08:33 am
خوشی اور غم … عید ملن

خوشی اور غم … عید ملن

08:33 am

عید کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی والدہ محترمہ مغفورہ کی قبر پر حاضری دینے کی نیت سے قبرستان پہنچا تو وہاں سینکڑوں مسلمان اپنے پیاروں کی قبور پر فاتحہ خوانی میں مصروف نظر آئے۔ خوشی اور غمی کے ان ملے جلے لمحات میں آقاء و مولیٰ ﷺ کی غلامی اختیار کرنے پر دل مزید اطمینان اور راحت سے بھر گیا یہ ’’حسن‘‘ صرف اسلام کا ہی ہے کہ جو موت کا جام پی کر قبر کے پاتال میں اتر جانے والے انسانوں کے حقوق کا بھی مکمل ضامن ہے۔عید الفطر ہو‘ عید الاضحی ہو‘ جمعتہ المبارک ہو‘ شب برات ہو یا شب معراج رات‘ دن میں پنجگانہ نمازیں ہوں‘ تہجد ہو ‘ نماز چاشت ہو‘ اشراق ہوں یا اوالبین کے نوافل‘ عمرہ ہو یا حج بیت اللہ کی سعادت‘ مسلمان‘ انتقال کے بعد قبرستانوں کے مکین بن جانے والے اپنے  پیاروں کو ہر جگہ یاد رکھتا ہے‘ جو مسلمان مردوں کے حقوق کو نہیں بھولتا‘ وہ بھلا زندہ انسانوں کے حقوق کیسے بھول سکتا ہے؟ اس بات پر غور کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
 
