07:18 am
نریندر مودی کے الیکشن کے بعد؟

نریندر مودی کے الیکشن کے بعد؟

07:18 am

بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی) کی لوک سبھا کے انتخابات میں کامیابی سے جہاں ’’ہندوتا‘‘ ذہنیت کو تقویت حاصل ہوئی ہے وہیں مودی
بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی) کی لوک سبھا کے انتخابات میں کامیابی سے جہاں ’’ہندوتا‘‘ ذہنیت کو تقویت حاصل ہوئی ہے وہیں مودی  کے پاکستان میں رہنے والے  ایجنٹوں کو بھی بے حد خوشی ہوئی ہے  کیونکہ ان ہی خفیہ یا ظاہر ایجنٹوں کی وجہ سے پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے بے پناہ مالی اور جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان ایجنٹوں میں تحریک طالبان پاکستان صف اول کی حیثیت سے شامل تھی جس سے جہاں فاٹا میں’’موساد‘‘ اور ’’ را‘‘ کی ایما پر وہاں کے مقامی پٹھانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا تھا یہ عناصر نہ صرف فاٹا میں تخریبی کاروائیاں کر رہے تھے بلکہ ان کے ڈانڈے پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی پہنچے ہوئے تھے ۔ خود کش حملوں کے ذریعے جانی و مالی نقصانات پہنچائے جا رہے تھے اس گروپ میں ملا فضل اللہ بھی شامل تھا جس نے سوات اور اس کے اطراف میں سرکاری اور عوامی املاک کو غیر معمولی نقصانات پہنچائے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کی فوج نے سیاسی قیادت اور عوام کے تعاون سے ان دہشت گردوں صفایا کر دیا انہیں پسپا کیا اور پاکستان کی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنایا لیکن پاکستان کی دہشت گردوں کے قربانیوں کا اسطرح سے اعتراف نہیں کیا گیا جیسا کہ کرنا چاہیے تھا تاہم پاکستان کی فوج اور عوام اپنے وطن کے تحفظ ، عزت ناموس اور بقا کے لیے ان غیر ملکی ایجنٹوں سے نبرد آزما ہوتے رہے اور انہیں عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ہے تاہم یہ بات قارئین کو فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس وقت بھی پاکستان اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچارہ ہے بلکہ ناقابل تردید حقیقت تو یہ ہے کہ نریندر  مودی کی بھارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان کیلئے اندرونی اور بیرونی خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ نریندر مودی ایک انتہا پسند شخص ہے جس کے خمیر میں پاکستان دشمنی رچی بسی ہوئی ہے۔ وہ دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں ایک محاذ پاکستان کے خلاف جس میں اس کو افغانستان اور امریکہ سے مدد مل رہی ہے۔  افغانستان کیونکہ خود افغان طالبان کی مسلح سرگرمیوں کے باعث تباہ حال ہے اور آئندہ بھی یہ ملک غیر ملکی طاقتوں کی پراکسی وا ر کا حصہ بنا رہے گا اس لیے بھارت اس کو اب زیادہ ’’مالی مدد‘‘کے ذریعے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتاہے۔  بھارت نے افغانستان کو پاک افغان سرحد پر فینسنگ کے خلاف بھی استعمال کرنے کی کوشش کو تاکہ نہ فینسنگ تعمیر نہ ہوسکے لیکن پاکستان کی فوج اپنے مشن پر کامیابی کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے اور اب بھی فینسنگ کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ افغانستان کے راستے تخریب کاروں کی آمدورفت موثر طریقے سے روکی جا سکے ۔
