08:31 am
  کرکٹ کی  عالمی  جنگ   

  کرکٹ کی  عالمی  جنگ   

08:31 am

 کر کٹ ورلڈ کپ سے اچھی خبر آئی ہے! پاکستانی ٹیم نے اپنے دوسرے میچ میں ٹورنامنٹ کی سب سے طاقتور سمجھی جانے والی انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دے کے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یہ فتح بین الا قوامی مقابلوں میں گیارہ مسلسل ناکامیوں کے بعد حاصل ہوئی ۔ وارم اپ میچ میں افغانستان جیسی نوآموز ٹیم سے بھی شکست کھائی اور ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ویسٹ انڈیز نے ایک سو پانچ رنز کے قلیل اسکور پر آئوٹ کر کے محض تیرہ اوورز میں ہدف مکمل کر لیا ۔ ورلڈ کپ سے پرلے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کے بعد قوم مایوس ہونے کے ساتھ ساتھ برہم بھی تھی ۔ خدا کا شکر کہ انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف تین سو اڑتالیس رنز بنانے کے بعد ایک سخت مقابلے کے نتیجے میں واضح فتح پاکستان کا مقدر بنی۔ اس فتح سے ٹیم کا اعتماد بحال ہوا ہے اور قوم کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوا ہے ۔ کھیل ہوں یا دیگر قومی امور ہم بحیثیت مجموعی طور پر سطحی رویے اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اب ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں شکست کے خلاف عوامی رد عمل ہی دیکھ لیں ۔ سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک ویڈیو گردش کر رہی ہے ۔ 
 
