08:30 am
متقین کا نیک انجام

متقین کا نیک انجام

08:30 am

سورئہ طور میںاہل جہنم کے ذکر کے بعد اہل جنت کے انعام و اکرام کا ذکرہے ۔ فرمایا: ’’جومتقین( پرہیز گار) ہیں وہ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی و جہ) سے خوشحال ہیں اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ ‘‘(آیات ۱۷۔۱۸)
 
 اہل تقویٰ کا ٹھکانہ باغہائے جنت ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے ایمان والے ہیں اور جن کا عمل ان کے ایمان کے تابع ہے۔ وہ ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ انہی لوگوںکے لئے دوسرا لفظ متقین آتا ہے۔ قرآن حکیم میں اکثر ذکر ہوتا ہے کہ جنت اہل تقویٰ کے لئے ہے۔ تقویٰ محتاط طرزعمل کا نام ہے۔ یعنی آدمی ہر وقت یہ خیال کرے کہ میں اللہ کی نگاہ میں ہوں، لہٰذا کوئی ایسا کام نہ کروں جس سے وہ ناراض ہوجائے، کیونکہ مجھ سے میرے اعمال کی جوابدہی ہونی ہے۔ تقویٰ ہر شخص کی ضرورت ہے، جو بھی جنت کا طالب ہے۔ تقویٰ کا تقاضا سب مسلمانوں سے ہے۔ یہ تصور کہ کچھ مولوی حضرات تقویٰ اختیار کریں عوام الناس کو تقویٰ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، قطعاً غلط ہے۔ اس غلط فہمی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگوں تک قرآن کا پیغام نہیں پرنچا ۔اگر وہ قرآن پڑھیں تو اس غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ جنت اہل تقوی ہی کے لئے تیار کی گئی ہے۔ وہ وہاں رب کی نعمتوں سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ اور بہت خوش ہوں گے اُن کے لئے سب سے بڑی خوشی کی بات یہ ہو گی کہ ان کے رب نے انہیں عذاب جہنم سے بچا لیا۔ اس احساس سے ان کے اندر اطمینان اور سرور کی کیفیت پیدا ہو گی۔ انہیں کہا جائے گا: ’’اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھائو اور پیو۔‘‘’(آیت ۱۹)
جیسے اہل جہنم سے کہا گیا تھا کہ یہ تمہارے اپنے اعمال ہیں جو تم پر عذاب کی شکل میں مسلط ہیں ، یہاں اہل جنت سے کہا جا رہا ہے کہ جو کچھ انعام و اکرام تم پرہوا ہے یہ تمہارے اپنے اعمال صالحہ کا نتیجہ ہے ۔تم نے دنیا میں ایمان والی زندگی گزاری، ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا، لہٰذا اب یہاں تمہیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ آگے اہل تقویٰ کی جنت میں کیفیت کی ایک جھلک دکھائی جا رہی ہے:’’(اہل جنت) تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ہم ان کا رفیق بنا دیں گے۔‘‘(آیت ۲۰)
آگے اہل ایمان کے لیے ایک خاص بشارت کا ذکر ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ میری اولاد کو بھی خوب سے خوب تر ملے اورہر میدان میں کامیابی ہو۔ سچے اہل ایمان تو اپنی اولاد کی آخرت کے لیے بھی دعا گو ہوتے ہیں،کہ وہ وہاں بھی کامیاب ہو۔ تو اللہ تعالیٰ ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دے گا۔ ان کے گھر والوں کو بھی ان کے ساتھ شامل کردیا جائے گا ۔ فرمایا: ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پرنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے۔ ‘‘(آیت ۲۱)
 اونچے درجے کے اہل ایمان کی اولاد اگر ان کے پیچھے ان کے نقش قدم پر چلی اور ایمان کی حالت میں رہی تو چاہے ان کا وہ مقام و مرتبہ نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے مرتبے کے اعزاز کے طور پر نیچے والوں کو بھی ان کے ساتھ شامل کر دے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کے آبا ء واجداد کا مرتبہ گھٹا کر انہیں اوپر سے نیچے لا کر اولاد سے ملا دیا جائے گا بلکہ اولاد کو بزرگوں کے درجات تک پرنچا دیا جائے گا۔ یہ اللہ کی خاص رحمت اور فضل کا ظہور ہو گا‘ ورنہ جہاں تک ذاتی ذمہ داری اور مسؤلیت کا سوال ہے تو وہ ہر ایک کی اپنی ہو گی۔ ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے کمائی کی ہو گی۔ جس نے اچھی کمائی کی اس کا اچھا انجام ہو گا، اورجس نے بری کمائی کی، گناہ کمائے، حدود اللہ کو توڑا، دنیا کو اپنا مطلوب و مقصود بنایا، اس کا انجام برا ہو گا لیکن کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہو گا۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میرے ساتھ بے انصافی ہوئی۔ یہ تو ہو گا کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے گناہوں کو معاف فرما دے، لیکن یہ نہیں ہو گا کہ کسی بے گناہ کو کوئی سزا مل جائے۔ آگے فرمایا: ’’اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے۔ وہاں وہ ایک دوسرے سے جامِ شراب جھپٹ لیا کریں گے، جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہو گی نہ کوئی گناہ کی بات اور نوجوان خدمت گا ر (جو ایسے ہوں گے) جیسے چھپائے ہوئے موتی، ان کے آس پاس پھریں گے۔‘‘(آیات ۲۲۔۲۴)
 آگے اہل جنت کا ایک مکالمہ ہے : ’’اور ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں گفتگو کریں گے‘ کہیں گے کہ اس سے پرلے ہم اپنے گھر میں (اللہ سے) ڈرتے رہتے تھے تو اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا، اس سے پرلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔ ‘‘(آیات ۲۵۔۲۸)لوگ باہمی گفتگو میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ تمہارا وہ کیا عمل تھا‘ جس کی وجہ سے اللہ نے تمہیں یہ مقام عطا کر دیا اور جہنم سے بچ گئے اور آج جنت میں ہو۔ اُن کاایک مشترک جواب یہ ہو گا کہ ہم اس سے پہلے (یعنی دنیا میں) رہتے ہوئے اس دن سے ڈرا کرتے تھے۔ اسی کا نام تقویٰ ہے۔


دُعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اورآخرت کی دائمی حقیقی کامیابی سے نوازے۔ (آمین)



 

تازہ ترین خبریں