دوسری طرف فاٹا کے غیور عوا م نے پاکستان کی فوج کے ساتھ مل کر تحریک طالبان کی تخریبی و دہشت گردانہ کاروائیوں کو بڑی قربانیوں کے بعد ختم کیا ہے اب فاٹا میں تخریبی کاروائیان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ فاٹا اب خیبر پختونخواہ کا حصہ بن چکا ہے اس کار خیرمیں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا قابل تعریف کردار رہا ہے ۔ لیکن اب تحریک طالبان کی جگہ پختون تحفط موومنٹ نے لے لی ہے یہ عناصر پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کر رہے ہیں ان کا لب ولہجہ اور بیانیہ پاکستان دوستی پر مبنی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے بیرونی آقائوں کے اشاروں پر فاٹا میں وہی کچھ کرنا چاہتے ہیں جو اس سے قبل تحریک طالبان پاکستان نے کیا تھا ۔ ہر چند کہ ان گمراہ عناصر کو فوجی قیادت کے علاوہ سیاسی قیادت نے بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی سوچ بدل کر حکومت سے مذاکرات کریں نہ کہ دھونس یا دھمکیوں کے ذریعے اپنی بات منوانے کی کوشش کریں انہوں نے کسی بھی بات نہیں مانی یہاں تک کہ گزشتہ دنوں ان ظالموں نے شمالی وزیرستان میں واقع چیک پوسٹ پر مسلح حملہ کر دیا جس میں تین افراد مارے گئے باقی گرفتار کر لیے گئے حملہ آوروں میں محسن اور وزیر شامل تھے ۔ فاٹا ایک پسماندہ علاقہ ہے ، معاشی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے  اب عمران خان کی حکومت نے اس علاقہ کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرکے انہیں سیاسی و معاشی قوت سے ہمکنار کیا ہے جس میں 100 ارب روپے کی کی ترقیاتی رقم بھی شامل ہے ۔ فاٹا کے عوام خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہیں بلکہ ان کی اکثیرت مطمئن ہے لیکن مسائل ہنوز موجود ہیں بلکہ صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ ملکر ان مسائل کو حل کر رہی ہے  دیر لگ سکتی ہے اس کو وجہ خود پاکستان کی کمزور معیشت ہے لیکن اس کے باوجود خیبر پختونخواہ کی حکومت اور وفاق قبائلی عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہے انہیں اس بات کا شدت سے  احسا س ہے کہ قبائلی عوام نے اس علاقے میں موجود دہشت گردو ں کا صفایا کرنے میں فوج کے ساتھ تعاون کیا ہے اور وقت پڑنے پر آئندہ بھی کریں ۔لیکن جس انداز میں پختوں تحفظ موومنٹ مسائل کے ’’حل‘‘کے لیے کام کر رہی ہے وہ کسی طرح بھی وہ پاکستان دوستی کے زمرے میں نہیں آتا ہے یہ کھلم کھلا پاکستان کے ساتھ دشمنی ہے بلکہ اسی طرح جب قیام پاکستان کے دوران باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے پختونستان کا نعرہ بلند کیا تھا لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی بلکہ 1947  کے تاریخی ریفرنڈم میں ان عناصر کو ناکامی کا سامنا کر نا تھا ۔ ویسے بھی خیبر پختونخواہ کے عوام افغانیوں کے ساتھ ضم نہیں ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے درمیان ہر لحاظ سے ثقافتی و سیاسی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے اگر ایسا ہوتا تو برٹش انڈیا میں ایسا ممکن ہو جاتا مگر اس دوران میں بھی ایسا نہیں ہو ا اور نہ آئندہ ایسا ہو گا ۔چنانچہ نریندر مودی کی بھارتی انتخابات میں کامیابی سے پاکستان کے اندر اور باہر ایجنٹوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں وجہ سب باہم مل کر پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور کرنا چاہتے ہیں جس میں تخریب کاری کا عنصر بھی شامل ہے بھارت کے روپے پیسے کی مدد سے یہ ایجنٹ تحریک پاکستان اور نیا پاکستان کے خلاف غلط جارحانہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں تاکہ عوام میں مایوسی پیدا کی جاسکے ۔ اس قابل مذمت انداز گفتگو میں پاکستان میڈیا کے کچھ جانے پہچانے لوگ بھی شامل ہیں جو صحافت کی آزادی سے غلط اور ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ مہنگائی کا رونا رو کر عوام کو یہ تاثر دیا جارہے ہے کہ یہ سب کچھ نو ماہ کے اندر عمران خان کی حکومت نے کیا ہے ۔ حالانکہ ماضی کے کر پٹ حکمران اس بد حال اور بری صورتحال کے ذمہ دار ہیں جن میں کچھ جیل میں قید ہیں(نواز شریف) اور کچھ جانے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ ذرا سوچیے!



 

تازہ ترین خبریں