08:34 am
ڈاکٹر انور سجاد بھی چلے گئے

ڈاکٹر انور سجاد بھی چلے گئے

08:34 am

٭عید سے اگلے روز اچانک اندوہناک خبر آ گئی کہ معروف ادیب و ثقافتی رہنما ڈاکٹر انور سجاد انتقال کر گئے۔ عمر تقریباً 84 برس تھی۔ ایک عرصے سے علیل تھے۔ سخت مالی دشواری کا سامنا تھا۔ انہوں نے لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے ڈراما، موسیقی، مصوری اور دوسرے فنون کے بے شمار فن کاروں کی مستقل بھاری امداد اور ماہانہ وظائف جاری کئے، مگر خود جس تنگدستی کے حال میں آخری وقت گزرا، اس کا ذکر بہت بوجھل ہے۔ ڈاکٹر صاحب میرے اچھے دوست تھے، ان کے جانے سے بہت بڑا ہمہ فن باکمال شخص چلا گیا!عالمی سطح پر معروف ممتاز افسانہ وناول نگار ڈراما نگار!ٹیلیویژن اور سٹیج کے متعدد ڈرامے لکھے۔ ان میں کام بھی کیا۔ ان کے والد سید دلاور حسین اور وہ خود بھی بہت معروف میڈیکل ڈاکٹر تھے۔والد صاحب کی وفات کے بعد طویل عرصہ تک چونا منڈی اندرون لاہور میں آبائی کلینک چلایا۔بچپن اندرون لاہور میں ہی گزرا۔ یہ اوسط سے بھی کم حیثیت والے لوگوں کا علاقہ تھا۔بیشتر مریضوں سے فیس نہیں لیتے تھے ۔پورانام سید سجاد انور علی بخاری تھاجو ڈاکٹر انور سجاد میں تبدیل ہو گیا۔ بہت زندہ دل تھے ۔ روزانہ کچھ وقت پاک ٹی ہائوس میں گزارتے۔ انتظار حسین ،مظفر علی سید،ناصر کاظمی اور دوسرے معروف ادیبوں سے نشستیں رہتیں۔ کچھ عرصہ پہلے کراچی چلے گئے ۔وہاں کی آب وہوا راس نہ آئی۔ سانس کے ساتھ فالج کا مرض بھی لاحق ہوگیا ۔واپس لاہور آگئے ۔ مالی حالت بہت خراب ہوگئی۔ شدید مالی خستہ حالی کے شکار ہوئے تو طویل وقت کے بعد صوبائی حکومت نے ایک دفعہ معمولی مالی امداد دے کر خاموشی اختیار کر لی۔ ڈاکٹر صاحب بہت نفیس طبع، بہت شائستہ مزاج انسان تھے۔بہت سی علمی وادبی کتابیں بھی لکھیں ۔ ضیاء الحق کے جبرو ستم کے عہد میں افسانوں اور ناولوں میں تجریدی وعلامتی اسلوب کے ذریعے معاشرے کی زبوں حالی کی بھر پور ترجمانی کی۔ خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے!اور پھر یوں ہوتا ہے کہ لوگ ہم سے دور چلے جاتے ہیں تو ہمیں خیال آتا ہے کہ جانے والے تو بہت اچھے لوگ تھے، وہ ہم سے کچھ بھی تو نہ مانگتے تھے سوائے محبت کے چند بولوں کے!اورہم وہ بھی نہ دے سکے!
 
