08:32 am
اجل کافرشتہ

اجل کافرشتہ

08:32 am

جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے تووہ عجیب سے فریب میں مبتلاہوجاتاہے،اونگیاں بونگیاں مارنے لگتاہے،عجیب سے خبط میں پڑجاتاہے۔وہ منظرکے قریب نہیں جاتا،اسے تخیل کے کیمرے سے زوم لگاکرقریب لاتاہے اورپھرپندونصائح شروع کردیتا ہے ۔اس کے بالکل سامنے جوکچھ ہورہاہوا سے نہیں دیکھتا اور جو دورکہیں ہو رہاہواس سے پنجہ آزمائی شروع کر دیتاہے۔اپنے اندرکی دھڑکتی کوٹھی کونہیں ٹٹولتا، دوسروں کے عیب گنوانے لگتا ہے۔ پتا ہو نہ ہو، معلوم ہو نہ ہو‘بس ہر جگہ،ہرمجلس میں اپنی پٹاری کھول کرنیا سنپولیا نچانے لگتاہے ۔بھائی نے ایک دن یہ کہہ دیا کہ باتیں اتنی کرتاہے لیکن وہ نمازکیوں نہیں پڑھتا ؟ توباباجی نے بہت غصے میں اس کابازوتھام کر کہا: تجھے کب سے اورکیوں اس کی نمازکی فکر ہوگئی؟ کیا تیری نمازٹھیک ہوگئی ہے تیری عاقبت سنورگئی ہے جودوسروں کی سوچنے لگاہے، دوسرے کا تو شاید تجھ سے پوچھاجائے نہ پوچھاجائے،تجھ سے تیراتوپوچھا جائے گا ،توکیاتواپنابیڑاپارلگاچکا؟تیری نیاکنارے لگ گئی؟محبت کادریارواں تھاان میں۔
 
