08:28 am
 فیضان عید الفطر

 فیضان عید الفطر

08:28 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
آہ ! فی زمانہ شیطان اپنے اس وار میں کامیاب ہوتا نظر آرہاہے۔ آہ ! صد آہ!!کہ عید کی آمد پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عبادات و حسنات کی کثرت کرکے اللہ عزوجل کازیادہ سے زیادہ شکر ادا کیا جاتامگر افسوس! صدافسوس!اب مسلمان عید سعید کاحقیقی مقصد بھلا بیٹھے ہیں۔ ہائے افسوس ! ا ب توعید منانے کا یہ انداز ہوگیاہے کہ بے ہودہ قسم کی الٹی سیدھی ڈیزائن والے بلکہ معاذاللہ عزوجل جاندار تک کی تصاویر والے بھڑکیلے کپڑے پرنے جاتے ہیں، رقص وسرور کی محفلیں گرم کی جاتی ہیں۔ بے ڈھنگے میلوں ، گندے کھیلوں ، ناچ گانوں اور فلموں ڈراموں کا اہتمام کیا جاتاہے اورجی کھول کر وقت اور دولت کو خلاف سنت و شریعت افعال میں برباد کیا جاتاہے۔ افسوس ! صد ہزار افسوس! ہم اب اس مبارک دن کو کس قدر غلط کاموں میں گزارنے لگے ہیں۔ میرے اسلامی بھائیو! ان خلاف شرع باتوں کے سبب ہوسکتاہے کہ یہ عید سعید ہمارے لیے ’’یوم وعید ‘‘ بن جائے ، للہ! اپنے حال پر رحم کیجئے ! فیشن پرستی اور فضول خرچی سے باز آجائیے! دیکھئے تو سہی ! اللہ عزوجل نے فضول خرچوں کوقرآن پاک میں شیطانوں کا بھائی قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے:۔
 