٭پختونخوا اور باقی تین صوبوں کی الگ الگ دو عیدیں گزر گئیں۔ چاند کے دوبار درشن ہوئے۔ وزارت سائنس کے فلکیات کے’’ مفتی‘‘ فواد چودھری کا ہجری کیلنڈر منہ دیکھتا رہ گیا۔ شاعروں نے چاند کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ ابن انشاء کا شعر بہت مشہور ہے کہ ’’کل چودھویں کا چاند تھا، شب بھر رہا چرچا تیرا…کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرہ تِرا!‘‘ اب پختونخوا کے’’ فلکیاتی‘‘ دانش ور وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کھلا اعتراف کیا ہے کہ واقعی’’ غلطی‘‘ ہو گئی، صوبائی حکومت ایک روزہ کھا گئی اور 28 دنوں کی عید منا بیٹھی۔ اب عید کے تین دن بعد قضا والا روزہ رکھا جائے گا۔ کچھ دینی حلقوں نے سخت موقف اختیار کیا ہے کہ پختونخواہ کی حکومت نے وفاقی حکومت سے کھلی بغاوت کی، وہ تو سیاسی مسئلہ ہے مگر عید کے معاملے میں لاکھوں افراد کو گمراہ کیا۔ یہ معمولی بات نہیں، اس کا کفارہ کون اور کیسے ادا کرے گا؟ دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ہمیشہ دو عیدیں منائی جاتی ہیں۔ 
٭عید کے روز، بلکہ جمعرات کے مقررہ دن بھی، جیل میں نوازشریف سے اہل خانہ ملاقات نہ کر سکے۔ سکیورٹی کے مختلف خدشات کے حوالے سے جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ اعلان بھی ہوا کہ قیدیوں کے لئے آنے والے کھانوں کو ٹیسٹ کر کے قیدیوں کو دیئے جائیں گے۔ معلوم نہیں ہو سکا کہ کھانوں کے ٹیسٹ کس طرح کئے گئے؟ بہر حال جیل حکام کی موج ہو گئی۔ قسم کے قسم کے کھانے چکھے گئے ہوں گے! چکھنے کے ذکر پر ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک بادشاہ نے شاہی خانساماں کو مرغ روسٹ کرنے کا حکم دیا۔ مرغ تیار ہو گیا تو’سکیورٹی‘ کے خیال سے خانساماں نے مرغ کی ایک ٹانگ تھوڑی سی چکھی۔ بہت مزیدار تھی۔ تھوڑی سی اور چکھی، چکھتے چکھتے پوری ٹانگ کھا گیا۔ بادشاہ کے سامنے کھانا پیش ہوا۔ اس نے پوچھا کہ دوسری ٹانگ کہاں ہے؟ خانساماں نے کہا کہ حضور، یہ ایک ٹانگ والا مرغا تھا؟ اگلے روز بادشاہ سڑک پر جا رہا تھا۔ خانساماں ساتھ تھا۔ راستے میں ایک مرغا ایک ٹانگ پر کھڑا تھا۔ خانساماں نے عرض کیا کہ حضور! ایک ٹانگ والا مرغا دیکھ لیجئے۔ بادشاہ نے زور سے ہشت کی، مرغ نے دوسری ٹانگ بھی نکال لی۔ خانساماںبولا، حضور! آپ اُس مرغے کو بھی ہشت کرتے تو وہ بھی دوسری ٹانگ نکال لیتا۔
 قارئین کرام! ہماری معیشت بری طرح لنگڑا رہی ہے، اس کی ٹانگوں کو کیا ہوا؟ اس المیہ کا کیا محاسبہ ہوا؟ کاغذوں میں مقدمے، عدالتوں میں پیشیاں! 9 ماہ ہو گئے، کوئی نتیجہ؟ کوئی سزا؟ سنتے سنتے کان پک گئے، آج فلاں شخص فلاں عدالت میں پیش ہو گا۔ پیشی ہوتی ہے اور پھربار بار وہی خبر آ جاتی ہے کہ مزید پیشی اگلے ماہ پر ملتوی کر دی گئی ہے!
