07:23 am
تاریخ کی گواہی

تاریخ کی گواہی

07:23 am

تاریخ گواہ ہے موسم بدلتاہے،سماں بدلتا ہے اور منظربدل جاتے ہیں۔جہاں تم شہردیکھ رہے ہوکسی زمانے میں جنگل تھااورجہاں جنگل ہے
تاریخ گواہ ہے موسم بدلتاہے،سماں بدلتا ہے اور منظربدل جاتے ہیں۔جہاں تم شہردیکھ رہے ہوکسی زمانے میں جنگل تھااورجہاں جنگل ہے وہاں کبھی شہرہواکرتا تھا،جہاں تم اور میں کھڑے ہیں ایک وقت تھایہاں میدان ہواکرتاتھا۔شہرسے دورہونے کے سبب یہاں کوئی نہیں آتاتھا۔اب یہ شہرکامہنگاترین علاقہ ہے۔تم دیکھ رہے ہوناں کیسے کیسے عالی شان مکانات ہیں۔وہ دیکھواس مکان کی چھت پرپنجرے لگے ہوئے ہیں اوران کے بیچ ایک مورہمیں جھانک رہاہے۔شہرمیں جنگل کاباسی قیدکردیا گیا ہے۔قیدی بناناہماری تفریح ہوگئی ہے۔ہاں تومیں کیاکہہ رہاتھا! آپ کہہ رہے تھے کہ شہرکبھی جنگل‘ہاں ہاں یاد آگیا مجھے۔ اب ایک وقت ایسابھی آئے گاجب ہماری جگہ کوئی اوردولوگ کھڑے ہوں گے ان کے نام چاہے کچھ بھی ہوں وہ پتاہے کیاکہہ رہے ہوں گے!کہہ رہے ہوں گے۔
کیسااجاڑویرانہ ہے،جنگل ہے یہ تو، اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کتناعالی شان محلہ ہے،بس یہ وقت کاپھیرہے،موسم بدلتاہے،سماں بدلتاہے اورمنظر تبدیل ہوجاتے ہیں۔شاہ گداگر بن جاتے ہیں اور بھکاری زمامِ کارسنبھال لیتے ہیں۔ فوج کاجرنیل جس کے حکم پرہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترجاتے ہیں خودعام سے لوگوں کا محتاج ہوجاتاہے۔ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتا ہے۔ حکم دینے والے خودحکم ماننے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔طبیب جواوروں کوزندگی کی آسانیاں بانٹتاہے خودزندگی کی بھیک مانگتاہے۔ ادویات کی فیکٹری کامالک دوائیں ہوتے ہوئے بھی دم توڑدیتا ہے ۔وہ تجھے یادآیاٹی بی کی ادویات کاہول سیلرکیانام تھااس کاخود ٹی بی سے مرگیا۔سرمایہ دار قلاش ہوجاتے اورقلاش زردار بن جاتے ہیں۔چوراچکے کوتوالِ شہربنے پھرتے ہیں۔
دودھ کی رکھوالی بلی کے سپردہوجاتی ہے،بھالو شہد کھانے لگتے ہیں،کوے موتی چگتے اورہنس دانادنکا چگتے  پھرتے ہیں۔وہی گائے جودودھ دیتی تھی بہت چہیتی تھی اوراب اسے قصائی کھول کرلے جارہاہے۔ باپ میں جب دم تھاتوسب اس کے آگے پیچھے تھے اوراب بیٹے بیویوں کورجھاتے پھرتے ہیں۔بوڑھا باپ پیاساہی مرجاتاہے،ماں دواکوروتی رہتی ہے اورصاحبزادہ بیوی کے حضوردست بستہ حکم سن رہا ہوتا ہے۔  موسم  بدلتاہے سماں بدلتاہے اورمنظربدل جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے تھوڑی دیرخاموشی اختیار کی، کرتے کی جیب سے رومال نکال کرآنکھیں خشک کیں،ایک ٹھنڈی آہ بھری، اِدھر ادھر دیکھا اورپھر کہنے لگے:
یہ سامنے والا آم کاباغ کرم دین کاہی ہے ناں؟مجھے نہیں معلوم‘ہاں ہاں یہ آم کاباغ اب کرموکاہے پہلے سعید کاہوتاتھا۔وہی سعیدجس کابیٹا ملک سے باہرگیا تھا پڑھنے اور وہاں ایک میم سے شادی کرلی اورپھرکبھی لوٹ کرنہیں آیا۔ ایک  ہی توبیٹاتھااس کا،بیوی مرگئی اورسعیدبہت کچھ  ہوتے ہوئے بھی محتاج ہوگیا تھا۔ پھراس نے کرموکوباغ بیچ دیااور اتنے بڑے گھرمیں اکیلا رہنے لگا۔روٹی ٹکڑگائوں والے اسے دے دیتے تھے، بندہ بشرکمزور ہے ناں پتر،بیمارہوگیاتھاوہ سب کچھ علاج پرلگ گیا اورایک صبح جب لوگ اسے دیکھنے گئے تووہ دنیاسے چلاگیاتھا۔گاں والوں نے ہی اسے کفنایا، دفنایا ۔اب سعیدکون تھا،کوئی جانتاہی نہیں۔ وقت بدل گیاناں۔ دیکھ سب کچھ بدل گیا،اب کرمو اپنی نئی نکورگاڑی میں اتراتا پھرتا ہے۔غریبوں کوتووہ کچھ سمجھتاہی نہیں،میں تونہیں رہوں گالیکن تواس کرموکابھی حشر دیکھنا، جوبویاہے وہ کاٹے گا۔