نماز ظہر ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر نکلا تو پیغام موصول ہوا کہ ہمارے مخلص دوست قاری  افتخار حسین عارفی کے بزرگ والد محترم کا انتقال ہوچکا ہے یہ پیغام پڑھ کر زبان پر بے اختیار جاری ہوگیا ‘ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ اور دماغ کی سکرین پر یہ جملے جگمگانے لگے کہ کہیں عید کی خوشیاں اور کہیں جدائیوں کے غم‘ ممتاز مذہبی اسکالر اور عزیز دوست مفتی مجیب الرحمن سے عید ملن ہوا تو پتہ چلا کہ 29 رمضان کی شام افطاری سے قبل ہمارے  مشترکہ دوست مولانا شیر محمد مغل کا 13 سالہ لخت جگر اڈیالہ روڈ راولپنڈی  ایک ٹریفک حادثے کا شکار بن کر اللہ کے حضور پہنچ چکا ہے۔مفتی مجیب الرحمن کے ہمراہ تعزیت کے لئے پہنچے تو   مولانا شیر محمد مغل شدید غم کی کیفیت کے باوجود صبرواستقامت کی تصویربنے  نظر آئے‘ عید کے دن13 سالہ معصوم لخت جگر کا جنازہ جس گھر سے اٹھا ہوگا اس گھر والوں کی دلی کیفیت کا عالم کیا ہوگا؟
ماں نے تو پہلے سے اس کے لئے عید کے نئے کپڑے تیار کروائے تھے‘ جوتے خریدے تھے مگر نیا جوڑا دھرے کا دھرا رہ گیا اور معصوم حافظ قرآن لخت جگر سفید کفن میں لپٹا منوں مٹی تلے جااترا‘ شاید قرآن نے اسی لئے فرمایا ہے کہ صبر کیا کرو کیونکہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی ذات ہوتی ہے۔  مولانا اشرف علی جمعیت اہلسنت کے امیر اور جامعہ تعلیم القرآن راجہ بازار کے مہتمم ہیں‘ یہ وہی عظیم تعلیم القرآن ہے کہ چند سال قبل دہشت گردوں نے جسے ایک درجن سے زائد علماء اور طلباء سمیت جلا ڈالا تھا‘ پھر مولانا اشرف علی کے جوان سالہ صاحبزادے مفتی امان اللہ کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا تھا‘ ان ظالمانہ واقعات کے ذریعے نفرت کے سوداگر راولپنڈی کے امن کو خونریزی میں تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر درجنوں علماء‘ طلباء اور جوان سالہ عالم بیٹے کا جنازہ اٹھانے کے باوجود جان پر کھیل کر بھی جڑواں شہروں کے امن کو برقرار رکھا۔
 شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ؒ کے خانوادے پر پہنچے تو جانشین شیخ القرآن نے استقبال کیا‘ چونکہ یہ عید ملن تھا اس لئے گفتگو ساری آف دی ریکارڈ رہی‘ ہاں البتہ ’’مولانا‘‘ نے بزرگانہ شفقت کا حق ادا کرتے ہوئے دعائوں کے  ساتھ  عیدی بھی عطا کی‘ نماز عصر خانوادہ شیخ القرآن میں مولانا اشرف علی کی امامت میں ادا کرنے کے بعد ہم عالم اسلام کی معروف روحانی شخصیت پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا عزیز الرحمان ہزاروی کی خدمت میں ان کی خانقاہ دارالعلوم زکریا پہنچے تو مغرب کی جماعت ہوچکی تھی‘ امامت کے مصلیٰ پر‘ حضرت پیر عزیز الرحمن تشریف فرما جبکہ ان کے ارد گرد سینکڑوں نمازی اور متوسلین ایسے بیٹھے ہوئے تھے ‘ جیسے شمع کے گرد پروانے‘  یا چاند کے گرد بادل‘ ہم نے اپنی نماز مغرب ادا کی اور عشاق کی اس محفل میں سرجھکائے شریک ہوگئے‘ جہاں حضرت پیر عزیز الرحمن عشاق رسول ﷺ سے مخاطب تھے … آپ فرما رہے تھے کہ جس نے عید کی خوشیوں میں بھی اللہ کو شامل رکھا اس کی خوشیاں حقیقی اوردائمی ہو جائیں گی۔
 اولیاء اللہ دلوں پر محنت کرتے ہیں تاکہ دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیں … ’’ذکر اللہ‘‘ کی محفلوں کا گھروں‘ دفتروں‘ دوکانوں اور مارکیٹوں میں بھی اہتمام کیا کرو  کیونکہ اللہ کا ذکر مردہ دلوں میں بھی زندگی کی حرارت دوڑا دینے کا سبب بنتا ہے۔  عید کا مطلب یہ نہیں کہ باقی پورا سال تلاوت قرآن اور دیگر عبادات کو چھٹی کروا دی جائے بلکہ عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ہمیں یہ عزم کرنا ہے کہ اب ہم پورا سال ذکر و اذکار‘ تلاوت‘ تہجد‘ پنجگانہ نمازوں‘ نماز اوالبین‘ چاشت‘ اشراق کے ساتھ ساتھ والدین‘ بہن بھائیوں‘ رشتہ داروں‘ محلہ  داروں اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کو بھی یقینی بنانا ہے۔
حضرت پیر عزیز  الرحمن نے بڑے درد مندانہ لہجے میں فرمایا کہ زندگی کا لطف مال‘ عہدے یا دیگر دنیاوی مناصب میں نہیں ہے بلکہ زندگی کا اصل لطیف ’’ذکر اللہ‘‘ میں ہے کیونکہ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’آگاہ رہو! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے ‘‘(سورۃ الرعد ) مجلس ذکر ختم ہوئی … ہم ’’مصافحے‘‘ کے لئے آگے بڑھے‘ حضرت کی جیسے ہی ہم پر نظر پڑی تو آپ کانورانی چہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھل اٹھا۔بڑی محبت سے گلے لگایا اور پھر مصلیٰ چھوڑ کر حجرہ خاص میں ساتھ لے گئے جہاں پر انتہائی قیمتی پندو نصائح فرمائے‘ حال ‘احوال دریافت فرمایا‘ ملک کی نازک صورتحال میں بہتری لانے کے لئے اللہ  کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت پر زور دیا‘ اکابرین اسلام اور مشاہیر اسلام کے کارنامے بیان فرما کر ان سے سبق حاصل کرنے کی تلقین فرمائی اور اپنی تازہ  ترین تصنیف ’’ذکر اللہ کے حلقے اور جنت کے باغات‘‘ فضائل درود شریف‘ صلوٰۃ تنجینا یعنی درود نجات اور ملک کی موجودہ خطرناک صورتحال سے نجات اور استحکام پاکستان کے لئے مدنی وظیفہ اپنے مبارک ہاتھوں سے عنایت فرمایا۔
ہم حضرت پیر عزیز الرحمن ہزاروی سے پرخلوص دعائوں اور قیمتی ترین کتابوں کی عیدی وصول کرکے واپس ہوئے تو اپنی خوش قسمتی پر نازاں اور فرحاں تھے‘ جنہیں  وقت کے اکابر علماء ‘ صلحاء اور پیر عزیز الرحمن جیسے اولیاء کی بے پناہ محبتیں اور شفقتیں حاصل ہوں … ان کا ’’قلم ‘‘ سیم وزر‘ اور وقت کے فرعونوں کے دربا میں بھلا جھک بھی کیسے سکتاہے؟ڈالر‘ پائونڈز‘ ہیرے جواہرات اور اسلحے سے بندھی ہوئی طاغوتی طاقتیں شائد اسی لئے اس خاکسار کے قلم کی زد میں رہتی ہیں۔
 
 

تازہ ترین خبریں