07:16 am
ہار جیت کے فیصلے کا دن

ہار جیت کے فیصلے کا دن

07:16 am

اللہ نے موت و حیات کا سلسلہ پیدا کیا۔ انسان اس سلسلے سے گزررہے ہیں۔کوئی پیدا ہوتا ہے اور کوئی اپنا مختصر وقفۂ زندگی پور کرکے یہاں سے رخت سفر باندھ لیتا ہے
اللہ نے موت و حیات کا سلسلہ پیدا کیا۔ انسان اس سلسلے سے گزررہے ہیں۔کوئی پیدا ہوتا ہے اور کوئی اپنا مختصر وقفۂ زندگی پور کرکے یہاں سے رخت سفر باندھ لیتا ہے۔موت و حیات کی تخلیق کی غرض و غایت یہ ہے کہ اللہ تمہیں آزمائے کہ تم میںسے کو ن لوگ ہیں جو بہتر عمل کررہے ہیں۔جیسا کہ فرمایا سورہ ملک کی دوسری آیت میں ’’وہی ہے جس نے موت و حیات پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ کہ تم میں سے کون اعمال کے اعتبار سے اچھا(ہوتا)ہے۔‘‘
یہ دنیا دارالمتحان ہے اور زندگی مختصر امتحانی وقفہ ۔ یہاں کے اچھے اور برے اعمال کا نتیجہ آخرت میں نکلے گا۔اس دن جو اصل ہار جیت کے فیصلے کا دن ہوگاجس کے متعلق فرمایا ’’جس دن وہ تم کو اکٹھا ہونے (یعنی قیامت )کے دن اکٹھا کرے گا، وہ نقصان اٹھانے کا دن ہوگا(التغابن۔۹)
وہ جمع کرنے کا دن بڑا منفرد ہوگا۔اس دن حضرت آدم ؑ سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے آخری انسان تک تمام لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور حیات دنیوی میں کئے گئے اعمال کا نتیجہ نکلے گا اور انسان کے انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔کون جیتا، کون ہارا ،امتحان میں کون کامیاب ہوا ،اس کا فیصلہ وہاں ہوگاحقیقت میں کامیاب تو وہ شخص ہے جو اس دن کامیاب قرار پایا اور جو اس دن ناکام قرار دے دیا گیا ،اس سے زیادہ ناکام و نامراد،بدقسمت اور کوئی نہیں ہوسکتا خواہ اس نے دنیا میں کتنی ہی کامیاب زندگی بسر کی ہو کیونکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کامیابی اور ناکامی کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہاں کامیابی یا ناکامی محض آزمائش کے لئے ہوتی ہے۔کسی کو نعمت دے کر آزمایا جاتا ہے اورکسی سے نعمت چھین کر آزمایا جاتا ہے۔کسی کو دنیا میں کامیابیاں دے کر آزمائش کی جاتی ہے اور کسی کو ناکامی دے کر پرکھا جاتا ہے۔یہ حقیقی ناکامی یا کامیابی نہیں۔یہ تو انسان کی کم فہمی اور عاقبت نا اندیشی ہے کہ اسے کامیابی یا ناکامی سمجھ لیا جاتا ہے۔
جان لو!دنیا میں تم جو چاہو کرو ، خواہ اللہ کی اطاعت کی راہ اختیار کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنا شعار بنائو یا ڈٹ کر اللہ اور اس رسول ﷺ کی مخالفت کرویا دونوں رویوں کے برعکس منافقانہ روش اختیار کرو ۔زبان سے تو ایمان کا اقرار کرو مگر عملاً اس کا انکار کرو۔شیطان اور شیطانی قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرو ،ان کے ایجنڈے کو بڑھائو ۔جو چاہو کرو ،تمہیں اختیار حاصل ہے لیکن یہ جان لو کہ آخرت میں تمہیں اکٹھا کیا جائے گا ۔اس دن تم سب کو کھینچ لایا جائے گا۔
ہار جیت کے فیصلے کے دن جو کامیابی یا نکامی ہوگی، دنیا کی کامیابی یا ناکامی سے اس کو کوئی نسبت نہیں دی جاسکتی۔دنیا میں ناکامی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ عارضی ہوتی ہے اور اس کے بعد بھی انسان کو کامیابی کے لئے مواقع دئیے جاتے ہیں ۔مثلاًتعلیم کے میدان میں ہم کوئی امتحان دیتے ہیں تو مطلوبہ نمبر حاصل کرنے کی صورت میں ہمیں کامیاب قرار دیا جاتا ہے ۔اگر ہم ناکام بھی ہوجائیں تو بھی ہمیں کامیابی کے حصول کے لئے موقع دیا جاتا ہے۔اگر ہم ہمت اور کوشش کریں تو کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔اسی طرح کاروبار اور تجارت میںناکامی کا معاملہ ہے ۔اگر کاروبار میںخسارہ ہوگیا تو کیا ہوا یہی ناکہ کسی قدر تنگی ہوگئی ۔اس سے زیادہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص سیاست کے میدان میں ہے اور الیکشن میں ناکام ہوجاتا ہے تو یہ بھی حقیقی ناکامی نہیں۔ناکام ہوگا تو یہی ہوگا کہ کچھ اختیارات حاصل نہیں ہوسکیں گے اورہماری کرپٹ سیاست کے تناظر میں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مواقع میسر نہیں آئیں گے۔ کوئی اس کا گلہ تو نہیں کاٹے گا۔وہ ہلاکت میں تو نہیں پڑ جائے گا۔