ترجمہ کنزالایمان :۔ اور فضول نہ اڑا بے شک اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑاناشکرا ہے۔(پ۱۵ سورۃ بنی اسرائیل آیت۲۶،۲۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ؟ فضول خرچی کرنے کی کس قدر مذمت قرآن پاک میں وار ہوئی ہے ۔ یادرکھئے ! ان فضول خرچیوں سے ہرگز ہرگز اللہ عزوجل خوش نہیں ہوتا۔ تو پھر ہم کیوں ان حرکتوں کا ارتکاب کرکے اللہ عزوجل کو ناراض اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کو رنجیدہ کریں۔ یاد رکھئے ! انسان اورحیوان میں جو مابہ الامتیاز (یعنی فرق کرنے والی چیز ) ہے وہ عقل و تدبیر ، دربینی اور دور اندیشی ہے۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خرافات کا ارتکاب کرکے ’’یوم عید‘‘ کو اپنے لیے ’’یوم وعید ‘‘نہ بنائیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عید کے دن غسل کرنا ،نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پرننا اور پاک اورصاف عطر لگانا سنت ہے۔ یہ سنتیں ہمارے ظاہری بدن کی صفائی کیلئے ہیں۔لیکن ہمارے ان صاف ، اجلے اور نئے کپڑوں اور نہائے ہوئے اور خوشبو ملے ہوئے جسم کے ساتھ ساتھ ہماری روح بھی، ہم پر ہمارے ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان خدائے رحمن عزوجل کی محبت و اطاعت اور سرکارمدینہ ، سلطان باقرینہ ، فیص گنجینہ، صاحب معطر پسینہ ، باعث نزول سکینہ ﷺ کی الفت و سنت سے خوب خوب سجی ہوئی ہونی چاہیے۔
سرکار ﷺ کی محبت سے سرشاد دیوانو! سچی بات تویہی ہے کہ عید ان خوش بخت مسلمانوں کیلئے ہے ،جنہوں نے ماہ محترم ، رمضان المعظم کو روزوں ،نمازوں اور دیگر عبادتوں میںگزارا۔تو یہ عید ان کے لئے اللہ عزوجل کی طرف سے مزدوری ملنے کا دن ہے۔ ہمیں تو اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ آہ ! محترم ماہ کا ہم احترام نہ کرسکے۔
عید کے دن لوگ کاشانہ خلافت پرحاضر ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ دروزاہ بند کرکے زار وقطار رو رہے ہیں۔لوگوں نے حیران ہوکر عرض کیا ، یا امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! آج تو عید کا دن ہے جو کہ خوشی منانے کا دن ہے ، خوشی کی جگہ یہ روناکیسا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا،یعنی اے لوگو! یہ عید کا دن ہے اور یہ وعید کا دن بھی۔آج جس کے نماز روزے مقبول ہوگئے ۔ بلاشبہ اس کے لئے عید کا دن ہے ۔ لیکن آج جس کے نماز روزہ کو رد کرکے اس کے منہ پر مار دیا گیاہو اس کے لیے تو آج عید ہی کادن ہے۔ اور میں تو اس خوف سے رورہا ہوں کہ آہ! یعنی مجھے نہیں معلوم کہ میں مقبول ہوا ہوں یا رد کردیا گیا ہوں۔
 اللہ اکبر! عزوجل محبت والو! ذرا سوچئے! خوب غور فرمایئے! وہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جن کا مالک جنت، تاجدار رسالت ﷺ نے اپنی حیات ظاہری ہی میں جنت کی بشارت عنایت فرمادی تھی۔ ان کا روزہ نہ مقبول ہو؟یہ کیسے ہوسکتاہے؟یقینا آپ رضی اللہ عنہ کا روزہ مقبول تھا ، بے شک مقبول تھا ، بلاشبہ مقبول تھا ۔ مگر خوف خدا کا آپ پر کس قد ر غلبہ تھا کہ صر ف یہ سوچ کر تھر ارہے تھے کہ نہ معلوم میری رمضان المبارک کی طاعتیں قبول ہوئی ہیں یا نہیں ۔سبحن للہ عزوجل! عید الفطر کی خوشی مناناجن کا حقیقی حق تھا ان کے خوف وخشیت کا تو یہ عالم ہوا اورہم جیسے نکمے اور باتونی لوگوں کی یہ حالت ہے کہ نیکی کے ن کے نقطے تک تو پرنچ نہیں پاتے اور مگر خوش فہمی کا حال یہ ہے کہ ہم جیسا نیک اور پارسا تو شاید اب کوئی نہیں رہا نہ ہو ۔
حضرت سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ عید کے دن اپنے شہزادے کو پرانی قمیض پرنے دیکھا تو رو پڑے تو بیٹے نے عرض کیا ۔پیارے اباجان ! کیوں رورہے ہیں ؟ فرمایا، میرے لال ! مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب لڑکے تجھے اس قمیض میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائے گا۔ بیٹے نے جواباً عرض کیا ، دل تو اس کا ٹوٹے جو رضائے الہی کو نہ پاسکا یا جس نے ماں یا باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے امید ہے کہ آپ کی رضامندی کے طفیل اللہ تعالی عزوجل بھی مجھ سے راضی ہوگا۔ یہ سن کر حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ نے شہزادے کو گلے لگالیااوار اس کے لیے دعاء کی۔ ان پر اللہ عزوجل کی رحمتیں ہوں۔ ( مکاشفۃ القلوب ص ۳۰۸)
اللہ عزوجل کے مقبول بندوں کی ایک ایک ادا ہمارے لیے موجب صد درس عبرت ہوتی ہے، دیکھئے ہمارے حضور غوث اعظم رضی اللہ کی شان کتنی ارفع واعلی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ ہمارے لیے کیا چیز پیش فرماتے ہیں ؟سنئے اور عبرت حاصل کیجئے۔یعنی ’’لوگ کہہ رہے ہیں، کل عید ہے! کل عید ہے!اور سب خوش ہیں ۔ لیکن میں تو جس دن اس دنیا سے اپنا ایمان محفوظ لے کر گیا، میرے لئے تو وہی دن عید کا دن ہوگا۔‘‘ 
سبحن اللہ !عزوجل سبحن اللہ! عزوجل کیا شان تقوی ہے ۔ اتنی بڑی شان کہ اولیائے کرام رحمہم اللہ کے سرداراور اس قدر تواضع وانکسار! یہ سب کچھ دراصل ہمارے درس کیلئے ہے اورہمیں بتانا مقصود ہے کہ خبردار ایمان کے معاملے میں غفلت نہ کرنا۔ ہر وقت ایمان کی حفاظت کی فکر میں لگے رہنا۔کہیں ایسانہ ہو کہ تمھاری غفلت اور معصیت کے سبب ایمان کی دولت تمھارے ہاتھ سے نکل جائے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عیدکے دن یعنی روز عید ہمارے پیارے آقا ﷺ نے ہمیں غربا و مساکین کا خیال رکھنے کی بھی تعلیم دی اور غریبوں ،یتیموں اور مسکینوں کو بھی اس کوخوشی میں شریک کرنے کیلئے صدقہ فطر کا حکم دیا۔ تاکہ جو اپنی ناداری کے باعث اس روز سعید کی خوشی نہیں منا سکتے ، وہ بھی مناسکیں۔
اے پیارے اللہ ہمیں عید سعید کی خوشیاں سنت کے مطابق منانے کی توفیق عطا فرما۔ اور ہمیں حج شریف اور دیار مدینہ شریف و تاجدار مدینہ ﷺ کی دید کی حقیقی عید بار بار نصیب فرما۔ 
امین بجاہ النبی الامین ﷺ(ماخوزاز فیضان رمضان مکتبہ المدینہ کراچی)
تیری جب کہ دید ہوگی میری عید ہوگی
مرے خواب میںتم آنا مدنی مدینے والے

 

تازہ ترین خبریں