میچ ختم ہونے کے بعد پاکستانی کھلاڑی جب تماشائیوں کے درمیان سے گذرتے ہوئے ڈریسنگ روم کی جانب جا رہی تھی تو کسی کم ظرف تماشائی نے ویڈیو ریکارڈ کی اور ٹیم کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیئے ۔ اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ویڈیو میں غیر ملکی تماشائی تمیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہارنے والی ٹیم کی رسمی حوصلہ افزائی کے لیے ویل پلیڈ بوائز جیسے جملے کہتے دکھائی دے رہے تھے جبکہ ہمارا کوئی بد تہذیب ہم وطن روایتی بد زبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پردیس میں اپنی ٹیم کی حوصلہ شکنی کر تا رہا ۔ اُس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ کہ بدتہذیبی اور بداخلاقی پر مبنی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تبرک کی طرح پھیلائی گئی ۔ اس کارخیر میں وہ مرد و زن پیش پیش دکھائی دئیے جو اپنے تئیں تعلیم یافتہ ، مہذب اور لبرل ہونے کے زعم میں مبتلا رہتے ہیں ۔ کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کے شائقین سے التماس ہے کہ اپنے جذبات کے اظہار میں اعتدال کو ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔ ہار جیت کھیل کا لازمی حصہ ہے ۔ میدان میں اترنے والے دو فریقوں میں سے ہمیشہ ایک ہی فاتح قرار پاتا ہے۔ ہماری مخالف ٹیمیں بھی میدان میں جھنجھنا چھنکانے کے لیے نہیں بلکہ جیتنے کے لیے قدم رکھتی ہیں ۔ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں ! زندگی موت کا مسئلہ نہ بنائیں ۔ اگر میچ میں شکست ہو بھی گئی تو ٹیم کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے ۔ ایک پرائے ملک کی سرزمین پر اپنی ٹیم کے خلاف گالم گلوچ اور بد زبانی انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے ۔ ورلڈ کپ جیسے اہم بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے لیے برسوں ریاضت اور منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اب ٹورنامنٹ شروع ہو چکا ہے ۔ یہ وقت جملے کسنے ، تضحیک کرنے اور حوصلہ شکنی کرنے کا نہیں ۔ یہ وقت حوصلہ بڑھانے کا ہے۔ انگلینڈ میں کھیلنے والی ٹیم پاکستان کی علمبردار ہے ! اس کی حوصلہ افزائی ہم نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا ؟ جو شائقین گرائونڈ میں میچ دیکھنے جاتے ہیں وہ بھی اس امر کا خصوصی خیال رکھیں کہ کسی نعرے ، جملے یا حرکت سے ٹیم کی حوصلہ شکنی نہ ہو ! کسی روئیے یا اقدام سے پاکستان کا وقار مجروح نہ ہو ۔ خواہ جیتے یا ہارے یہ ہماری ٹیم ہے ۔ یہ پاکستان کی ٹیم ہے ! یہ نامناسب بات ہے کہ میچ جیت لیں تو زمین آسمان کے قلابے ملا دئیے جائیں اور شکست کا سامنا ہو جائے تو تذلیل شروع کر دی جائے۔ ناکامی کے اسباب پر ٹورنامنٹ کے بعد غور کیا جا سکتا ہے۔ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے اور خامیاں دور کرنے کے لیے مشورے یقینا ً دئیے جانے چاہیں ۔ یہ فریضہ تجربہ کار ریٹائرڈ کھلاڑی ہی انجام دے سکتے ہیں ۔ 
ہر شام ٹی وی چینلز پر بھانت بھانت کے مبصرین سطحی گفتگو کر کے ٹیم کی بھلائی نہیں بلکہ بربادی کا سامان پیدا کر رہے ہیں ۔ بلاشبہ ٹورنامنٹ میں عوامی دلچسپی کے پیش نظر میچز پر تبصرے ضرور کیئے جائیں لیکن مبصرین کے انتخاب میں احتیاط اور خوش ذوقی کا مظاہرہ کیا جائے تو بہتر ہو ۔ اکثر چینلز پر ایسے نام نہاد ماہرین تبصرے فرما تے دکھائی دے رہے ہیں جنہوں نے شائد گلی محلے کی سطح پر کبھی ٹیپ بال سے بھی کر کٹ نہیں کھیلی ہوگی۔ سیاسی ٹاک شوز سے پیدا ہونے والے بدتمیزی ، بدزبانی اور جگت بازی کا کلچر اب سپورٹس شوز اور کھیل کے میدانوں میں بھی سرائیت کر رہا ہے ۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کے بعد ٹیم کے خلاف گالم گلوچ پر مبنی کم دورانیے کی ویڈیو اسی شرمناک کلچر کا شاخسانہ ہے۔ دست بستہ گذارش ہے کہ ٹیم اور کھلاڑیوں کی تضحیک سے گریز کریں ۔ یہ کھلاڑی پاکستانی ہیں ۔ ان کے اہل خانہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ ذرا سوچیں کہ اس طرح کی تضحیک آمیز ویڈیوز کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے کیسی تکلیف کا باعث بنتی ہوں گی ۔ وہ پڑھے لکھے جاہل جو سوشل میڈیا پر وقتی واہ واہ کے لیے ایسا مواد پھیلانے کے نشے میں مبتلا ہیں ان سے بھی گذارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں۔ سیاست کے ایوانوں سے پھیلنے والا بد زبانی کا رواج کھیل کے میدانوں میں پروان نہ ہی چڑھے تو بہتر ہے۔ اپنی ٹیم کی کامیابی کی دعا کیجیے۔ انگلینڈ کے خلاف فتح سے امید کے چراغ روشن ہوئے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ کا جنون پاکستان کو متحد کر دیتا ہے۔ جو قوتیں پاکستان کو متحد نہیں دیکھنا چاہتیں وہ کرکٹ جیسے مقبول کھیل پر بھی کئی مرتبہ حملہ کر چکی ہیں ۔ گذشتہ ورلڈ کپ سے قبل ناتجربہ کار پاکستانی کھلاڑیوں کو فکسنگ اسکینڈل میں پھانسا گیا ! لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ کروایا گیا ! مزید پیچھے جائیں تو ننانوے کے ورلڈ کپ کا وہ منظر بھی نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے جب بھارتی چینلز آدھی سکرین پر کارگل میں پاکستان پر گولے داغتی توپیں دکھا رہے تھے اور آدھی سکرین پر پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میچ میں فتح کا منظر دکھا رہے تھے ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ بھارت جیسا بہت بڑے رقبے اور انتہائی چھوٹی سوچ والا ملک ہمارا پڑوسی بھی ہے اور ازلی ابدی دشمن بھی ۔ اس دشمن پڑوسی کی بدولت کھیل کا میدان بھی میدانِ جنگ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یارِ خاص تبریز میاں کا فرمانا ہے کہ کوئی بھی ٹیم ورلڈ کپ جیتے ہماری بلا سے ! بس مظلوم مسلمانوں کا قاتل بھارت یہ عالمی ٹورنامنٹ نہ جیتنے پائے ۔ ہماری خواہش اور دعا یہ ہے کہ کوئی اور نہیں بس پیارا پاکستان ہی فاتح عالم قرار پائے! 

 

 

تازہ ترین خبریں