اس کے مقابلے میں آخرت کی کامیابی اور ناکامی حتمی ہے۔وہاں اگر ناکام ہوگئے تو دوبارہ مہلت نہیں ملے گی۔جو شخص کامیاب قرار پایا وہ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہوگیا اور جو ایک بار ناکام قرار دیک دیا گیا وہ ہمیشہ کے لئے ناکام ونامراد ٹھہرے گا۔آخرت میں انسان کے دو ہی انجام ہوں گے یا تو اسے سخت ترین عذاب ہوگا یا جنت میں اللہ کی بہترین نعمتیں عطا ہوں گی۔
آگے فرمایا :اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغ ہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، داخل کردے گا ۔ہمیشہ ان میں رہیں گے ۔یہ بڑی کامیابی ہے۔جو لوگ ایمان لائے اور ایمان کے مطابق اپنے کردار کی تعمیر کی ۔اعمال صالحہ بجاتے رہے۔ان کے لئے ایک خوشخبری تویہ ہے کہ ان کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔پھر یہ کہ ایمان لانے کے بعد بھی ان سے گناہ ہوجائے مگر وہ سچی توبہ کرلین تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف کردے گا۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے دامن میں چشمے اور ندیاں رواں ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔
بہت سی نعتوں کے بارے میں قرآن مجید میں جابجا تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہ تو ابتدائی مہمان نوازی ہے ورنہ ان نعمتوں تک تو انسان کے تخیل کی رسائی بھی نہیں ہے۔بس اتنا سمجھ لیا جائے کہ جو کچھ بھی انسان وہاں چاہے گا ، اسے ملے گا اور یہ کیفیت ایک آدھ مہینے اور ایک آدھ سال تک کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہوگی۔
اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا انجام کیا ہے؟ اس کے بارے میں فرمایا اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخی ہوں گے۔ہمیشہ اس میں رہیں گے اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے۔
کفر اور تکذیب زبان سے بھی ہوسکتی ہے اور عمل سے بھی ہوسکتی ہے۔زبانی کفر یہ کہ اللہ تعالیٰ ، رسول اکرم ﷺ یا آخرت کا انکار کردے اور عمل سے تکذیب یہ کہ انسان ایمان کا اقرار تو کرے مگر اس کا عمل اس کے مطابق نہ ہو جیسے منافقین زبان سے اقرار کرتے تھے کہ اللہ ایک ہے او ر محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں بلکہ اس پر قسمیں کھاتے تھے مگر چونکہ ان کا عمل ایمان کے برعکس تھا اس لئے قرآن ان کے دعویٰ کی نفی کرتا ہے۔یہود بھی عملی تکذیب میں مبتلا تھے۔وہ زبان سے تورات کی تکذیب نہیں کرتے تھے بلکہ اسے اللہ کی کتاب مانتے تھے مگر عملاً اس کی آیات کوجھٹلاتے تھے۔چنانچہ ان کے متعلق فرمایاـ’’بری مثال ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔(الاعراف۔۱۷۷)یہی تکذیب عملی ہے جس میں مسلمان مبتلا ہیں۔قرآن کی تعلیمات کو ڈھٹائی کے ساتھ پائوں تلے روندا جارہا ہے ۔اگرچہ ہر شخص ایمان کا دعویدار ہے مگر اس کا عمل اس کے دعوے کی تکذیب کررہا ہے۔آج جبکہ حق و باطل کی جنگ جاری ہے ،اگر کوئی شخص حق کی راہ ترک کرکے شیطانی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل کررہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ایمان اللہ پر نہیں ، شیطانی قوتوں پر ہے۔ اگرکتاب اللہ پر عمل نہیں ہورہا ہے تو گویا کسی نہ کسی انداز میں اس کی تکذیب ہورہی ہے اور جو لوگ بھی کفر اور تکذیب کرنے والے ہیں ان کا انجام یہ ہوگا کہ انہیں جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔یقینا جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔جہنم کی آگ ایسی ہوگی جو نہ صرف کھال ہی کو جلائے بلکہ دل تک پہنچ جائے گی ۔ذرا غور کیجئے!, اس آگ میں بھی ہم دس سکنڈ یا ایک منٹ کے لئے اپنی انگلی نہیں رکھ سکتے ، جہنم کی آگ کی شدت کیا ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس آگ سے بچائے۔آمین یا رب العالمین۔




 

تازہ ترین خبریں