ایک جیدعالم دین صرف عالمِ دین ربانی ہی نہیں، باعمل پابند ِشریعت،ہنس مکھااللہ تعالیٰ نے مال ودولت سے بھی نوازاتھا۔خودمسجد بنائی اورجمعہ کا خطبہ دینے بڑی سی لشکارے مارتی گاڑی میں آتے اورہماری چوکڑی کومنتظرپاتے۔کبھی خالی ہاتھ نہیں آئے۔ایک تھیلے میں کھانے پینے کانجانے کیاکچھ سامان لے کرآتے،السلام علیکم ! کیسے ہوتم لوگ واہ واہ آج توسب چمک رہے ہوکہتے ہوئے تھیلامیرے ہاتھ میں تھماتے اورخودمنبرِ رسول ﷺ پررونق افروزہوجاتے۔ بوڑھے تھے لیکن عجیب طاقت تھی ان میں ۔ کچھ دیرمنبرِرسول پربیٹھ کر آنکھیں بند کرلیتے اورپھراپنا عصا لے کر کھڑے  ہوجاتے اورپھرتوایسی قرآت کہ اللہ ہی  اللہ ،آنکھوں کاغسل شروع ہوتا اور پھر آواز آتی! برادرانِ اسلام میری ماں بہنوں اور بیٹیوں اور پھرچل میرے خامے بسم اللہ،سبحان اللہ،الحمدللہ۔ کیسے کیسے نادرونایاب ہیرے تقسیم کرتے تھے۔ 
بہت طویل عرصے تک ہمیں دیالوبابادیتے رہے اورہم اپنی جھولی بھرتے رہے،ظرف کب بھرے گا،نہ جانے کب؟جب دیکھو ایک ہی بات پرزور، اپنی فکرکرنادان ،اپنی فکرکر۔ اسلام خودکو بدلنے کانام ہے۔خودکوتبلیغ کر، خود کو سنو، اپنے قول کودیکھ، اپنے فعل وعمل پرنگاہ رکھ، یہ جواندربیٹھاہوا اژدھا ہے،نفس نام کا، اسے کچل نہیں سکتاتویہ توکرلے کہ اس کے جبڑے پرپائوں رکھ کرکھڑارہ،کبھی مت چوکنا، برباد ہوجائے گا،تباہ ہوجائے گا،کچھ نہیں بچے گاتیرا۔اپنی فکرکرے گاتوسنورے گا۔لوگوں کو کہنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ تیری روشنی اورخوشبوخودبخود پھیلے گیاورایسی پھیلے گی کہ تودنگ رہ جائے گا۔کاٹنانہیں جوڑنا سیکھ ،دوسروں کے عمل پرنہیں اپنی بے عملی پر آنسو بہا، دوسرے کی چنتاچھوڑ خود پردھیان رکھ،بس خود کو بدل،دوسرے تجھے دیکھ کربدل جائیں گے۔ بہت یادآتی ہیں ان کی باتیں۔وہ توچلے گئے لیکن خوشبوبسی ہوئی ہے میرے چاروں طرف ان کی۔
آج بابافریدجی بھی یاد آگئے۔ایک مرید قینچی لے کرحاضرِ خدمت ہوااورکہنے لگا سرکار تحفہ لایاہوں قبول کیجیے اونہال کیجیے ۔ دیکھ کر رنجیدہ  ہوئے اورکہا اتنی وزنی قینچی اٹھا لایا، کیامیں تجھے کاٹنے والالگتاہوں‘مجھے سوئی دھاگہ لاکر دیتاکہ میں جوڑنے کاکام کرتا ہوں۔ ہمارے سارے بابوں نے ایک ہی بات کرکے دکھائی، کبھی کسی کی توہین نہیں کی۔ سدا مسکراتے  رہے۔ کاٹنے سے منع کیا، جوڑنا سکھایا۔ اپنی کٹیامیں درہی نہیں بنایا کہ کبھی بندملے۔سب کیلئے کشادہ دل رہے،  تنگ دلی سے منع فرمایا۔سب کے ساتھ کھایا، گایا اور ناچے۔محبت تھے،محبت دی، نفرت کو بھی محبت کاچولا پہنایااورمحبت بنادیا۔ یارِجانی کہتے تھے،یارِجانی سمجھا بھی۔ جوکہہ دیا نبھا کر دکھایا، کرکے بتایا۔
کس منہ سے نام لوں،میرے آقا ومولا، روشن جبیں ﷺ نے اس بچے کوپیارسے فرمایاگڑمت کھایاکرو۔توبچے کی ماں کہنے لگیں:یہ بات توآپ ﷺکل بھی فرماسکتے تھے ؟تب سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایااورپھرموتی بکھیرے کل تو خود کھایا ہوا تھا، کیسے منع کرتا۔ سرکارﷺ کے  بعد کس کی بات کروں۔ چاروں طرف ہم سب کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔وہ ایساہے فلاں ویساہے۔میں خود کودیکھ ہی نہیں رہاکہ میں کیسا ہوں‘ میرا کیابنے گا! میں کس دھوکے میں پھنس گیا ہوں مجھے اپنادھیان ہی نہیں،بس دوسروں  کی عیب جوئی کرتارہتاہوں اورپھراسے تبلیغ بھی کہتا ہوں۔بندہ مکروفریب،اپنے اندرکی دھڑکتی کوٹھی کوکب دیکھوں گا۔ میں !وقت تو کسی کالحاظ نہیں رکھتا،وہ توکبھی نہ کبھی اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے تمام واقعات کی ایسی  شہادت فراہم کردیتاہے جس سے فرارممکن نہیں!
مجھے نجانے آج کیوں امریکی صدرکلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چھتی سنگھ پورہ مقبوضہ کشمیر کے وہ بے گناہ34سکھ یادآرہے ہیں جنہیں 20 مارچ2000 کو15سے 17دہشتگردوں نے رات کے اندھیرے میں بے رحمی کے ساتھ قتل کردیاتھااور 25 مارچ  2000 کو پانچ بے گناہ کشمیریوں کودہشت گرداور اس واقعے کاذمہ دار قرار دیتے ہوئے پتھری بل میں سیکورٹی فورسز مقابلے میں ماردیا گیا۔ بعدازاں جولائی 2000 کوان مقتولین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے حیدرآباداور مرکزی فرانزک لیبارٹری کولکتہ روانہ کئے گئے جہاں نہ صرف ان کی بے گناہی ثابت ہوگئی بلکہ یہ بھی پتہ چل گیاکہ یہ سب مقامی باشندے تھے جن کوسرحدپارغیر ملکی دہشتگرد قراردیکرعالمی میڈیاکی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی تھی۔ بعدازاں ایک بہت ہی قابل اعتباراین جی او’’موومنٹ اگینسٹ سٹیٹ ریپریشن‘‘  کے تین رکنی کمیٹی نے اس واقعے کی تفتیش کی،انہوں نے بھی اپنی رپورٹ میں ان پانچ بے گناہ کشمیریوں کوبری الذمہ قراردیتے ہوئے اس بہیمانہ خونی واقعے کا ذمہ دار سیکورٹی فورسزکو ٹھہرایااورآج بھارت کی سب سے بڑی عدالت نے بھی بالآخران پانچ معصوم کشمیریوں کوبے گناہ قراردے دیا ہے لیکن ان کوقتل کرنے والوں کیلئے کوئی سزا تجویز نہیں کی کہ’’افسپا‘‘ جیسے غیرانسانی اورجابرقانون نے ان کے ہاتھ پائوں اسی طرح باندھ دیئے ہیں جیسے سیکورٹی فورسز والے قتل کرنے سے پہلے بے گناہ کشمیریوں کی مشکیں کس دیتے ہیں۔42سالہ قانون دان جلیل اندرابی کے بہیمانہ قتل کی طرف نگاہ جاتی ہے کہ جن کی آنکھیں تک نوچ لی گئیں لیکن قاتل یہ بھول گئے کہ جلیل اندرابی توامرہوگئے لیکن ان کی آنکھیں تا قیامت اپنے قاتلوں کوچین سے بیٹھنے نہ دیں گی۔کیاہوا اگر مرکزی تفتیشی بیورونے میجر اوتار کانام مطلوب ترین افرادکی فہرست سے خارج کردیا لیکن اجل کے فرشتے کو یقینا امریکا کے شہرکیلی فورنیامیں میجراوتار کے گھرکاراستہ ڈھونڈ نے  میں ذرہ بھرمشکل پیش نہیں آئے گی۔


 

تازہ ترین خبریں