07:25 am
صدائے من

صدائے من

07:25 am

رمضان المبارک کے مقدس ایّام میں بھی میرے وطن کے حالات نہ بدل سکے۔وہی سسکیاں، وہی آہیں اور وہی حسرتیں ہیں۔ اور انہی حسرتوں
رمضان المبارک کے مقدس ایّام میں بھی میرے وطن کے حالات نہ بدل سکے۔وہی سسکیاں، وہی آہیں اور وہی حسرتیں ہیں۔ اور انہی حسرتوں کے درمیان میں چشم تصور میں ماضی کے آئینے میں جھانکنے پر مجبور ہو چکا ہوں۔ ماضی کے آئینے میں وہ ڈائس پر کھڑے ہو کر رو رہا تھا۔ آنکھیں زخم نازک کی طرح نم تھیں۔ لفظ ہونٹوں سے جدا  اور ہونٹ جذبوں کی لے پر لرزہ براندام تھے۔ تجزیہ کار اُس کے آنسوئوں کو موضوعِ سخن بنا رہے تھے۔ کچھ قلم فروش اُس کے درد کا ابلاغ کر رہے تھے۔ وہ رو رہا تھا یہ ڈھول پیٹ رہے تھے۔ قوم کا درد رکھنے والا ایسا حکم ران اِس سرزمین کو پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا۔ جس کی بصارت سے سب کچھ اوجھل ہو مگر بصیرت کی آنکھ اتنی روشن کہ سوچ کا پانی بدن کی پُتلیوں میں لہلہانے لگے۔ کتنی خوش نصیب قوم ہو گی وہ جس کا سربراہ اُس قوم کے مفلسوں پر آنسو بہاتا نظر آئے۔ چشم ہائے نم پر تحقیق کرنے والے محققین آنسوئوں کی دو اقسام بیان کرتے ہیں ایک خوشی کے آنسو اور دوسرے غم کے آنسو۔ کہتے ہیں خوشی کے آنسو فرطِ جذبات اور غم کے آنسو درد کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
 آنسوئوں کی ایک تیسری قسم بھی ہوتی ہے جو اگرچہ محققین کی کتابوں میں تو نہیں ملتی مگر تاریخ کی زبان پر بولی جانے والی یہ قسم بھی زبانِ زد عام ہے۔ اِس تیسری قسم کے آنسو مگر مچھ کے آنسو کہلاتے ہیں۔ اِن آنسوئوں کو ماہرین لسانیات ’’ٹسوے‘‘ کہہ کر بھی پکارتے ہیں۔ اِن آنسوئوں کو رونے والی خاص قسم کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ جو اگرچہ اِنسان بدن پر لگی ہوتی ہیں مگر وہ آنکھیں اِنسانیت کا دم بھرتی دکھائی نہیں دیتیں۔ ایسی آنکھیں معاشرے میں اکثر اِنسانی جسموں پر لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ آنکھیں دیکھتی کچھ اور ہیں بیان کچھ اور کرتی ہیں۔ انہی آنکھوں اور ایسے ہی آنسوئوں کے بارے میں جان کاری حاصل کرنے کے لئے میں نے اپنی لائبریری کی کتابوں کو کھنگالنا شروع کیا۔ تو تاریخ کی ایک کتاب کے ایک درمیانی صفحہ پر مجھے ایک واقعہ لکھا ہوا ملا۔ اِس واقعہ کا تعلق اسلام کے خلیفۂ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِ خلافت سے ہے۔ ایک دِن آپؓ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ایک گلی سے گزر رہے تھے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص تکبیر پڑھتے ہوئے ایک بکرا ذبح کر رہا ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ زار و قطار روتا چلا جا رہا ہے۔ بکرے کی گردن سے خون بہہ رہا تھا اور اُس شخص کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھیوں میں سے ایک کے دِل میں اُس شخص کے آنسوئوں کو دیکھ کر انتہائی رقت آمیز جذبے اُمڈ آئے۔ اُنہوں نے امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی توجہ اُس شخص کے آنسوئوں کی جانب مبذول کروائی اور خامشی کی زبان میں یہ اظہار کرنے کی کوشش کی کہ یہ شخص کتنا رحمدل اِنسان ہے کہ حلال جانورکو ذبح کرتے ہوئے بھی اُس کا درد محسوس کر رہا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے ساتھی کے اشارے کو سمجھ لیا تھا اُنہوں نے اپنے ساتھی کو سمجھایا کہ دیکھو اِس شخص کے آنسوئوں پر مت جائو۔ اِس کے ہاتھوں کی طرف دیکھو اِس کے ہاتھ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بصیرت افروز بیان ختم ہو چکاتھا۔ مورخ نے اسے آئندہ زمانوں تک کے لئے محفوظ کر لیاتھا۔ کیوں؟ اِس لئے کہ اِس ارشاد میں کمال حکمت پائی جاتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے ارشاد سے حکمت کے وہ دروا کئے ہیں کہ دِل عش عش کر رہا ہے۔ آپؓ نے جو یہ فرمایا کہ بکرا ذبح کرنے والے اِس شخص کے آنسوئوں کو مت دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ اِس کے ہاتھ کیا کر رہے ہیں؟ قارئین آپ جان گئے ہوں گے۔ کہ وہ ہاتھ کیا کر رہے تھے؟ وہ ہاتھ ایک جاندار کی شاہ رگ کاٹ رہے تھے۔ اُسے ذبح کر رہے تھے۔ اور آنکھوں کے پانی کو بہاتے ہوئے اِس امر کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ اپنے اِس عمل پر بڑے غمگین ہیں۔ جس بدن کے ہاتھ خون سے لت پت ہوں۔
