم از کم 5 فیصد اضافہ کر کے عوام کی چیخ و پکار سے خوش ہوتی رہتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد 69ء میں جنرل یحییٰ خان کی حکومت تک پٹرولیم کی قیمتوں کا سالانہ بجٹ میں جائزہ لیا جاتا تھا۔ ان دنوں لِٹر کی بجائے گیلن (ساڑھے چار لیٹر) کا حساب چلتا تھا۔ یحییٰ خان کے دور تک پٹرول کی قیمت چار روپے گیلن (89 پیسے فی لٹر) تھی۔ یحییٰ خان نے وفاقی بجٹ میں فی گیلن قیمت پانچ روپے (ایک روپیہ 11 پیسے فی لٹر) کر دی اس میں ملک بھر میں شدید ردعمل ہوا۔ کوئی اسمبلی توتھی نہیں۔ مارشل لا کے حکم کو تسلیم کرنا پڑا۔ اب سالانہ بجٹ کی بجائے ہرماہ پہلی تاریخ کو قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ اس وقت پٹرول کی قیمت 112 روپے 68 پیسے ہو چکی ہے۔ گیلن کا حساب لگائیں تو یحییٰ خان کے دور میں چار روپے (بعد میں پانچ روپے) کے مقابلہ میں اب 507 روپے گیلن!! 127 گنا!!  اور کیا لکھا جائے!! ہر ماہ قیمت بڑھنے سے بسوں، ٹیکسیوںاور طیاروں کے سفر میں جو اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کا مختصر حال کہ موجودہ اضافہ سے پہلے لاہور سے کراچی کا واپسی ہوائی کرایہ 14 ہزار روپے سے 32 ہزار تک پہنچ چکا ہے۔ لندن کا کرایہ 70 ہزار سے سوا لاکھ ہو گیا ہے۔
٭اسمبلی میں اپوزیشن نے حکومت کے خلاف، سینٹ میں حکومت نے اپوزیشن کے خلاف ہنگامے، شور شرابے، ہاتھا پائی! یہ روزانہ کا معمول ہے اس میں کوئی نیا پن نہیں۔ کوئی تعلیم، کوئی اخلاقی تربیت نہ ہو، پیسے کے زور پر اسمبلی میں داخلہ مل رہا ہو، گھروں میں ہانڈی روٹی کرتے کرتے خواتین اچانک اسمبلی میںپہنچ جائیں، تو پھر کون سی اخلاقیات؟ کون سی انسانی اقدار؟ کل سپریم کورٹ کی دیواریں پھلانگ کر عدالتوں پر حملے کرنے والی مسلم لیگ آج حکومت پر ججوںکے خلاف ریفرنسوں کو سپریم کورٹ پر حملہ قرار دے رہی ہے۔ یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس پہنچ چکے ہیں جو ملک کا بلند ترین عدالتی احتسابی ادارہ ہے۔ اس معاملے پر ہنگامہ آرائی توکیا عام رائے زنی بھی صریح توہین عدالت ہے۔ ریفرنس درست ہیں یا غلط! (پانچ آ رہے ہیں) ان کا عدالتی فیصلہ ہونا ہے مگر ریفرنسوں کے خلاف اچھل کود ہو رہی ہے۔ ریفرنس درست ہوں گے تو متاثر جج فارغ ہو جائیں گے ورنہ حکومت کو فارغ ہونا پڑے گا! ججوں کے خلاف غلط ریفرنس انتہائی ناقابل قبول بلکہ ناقابل برداشت بات ہے۔ اب انہیں واپس نہیں لیا جا سکتا۔ حکومت واپس لے گی تو خود توہین عدالت کی مرتکب قرار پائے گی! مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پر اچانک کیا آفت نازل ہوئی تھی کہ بیٹھے بٹھائے سپریم اور ہائی کورٹوں کے ججوں پر چڑھ دوڑی اور اکٹھے تین ریفرنس دائر کر دیئے۔ الزام یہ کہ ان کے داخل کردہ گوشواروں میں درج جائیدادوں میں غلطیاں پائی گئی ہیں۔ جب کہ الیکشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ حکومت کے سات وزراء اور 91 ارکان کے داخل کردہ جائیدادوں کے گوشواروں اور اصل جائیدادوں میں بہت تضاد ہے! تو پھر حکومت نے ان وزراء اور ارکان اسمبلی کے خلاف کیا کارروائی کی؟ ججوں کے خلاف ریفرنسوں کے بارے میں بعض عجیب انکشافات ہو رہے ہیں کہ وزیر قانون نے ذاتی طور پر ایک سابق پی سی اوجج سے یہ ریفرنس تیار کرائے اور کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بغیر خود ہی براہ راست سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیئے۔ یہ بات خاص طور پر نوٹ کی جا رہی ہے کہ حکومتی موقف کے مطابق یہ ریفرنس نیب، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور آئی ایس آئی نے مل کر تیار کئے ہیں۔ اس قطعی طور پر ’سول‘ معاملہ میں آئی ایس آئی کس طرح شامل کی گئی! ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشرتی طور پر شدید خلفشار کا شکار ہے اس میں ایک اور بے ڈھنگے پن کا اضافہ!
