07:21 am
  ملت ِ مرحوم

ملت ِ مرحوم

07:21 am

اسلامی ممالک کی تنظیم کا اہم اجلاس سعودی عرب میں ایسے موقع پر منعقد ہو ا جب کہ عالم اسلام کا بڑا حصہ مسائل کے بھنور میں گھرا ہے۔ ش
 اسلامی ممالک کی تنظیم کا اہم اجلاس سعودی عرب میں ایسے موقع پر منعقد ہو ا جب کہ عالم اسلام کا بڑا حصہ مسائل کے بھنور میں گھرا ہے۔ شام میں خوں ریزی جاری ہے ۔ یمن کا بحران دن بدن بگڑ رہا ہے ۔ لیبیا میں مغربی طاقتوں کے بوئے فساد کے بیج اب تناور درخت بن چکے ہیں ۔ ایران ایک جانب امریکہ سے سینگ پھنسائے ہوئے ہے تو دوسری جانب سعودی عرب سے روایتی کشیدگی کو مسلسل ہوا دے رہا ہے ۔ افغانستان اپنی موجودہ حالت میں ایک آزاد ملک نہیں کہلا سکتا ۔ امریکہ اور بھارت کی گود میں بیٹھ کے بے اختیار کٹھ پتلی حکومت ہر وہ قدم اُٹھا رہی ہے جس سے پورے خطے کا امن برباد ی کا شکار رہے۔ نے ہاتھ باگ پر نے پا ہے رکاب میں کی سی کیفیت میں مبتلا افغان کٹھ پتلی حکومت پر پاکستان دشمنی کا بھوت سوار ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے طول و عرض میں ہونے والے بیشتر دہشت گرد حملے افغان سرزمین سے کروائے گئے ۔ ناقابل تردید شواہد دستیاب ہیں کہ دہشت گرد حملوں کے منصوبہ ساز اور نگران افغان حکومت کی فراہم کردہ محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھے ہیں ۔ قیام پاکستان کے بعد سے ستر کی دہائی تک پاکستان کی سالمیت کو پشتونستان کے تعصب بھرے نعروں سے پارہ پارہ کرنے کا جنون ایک مرتبہ پھر سے جاگا ہے۔ پشتون حقوق کے نام پر ریاست پاکستان کو نشانے پر دھرنے والے عناصر کے ڈانڈے براستہ افغانستان اصل آقا بھارت اور امریکہ سے ملتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ روہنگیا مسلمانوں کی خستہ حالی اور مظلومیت میں کوئی کمی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ۔
 سری لنکا میں ایسٹر کے تہوار پر مسیحی برادری پر ہونے والے پراسرار حملوں کے بعد رد عمل میں مسلم آبادی کے خلاف پر تشدد کاروائیوں کی خبریں بھی آ رہی ہیں ۔ بھارت جیسے شاطر سازشی پڑوسی کی مداخلت کے واضح امکانات معاملے کی پیچیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ ان سب مسائل کے ساتھ فلسطین پر اسرئیل کا اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا ناجائز تسلط مسلم امہ کے لیے ایسے ناسور بن چکے ہیں جن کا نہ تو او آئی سی جیسی اہم تنظیم کے پاس کوئی علاج ہے اور نہ ہی بااثر ممالک ان مسائل کے دیرپا حل کے لیئے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔ مسجد اقصیٰ ، جسے کہ قبلہ اول ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ، گاہے بگاہے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں پامال ہوتی ہے ۔ زائرین اور عبادت کی غرض سے جانے والے مسلمان مرد و زن اسرائیلی اہلکاروں کی رعونت اور تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں ۔ صد حیف کہ مادی وسائل سے مالا مال مسلم ممالک کی غیرت نہیں جاگتی۔ مقبوضہ کشمیر میںبھارت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ! کشمیریوں کی نسل کشی ، بہنوں بیٹیوں کی اجتماعی عصمت دری اور معمول کی انسانی زندگی کا تعطل کشمیر میں روز کا معمول بن چکا ہے۔
 ماہ رمضان کی مقدس ساعتوں میں جس وقت اسلامی ممالک کے سربراہان حجاز مقدس کی سرزمین پر یخ بستہ ہال میں امہ کے مسائل پر غور کے لیے جمع ہو نے سے پہلے حرم شریف میں حاضری کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ۔ سرکاری پروٹوکول میں وی آئی پی عمرے کا شرف حاصل کر رہے ہیں ۔ عین انہی ساعتوں میں مظلوم نہتے فلسطینی اپنے شہداء کے لاشے اٹھائے اسرائیل کی سفاک حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کے ساتھی ذاکر موسیٰ کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا ۔ ہر روز کشمیری مائیں اپنے جواں سال مظلوموں کی لہو میں ڈوبی لاشوں پر شہادت کا سہرا سجا کے سپرد خاک کررہی ہیں ۔ کیا او آئی سی فلسطین اور کشمیر کے مظلوموں کی داد رسی کے لیے تیار ہے ؟ کیا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے آنے کا امکان ہے؟ کیا اسلامی دنیا اسرائیل اور بھارت کی مسلم دشمنی کا جواب دینے کی ہمت کر پائے گی ؟ حسب سابق نشستند ، گفتند ، برخاستند کا مظاہرہ ہو گا یا امہ متحد ہو کے ظالم کا ہاتھ روکنے کی کوئی ترکیب سوچے گی ؟ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہی دکھائی دے رہا ہے۔
فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل کے سامنے ادب سے سر جھکائے کھڑے مسلم ممالک کے سر بر ا ہا ن کے حرم مقدس کے طواف کس کام کے ؟ کشمیریوں کی نسل کشی اور عفت ماب خواتین کی عزتوں سے کھلواڑ کر نے والے نریندر مودی کی چاپلوسی کرنے والے خلیجی مما لک کے سربراہان کس منہ سے اﷲ کے گھر میں کھڑے ہو کے مسلم امہ کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور بھارتی افواج کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے او آئی سی کے تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کیا ہے ۔ قربان جائیے او آئی سی کے اس بیان پر کہ جس میں تنظیم نے کشمیر کے مسئلے کو اپنے دل کے قریب قرار دے کے بھارت اور پاکستان کو باہمی مذاکرات سے حل تلاش کرنے کی تلقین کی ہے۔ قربان جائیے اس سادگی پر ۔ کاش او آئی سی کے اجلاس میں کوئی یہ سوال پوچھے کہ چند ہفتوں پہلے غاصب بھارت کی وزیر خارجہ کو کس حیثیت میں اور کس اصول کے تحت خطاب کی دعوت دی گئی تھی ۔ مسلمانوں کے قاتل اور بابری مسجد شہید کرنے والے نریندر مودی کو عرب امارات میں بلا کے مندروں کے افتتاح کیوں کروائے گئے ؟ پاکستان کو بھارت سے مذاکرات کا مشورہ دینے والے امن پسند ممالک یہی مشورہ امریکہ کو کیوں نہیں دیتے ؟ ہر مسئلے پر ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہوئی منتشر و بیمار او آئی سی افغانستان میں چالیس ملکی فوجی اتحاد نیٹو سے یہ سوال کیوں نہیں کرتی کہ وہ طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنائے۔ بلند بانگ دعوے اپنی جگہ لیکن لگتا یہی ہے کے مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی صدائیں حرم شریف میں سجدے میں پڑے مسلم حکمرانوں تک اس برس بھی نہیں پہنچ پائیں گی ۔
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلماں کدھر جائے
 



 

تازہ ترین خبریں