٭شیخ رشید عمرہ کر کے واپس آ گئے۔ گزشتہ کالم میں اکبر الٰہ آبادی کا شعر چھپا تھا کہ ’’شیخ صاحب مکہ گئے، مدینہ گئے، کربلا گئے، جیسے گئے تھے ویسے ہی پھر پھرا کے آ گئے!‘‘ ایک محترم قاری نے توجہ دلائی ہے کہ شیخ صاحب خالی ہاتھ واپس نہیں آئے، ایک اونچی سفیدٹوپی لے کر آئے ہیں جو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پہن رکھی تھی اور اس سے ان کی وِگ چھپ گئی تھی۔ اس قاری نے عجیب سا مسئلہ اٹھا دیا ہے کہ کیا وِگ کے ساتھ عمرہ ہو سکتا ہے؟ یہ نازک سا دینی مسئلہ ہے، علمائے کرام اس کا مناسب جواب دے سکتے ہیں!
٭صدر مملکت نے اسلام آباد کی مرکزی فیصل مسجد میں عید کی نماز پڑھی۔ تقریباً 25 گاڑیوں کے پروٹوکول کے ساتھ مسجد میںگئے۔ صدر کی حفاظت کے لئے مسجد کے اردگرد بھی سکیورٹی والوں کا سخت محاصرہ تھا۔ صدر نے نماز پڑھی، پروٹوکول اور سکیورٹی والے کئی درجن اہلکار ڈیوٹی کے باعث نماز نہ پڑھ سکے۔ خبروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں اپنے گھر میں اور وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں وزیراعلیٰ ہائوس میں نماز ادا کی۔ سینکڑوں ایکڑوں پر پھیلے ہوئے ایوان صدر میں اچھی بڑی مسجد موجود ہے۔ صدر مملکت وہاں بھی نماز پڑھ سکتے تھے مگر!خدا تعالیٰ کے حضور جاہ و جلال اور کروفر کا مظاہرہ! یہ جو سکیورٹی کی ڈیوٹی والے بے شمار اہلکار نماز ادا کرنے سے محروم رہ گئے، اس کا کفارہ کون ادا کرے گا!
٭لندن میں سینکڑوں سکھوں نے 6جون 1984ء کوامرتسر کی مرکزی سکھ عبادت گاہ ’’گولڈن ٹمپل‘‘ پر بھارتی فوج کے حملے کی مذمت کے لئے زبردست مظاہرہ کیا اور خالصتان کے قیام کا مطالبہ کیا۔ خالصتان کے مطالبے کو دبانے کے لئے 35 سال قبل 6 جون کو بھارتی فوج نے گولڈن ٹمپل کے باہر اور اندر اندھا دھند گولہ باری کی۔ اس سے سینکڑوں سکھ ہلاک ہو گئے۔ گوردوارے کے ایک حصے میں آگ لگ گئی اس سے سکھوں کا بے شمار مذہبی و تاریخی ریکارڈ اور کتابیں جل گئیں۔ بھارتی فوج نے بہت سی کتابیں لوٹ کر دہلی کے وزیراعظم ہائوس پہنچا دیں۔ گوردوارے کے اندر خالصتان تحریک کا مرکزی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ بھی ہلاک ہو گیا۔ اسے گوردوارے کے اندر ہی دفنا دیا گیا۔ سکھ قیادت نے اسے شہید قرار دے رکھا ہے۔ گوردوارے کے اندر داخل ہوتے ہی دائیں طرف ایک کونے میں اس کی قبر موجود ہے۔ اس پر ایک بڑے کتبے پر خالصتان تحریک اور بھنڈرانوالہ کی زندگی کے حالات درج ہیں۔ ہر سال 6 جون کو گوردوارے میں اس خونریز واقعہ کی یاد میںبہت بڑی پرسوز تقریب منعقد ہوتی ہے۔ ایک بار امرتسر میں موجود ہونے پر مجھے اس تقریب میں شرکت کا اتفاق ہو چکا ہے۔ بہت سخت سکیورٹی ہوتی ہے۔ اس ہولناک واقعہ کے انتقام کیلئے وزیراعظم اندرا گاندھی کے ایک سکھ محافظ نے فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔ اس پر ملک بھر میںسکھوں کے خلاف خونریز ہنگامے شروع ہو گئے۔ ہندوئوں نے صرف دہلی میں تین ہزار سکھوں کو قتل کر دیا بہت سے زخمی ہوئے۔

 

تازہ ترین خبریں