٭کالم بوجھل ہوتا چلا جا رہا ہے، کچھ ہلکی پھلکی باتیں۔ سپریم کورٹ کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے بھی جھوٹی گواہی کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد احمد گورال نے ایک جھوٹی گواہی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کیس سیشن عدالت کو بھیجتے ہوئے سخت کارروائی کی ہدائت کی ہے۔ ہمارے ہاں جھوٹی گواہی عام معمول بن چکی ہے۔ عدالتوں میں باقاعدہ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو اجرت پر ہر قسم کی جھوٹی گواہی پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں ایسے چار گواہوں کا ذکر ملتا ہے جنہیں مبینہ طور پر بھٹو کے خلاف گواہی کیلئے تیار کیا گیا۔ انہیں بھاری معاوضہ اور بعد میں بہت سے فوائد کا یقین دلایا گیا۔ ان چار گواہوں نے عدالت میں حلف اٹھا کر گواہی دی کہ وہ بھٹو کے ساتھ شریک جرم رہے ہیں۔ ان کی گواہی کی بنا پر بھٹو کو پھانسی ہو گئی تو ان چاروں کو بھی شریک جرم ہونے کی بنا پر پھانسی دے دی گئی۔ انہیں جھوٹی گواہی کے لئے تیار کرنے والوں نے انہیں انعام وغیرہ تو ایک طرف، ان کی عدالت سے رہائی کے لئے بھی کوئی مدد نہیں کی۔ جھوٹی گواہی کے بارے میں ایک میراثی کا قصہ بھی بہت مشہور ہے۔ اسے مرغی چوری کے ایک کیس میںملزم کے خلاف ہنگامی طور پر گواہ بنایا گیا۔ جلدی میں وہ سمجھا کہ بکری چوری ہوئی ہے۔ جج کو شبہ ہو گیا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ جج نے پوچھا کہ جو چیز چوری ہوئی اس کا قد کیا تھا؟ گواہ نے دایاں ہاتھ چار پانچ فٹ اونچا کر کے کہا کہ تقریباً اتنا ہی قد تھا! جج نے کہا کہ کیا مرغی کا قد پانچ فٹ ہو سکتا ہے؟ گواہ فوراً بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ کے نیچے تقریباً ایک فٹ تک لایا اور کہنے لگا حضور! میں ابھی بایاں ہاتھ تو نیچے لایا ہی نہیں تھا۔!
٭نیب کے ریفرنس کے مطابق سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی کے پاس 35 گاڑیاں ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ اتنی گاڑیاں کہاں رکھتے ہیں؟ دو بچے آپس میں گپیں لگا رہے تھے۔ ایک بچے نے کہا کہ میرے دادا کی اتنی بڑی حویلی تھی کہ ایک دیوار سے صبح گھوڑا بھاگتا تھا تو شام تک سامنے والی دیوار تک پہنچتا تھا۔ دوسرے بچے نے کہا کہ میرے نانا کے پاس کئی میل لمبا بانس تھا وہ اس سے بادلوںکو ہلا کر بارش برسا لیاکرتے تھے۔ پہلے بچے نے کہا کہ ’’تمہارے نانا اتنا لمبا بانس کہاں رکھتے تھے؟ دوسرے نے جواب دیا۔ ’’تمہارے دادا کی حویلی میں!‘‘
٭ شیخ رشیداحمد عمرہ کے لئے آج کل سعودی عرب میں ہیں۔ مشہور مزاحیہ شاعر اکبر الٰہ آبادی اپنے کلام میں اکثر شیخ کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک شعر ہے کہ ’’شیخ صاحب مکہ‘‘ گئے، مدینہ گئے، کربلا گئے… جیسے گئے تھے ویسے ہی پھر پھرا کے آ گئے!‘‘ ایک اور شعر میں ’’شیخ‘‘کے لفظ کا استعمال دیکھئے۔ کہتے ہیں کہ ’’شیخ جی کے دونوں بیٹے باہُنر پیدا ہوئے، ایک ہیں خفیہ پولیس میں، ایک پھانسی پا گئے…‘‘
٭ایک خبر! ایوان صدر میں چوہے بہت ہوگئے ہیں۔ وہ پرانے چوہے دانوں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ ان کے پاس بھی نہیں جاتے۔ ایوان صدر کی انتظامیہ نے ایوان کی مرمت و تزئین وغیرہ کے سلسلے میں ڈیڑھ کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے ہیں۔ اس میں نئی قسم کے کثیر تعداد میں چوہے دانوں کی خریداری پر خاص زور دیا ہے۔ دوسرے اخراجات میں مین گیٹ کے ساتھ بچھانے کے لئے سات لاکھ روپے سے زیادہ کاقالین اور پیراکی کے تالاب کے پاس خوشبوئوں کے ذخیرہ کے لئے بھاری رقم رکھی گئی ہے۔ 
٭ اسلام آباد ہائی کورٹ میںایک شہری نے درخواست دائر کی ہے کہ فیصل مسجدکے نزدیک جنرل (ر) ضیاء الحق کے جسد خاکی کو کسی قبرستان میں منتقل کیا جائے۔ اسلام آبادکے ماسٹر پلان میں موجودہ قبر کی موجودگی غیر قانونی ہے۔

تازہ ترین خبریں