قارئین اُس بدن کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے۔ آنسوئوں کی یہ لڑی آج بھی اُسی طرح تاریخ کی راہ گزر پر سفر کرتی ہوئی پاکستان آن پہنچی ہے۔ اِس سے پہلے میں نے ایک بار سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق کو بھی اُس دِن روتے ہوئے دیکھا تھا جس دِن وہ وفاقی وزیر مذہبی امور کے عہدے پرمتمکن تھے اور جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر گولیاں برسائی جا رہی تھیں۔ قرآن مجید کے مقدس اوراق شہید ہو رہے تھے اور طالبات جل کر خاکستر ہو گئی تھیں۔ ایسے میں پاکستان کے وفاقی وزیر کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو مجھے اُس شخص کے آنسوئوں کی لڑی محسوس ہو رہے تھے جو بکرے کو ذبح کرتے ہوئے لگاتار رو رہا تھا۔ایسے آنسو درویشی کی خلعت پہن کر عیاری کا منہ بولتا ثبوت بن جاتے ہیں۔ دیکھئے روزانہ کی بنیاد پر دیکھئے! کوئی ایک دِن بھی میرے وطن کی سرزمین پر ایسا طلوع نہیں ہوتا جس دِن یہاں معصوموں کو اغوا نہ کیا جاتا ہو؟ آپ نے کبھی کسی ایسے سورج کی شکل نہیں دیکھی ہو گی جس کے چہرے پر روزانہ بے گناہی کے جرموں کی سزا پانے والوں کا خون نہ چمک رہا ہو۔ یہاں حکومتی سرپرستی میں بے گناہ مارے جاتے ہیں۔ جو نہ مارے جائیں اُن کے لئے جینا دو بھر دِکھائی دیتا ہے۔ مہنگائی کی تلوار سے سوکھی ہوی انتڑیوں کا  قتلِ عام ہو رہا ہے۔ انصاف اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ مذہب ایک رسم بن کر رہ گیا ہے۔ کفر کے فتوے بازار کی جنس قرار پا چکے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کو دِن کی روشنی میں لوٹ لیا جاتا ہے۔ وہ تمام جرائم جو کسی بھی گھٹیا ترین معاشرے کا طرۂ امتیاز ہو سکتے ہیں وہ اِس سرزمین پر ڈھٹائی کے ساتھ کئے جا رہے ہیں۔ اِنسانیت سسکیاں لے رہی ہے۔ اِنسان جیتے جی مر رہا ہے۔ اور اِن جنازوں پر اِس وطن کا حکمران محض آنسو بہا کر یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بہت غمگین ہے۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ جس خنجر سے افلاس کا خون ہو رہا ہے وہ خنجر اُسی کے ہاتھوں میں ہے۔ وائے افسوس کہ ہاتھ بھی اُسی کے ہیں۔ اور آنکھیں بھی اُسی کی۔ اُن ہاتھوں میں پکڑا ہوا خنجر بھی اُسی کا ہے اور اُن آنکھوں میں اُمڈنے والے آنسو بھی اُسی کے۔
قارئین! آپ ہی بتائیں یہ درویشی ہے یا کہ عیاری؟  حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سچ کہا تھا…نا…کہ… اِس کے آنسوئوں کو نہ دیکھو بلکہ اِس کے ہاتھوں کو دیکھو کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم سب جانتے ہیں کہ خنجر کس کے ہاتھ میں ہے۔خون کس کا بہہ رہا ہے؟ اور خون کون بہا رہا ہے۔ وہی ہاں وہی جو لگاتار رو رہا ہے۔وہی جس کی آنکھیں زخم نازک کی طرح نم ہیں۔ وہی جس کے لفظ ہونٹوں سے جُدا۔ اور جس کے جذبوں کی لے پر لرزہ براندام ہیں۔ تجزیہ کار جس کے آنسوئوں کو موضوعِ سخن بنا رہے ہیں اور کچھ قلم فروش اُس کے درد کا ابلاغ کر رہے ہیں…وہ رو رہا ہے یہ ڈھول پیٹ رہے ہیں اور ایسے میں ماہِ رمضان اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ عیدالفطر کے لئے تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ مگر میں سوچ رہا ہوں کہ میرے وطن کے کتنے یتیم، مسکین، لاچار اور قلمکاروں کے بھی بے بس بچے ایسے بھی ہوں گے جو عید کی خوشیاں منانے سے قاصر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اِس عید پر اپنے لاچار طبقے کے لئے خوشیوں کا سامان کر سکیں۔




 

تازہ ترین خبریں