آج کل وہ تیرادوست مہتاب نظرنہیں آرہا۔ہاں وہ لاہورگیاہے۔کیوں؟گڈیاں لینے کیلئے،بسنت آرہی ہے ناں تووہ پتنگیں اورمانجھالینے لاہورگیا ہے ۔ واہ واہ جوان ہے یار تیرا دوست۔ہاںدیکھ یہ جوگڈی ہے پہلے زمین پرہوتی ہے پھرتھوڑاسااوپراٹھتی ہے اورپھردیکھتے ہی دیکھتے آسمان پرپہنچ جاتی ہی،اتنی اوپرکہ نقطہ سی نظر آتی ہے اورپھراچانک پتاچلتاہے، پیچا لڑگیا اور کٹ گئی۔اتنی اونچائی سے ڈولتی ہوئی زمین پرآرہی ہوتی ہے اورپھر بچوں کے ہاتھوں میں پہنچ کرپرزے پرزے ہوجاتی ہے۔کبھی تونے سوچاہے اس پر؟ .ہیں تو‘توجھلیا سوچا کر غور کیا کرپگلے‘ اب کے مہتاب پتنگ اڑائے تودیکھناایسا ہی ہوتا ہے‘  تو  مجھے معلوم ہے تو پھرتونے سوچا نہیں بندہ بشر بھی گڈی کی طرح ہوتا ہے معصوم سا گگلوبچہ اورپھر تھوڑابڑابچہ پھرلڑکااورلڑکی جوبھی ہو،پھرجوانی جوکسی کی نہیں سنتی، منہ زور،پھر شادی  بیاہ،کھیل کود،اوراچانک جب سب کچھ بن جاتاہے سب لوگ ہوتے ہیں‘بندے کی ڈورکٹ جاتی ہے۔ پھروہ جوسامنے تودیکھ رہاہے ناں قبرستان‘یہ ہے اصل جگہ جھلیا‘بس یہ ہے اصل جگہ جسے ہم سب بھول  گئے۔اِس کے اوپرتہمت اس کے اوپر الزام، اِس کی غیبت اس کی چغلی،اس کادل توڑا،کسی کودھوکادیا، بندوں کو آزار پہنچایا، جھوٹ  بول بول کرپیسہ بنایا،کچھ نہیں رہے گاپتر‘ سب ڈھلتی چھایا ہے، سب مایاہے ،جی ہاں سب مایاہے۔موسم بدلتاہی،سماں بدلتاہے اورمنظربدل جاتے ہیں۔ نجانے  آج میں ان کی باتیں کیوں لے بیٹھاہوں شایداس لیے کہ اس خبرنے مجھے بے چین کر دیا ہے،آپ بھی سن لیں:
چندبرس قبل امریکی فوج کے چار میرینز کویوٹیوب پربھیجی گئی ایک ویڈیومیں افغانستان میں طالبان کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے  دکھایا گیا تھا۔یہ اہلکار طالبان جنگجوئوں کی لاشوں  پر کھڑے پیشاب کررہے ہیں،جن میں سے ایک لاش خون میں لت پت ہے۔ اس غیرانسانی فعل پرساری دنیامیں انتہائی ناپسندیدگی کااظہارکیا گیا ۔اس ویڈیو میں ملوث اہلکاروں کاتعلق امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے کیمپ لیجیون سے ہے جوایک بڑا امریکی اڈہ ہے۔
دنیاکی سپرطاقت کہلانے اورانسانی حقوق اور اقدارکی چیمپئن کہلانے والیاورآج تک افغان طالبان کوانسانی اقدارمحروم ہونے کاطعنہ دینے والے اس فعل پر ساری دنیاکے سامنے شرم سے منہ چھپائے کی بجائے ان فوجیوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرسکے لیکن حیرت کی بات تویہ ہے کہ اگرایسامعاملہ کسی بھی مسلمان ملک میں رونما ہوتا توا بھی تک ساری دنیاکا میڈیاچیخ چیخ کرآسمان سر پر اٹھالیتالیکن اتنے بڑے شرمناک واقعے کو میڈیا نے خاموشی کے ساتھ اپنی صحافی بددیانتی کی راکھ میں خاموشی سے دفن کردیا۔
باباجی آج شدت سے یادآرہے ہیں،بارش کاموسم شروع ہوتوسب ان کے گردگھیراڈال کربیٹھ جاتے تھے لیکن اب صرف ان کی محبت بھری یادیں،پندونصائح کی مجالس دل کو تڑپاتی ہیں۔لوگ سمجھتے ہیں وہ دنیاسے چلے گئے،نہیں ایسابالکل نہیں،لوگوں کوسکھ چین بانٹنے والے کبھی نہیں مرتے،مرتے وہ ہیں جو بندوں کوانسان نہیں سمجھتے، جواس زمین پرفرعون ونمرودبن کر خداکی مخلوق کے ساتھ ایسابہیمانہ سلوک کرتے ہیں اورانسانی حقوق کی حفاظت کے علم بردارہونے کادعویٰ بھی کرتے ہیں لیکن یاد رکھیں  جوخود کو مخلوق کیلئے مٹی میں ملا دیں ،طعنے سنیں،الزامات برداشت کریں،تہمتیں برداشت کریں،وہ کہاں مرتے ہیں لیکن تاریخ اس  بات کی گواہ ہے کہ ایسے فرعون جوایسے بہیمانہ فعل کاارتکاب کریں بطورعبرت یاد رکھے جاتے ہیں ۔




 

تازہ ترین خبریں