07:18 am
عظمت قرآن کانفرنس

عظمت قرآن کانفرنس

07:18 am

ہر انسان کو جان لینا چاہیے قرآن مجید کے نزول کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کی ہدایت ہے … ارشاد خداوندی ہے
ہر انسان کو جان لینا چاہیے قرآن مجید کے نزول کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کی ہدایت ہے … ارشاد خداوندی ہے ’’تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک روشن دلیل‘ ہدایت اور رحمت آگئی ہے‘‘(سورۃالنمل آیت77 )
قرآن مجید کا یہ معجزہ ہے کہ جو بھی ادنی و اعلیٰ شخصیت ہدایت کی نیت سے اسے پڑھتا ہے یا سنتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے  ہاں البتہ شرط  یہ ہے کہ اس کے ذہن میں تعصب‘ بغض ہٹ دھرمی نہ ہو۔24 رمضان المبارک جمعرات کی رات نماز تروایح کے بعد کشمیر ضلع پونچھ کے مردم خیز علاقے شہید گلی کوٹیڑیاں کی سو سالہ تاریخی مرکزی مسجد میں منعقدہ عظمت قرآن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے عرض کیا کہ قرآن پاک اس لئے نازل ہوا کہ ہم اس کی تلاوت کریں‘ اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں کیونکہ قرآن محض  چند سو بے جان صفحات کا نام نہیں ہے بلکہ قرآن کا ایک ایک لفظ اپنے اندر دانش و حکمت کے سمندر سموئے ہوئے ہے۔
قرآن کے مقدس الفاظ تلاوت کرنے والے سے ایسے ہمکلام ہوتے ہیں کہ اس کی روح  تک کو سرشار کر دیتے ہیں‘ قرآن پڑھنے سے ثواب تو ملتا ہے لیکن اگر کوئی قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو جائے تو قرآن اس کو سیدھی راہ بھی دکھاتا ہے‘ قرآن کی تلاوت انسانی ایمان کو زندگی کی حرارت بخشتی ہے۔
جو مسلمان تلاوت قرآن سے محروم رہے‘ وہ مردہ دلوں میں شمار ہوگا‘ جس گھر میں قرآن کی تلاوت نہ ہو‘ اس گھر میں شیطانی نحوست اپنا پنجہ گاڑھ لیتی ہے۔
کوٹیڑیاں کے فلک بوس پہاڑیوں کے باسی دین اور وطن کی محبت سے سرشار‘ لیکن آزادی کے 71 سال بعد بھی زندگی کے مشکل ترین تھپیڑوں کا سامنا کررہے ہیں ‘ مختلف حکومتوں کا اس علاقے میں بسنے والے عوام پر ’’احسان‘‘ تو یہ ہے کہ خاص کوٹیڑیاں جانے کے لئے 71 سالوں میں انہوں نے ایک سڑک کی تعمیر کرنا بھی گوارا نہ کیا‘ کوٹیڑیاں کے عوام اور مرکزی مسجد کوٹیڑیاں کے جوانسالہ خطیب مولانا محمد صابر خان کی محبت اور اللہ کی توفیق سے یہ خاکسار مسلسل تین سالوں سے اس علاقے میں کانفرنسوں سے خطاب کے لئے جارہا ہے…8اکتوبرکے زلزلے کے دوران کوٹیڑیاں میں طالبات کا سکول بھی منہدم ہوگیا تھا‘ مگر مظفر آباد کے حکمرانوں کا خزانہ ایسا خالی رہا کہ طالبات  کے سکول کی دوبارہ تعمیر نہ ہوسکی۔
اس خاکسار نے جلسوں میں کئے جانے والے اپنے خطابات میں اس حوالے سے آواز اٹھائی تو وقت کے فرعونوں کی پیشانیاں شکن آلود ہونا شروع ہوگئیں ‘ لیکن روزنامہ اوصاف کے انہی کالموں میں ہم نے بھی قلمی جہا د سے پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا‘ تاآنکہ گزشتہ سال رمضان المبارک میںمنعقدہ ایک کانفرنس میں مرحوم خان بہادر خان کے بھتیجے سردار ارزش خان نے عوام کی موجودگی میں اس خاکسار کو نہ صرف طالبات کے سکول کی بلڈنگ کی تعمیر بلکہ  مسجد تک سڑک کی تعمیر کی یقین دہانی کروائی۔
اس مرتبہ30مئی24 رمضان المبارک جمعرات کی شام جب یہ خاکسار خطیب ہجیرہ  مولانا کمال الدین آزاد کے ہمراہ کوٹیڑیاں پہنچا تو حسب روایت سڑک ورک ندارد‘ ہاں البتہ مولانا صابر خان اور علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ زلزلے کے دوران منہدم ہونے والی طالبات کے سکول کی عمارت کی تعمیر کے لئے ن لیگ  کی حکومت نے 15 لاکھ کی منظوری دے دی ہے‘ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ الحمد للہ‘ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔
چودہ سال قبل لڑکیوں کے سکول کی جو بلڈنگ زلزلے کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھی… کسی حکومت اور عورتوں کے حقوق کی دعویدار کسی ڈالر خور این جی او کو اس عمارت کی تعمیر کی دوبارہ  توفیق نہ ہوئی  اور کشمیر کی بیٹیاں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ‘ الحمد للہ یہ دین کی برکت تھی کہ روزنامہ اوصاف کوٹیڑیاں کے عوام کی آواز بنا اور آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ لیگی حکومت کو اللہ نے توفیق بخشی کہ انہوں نے عمارت کی تعمیر کے لئے 15 لاکھ روپے بھی مختص کر دیئے ‘ اس خاکسار نے عظمت قرآن کانفرنس میں شریک کشمیری مسلمانوں سے عرض کیا کہ یہ ساری برکات بھی  قرآن کانفرنسوں کی ہے کہ جس کی وجہ سے خان بہادر خان مرحوم کے پوتے کے دل میں اللہ نے بے بس عوام کی مدد کرنے کا جذبہ راسخ کیا۔قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے کہ قرآن راستہ دکھاتا ہے بہت سیدھا اور خوشخبری ہے مومنوں کے لئے جو نیک اعمال کرتے ہیں ان کے لئے اجر ہے بہت بڑا ‘ نوجوان عالم دین دارالعلوم  تعلیم القرآن للبنات الاسلام کے مہتمم مولانا اصبر خان نے اپنے خطاب میں عوام کو اپنی بچیوں کو مدرسے میں قرآن و سنت کی تعلیم دلوانے کا وعدہ لیا جبکہ مرکزی مسجد ہجیرہ کے خطیب مولانا کمال الدین آزاد اور مولانا کامران نسیم نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

 

تازہ ترین خبریں