10:39 am
انتہا پسند ہندو ازم‘پاٹیل سے وزیر داخلہ امیت شاہ تک

انتہا پسند ہندو ازم‘پاٹیل سے وزیر داخلہ امیت شاہ تک

10:39 am

صحافی امرتا سنگھ کا موقف ہے ماضی میں معاشی ایجنڈا کے ذریعے اقتدار پانے والا مودی اس مرتبہ ہندو نیشنل ازم‘ نفرت‘ پاکستان دشمنی کا ایجنڈا لیکر میدان میں آیا۔ اس بار مودی کو انتخابی تازہ ہوا پلوامہ واقعہ سے ملی۔ (جوکہ خود بھارت کا اپنا ڈرامہ تھا) یعنی مودی نے پاکستان کا خوف اور ڈر اتنا زیادہ پیدا کر دیا کہ اس خوف اور ڈر نے ہندنوئوں کو نفسیاتی طور پر مجبور کر دیا کہ پاکستان سے بچنے کے لئے مودی ہی کو اقتدار دینا چاہیے۔ یہ خوف اور ڈر سیاسی ہتھیار ہیں مگر انتخابی ہتھیار ان کو مودی نے بنا دیا ہے۔ ویسے یہی ہتھیار اسلام‘ مسلمانوں کے حوالے سے مغربی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتیں بھی انتخابی جیت کے لئے اپناتی ہیں۔
 
تقسیم برصغیر کے موقع پر گاندھی اور نہرو‘ وزیر داخلہ سردار پاٹیل سے کچھ کچھ الگ سوچ رکھتے تھے۔ بظاہر گاندھی مذہبی ہندو تو تھا مگر انسانیت اور انصاف کاکچھ لحاظ پاس بھی کرتا تھا جبکہ نہرو سیکولر اور سوشلزم کی بنیاد بھی رکھتا ایسا فیصلہ ساز تھا جس نے جاگیرداروں کا فوراً خاتمہ کرنا ضروری سمجھا۔ شائد اس کی ایک وجہ مسلمان جاگیرداروں کا وجود بھی تھا۔ موجودہ حکمران ہندو ازم فلسفہ کا اصلی بانی سردار ولبھ بھائی پاٹیل تھا۔
کلدیپ نیئر کے مطابق جب گاندھی نے زور دیا کہ پاکستان کو اثاثوں میں اس کا حصہ دو۔  ورنہ میں بھوک ہڑتال کروں گا تو سردار پاٹیل کھل کر سامنے آگئے وہ کھلی کچہریوں میں کھلم کھلا گاندھی کو برا بھلا کہتے اور ان تقریروں میں وہ کہتے ’’اب اس بڈھے کو مر جانا چاہیے‘‘ نتھو رام جو آر ایس ایس کا سرگرم رکن تھا‘ نے گاندھی کو قتل کرکے وہ کام کر ڈالا جو پاکستان کے حوالے سے انصاف کا مطالبہ کرنے والے گاندھی کے مر جانے کے حوالے سے پاٹیل (وزیر داخلہ) اکثر کہتاتھا۔ گویا پاکستان کے وجود کا خوف‘ آر ایس ایس اور وزیر داخلہ میں موجود تھا اور پاکستان کو اثاثوں سے محروم رکھنے کے لئے گاندھی کا قتل اسی مذہبی طور پر سخت گیر ہندو  وزیر داخلہ نے کروا دیا تھا۔
گجرات میں وزیراعظم مودی نے اسی ولبھ بھائی پاٹیل کا75 ارب روپے سے عظیم ترین مجسمہ بنوایا تھا۔ اس بت نے تمام دنیا کے بتوں کی لمبائی کو اپنی ساخت میں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ گویا یہ بت مذہبی تعصب‘ نفرت اور تشدد کا پرچار ہے۔
گجرات کا خطہ بہت دلچسپ تاریخی مطالعہ کا سامان رکھتا ہے۔ محمد علی جناح‘ گاندھی‘ سردار ولبھ بھائی پاٹیل اور آج کا وزیراعظم مودی اور اس کا وزیر داخلہ امیت شاہ یہ سب گجراتی بتائے جاتے ہیں جبکہ ایل کے ایڈوانی سندھ سے ہجرت کرکے انڈیا گیا تھا۔
ایل کے ایڈوانی جس نے کانگرس کے مدمقابل ہندو ازم کے سیاسی اقتدار کے لئے پاکستان اور مسلمان دشمنی کو فروغ دیا‘ بابری مسجد کا انہدام کروایا‘ تشدد پر مبنی ہندو ازم کو فروغ دیتی روایت کو نیا فروغ دیا ‘ مسلمان بادشاہوں کے عہد کو بھی متنازعہ بنایا ۔ اس سب کے باوجود بھی وزیراعظم نہ بن سکا بلکہ شاعر سے واجپائی ہی وزیراعظم بنے‘ مگر پھر بھی ایڈوانی کو وزیر داخلہ بنانا پڑا تھا ۔ جب صدر جنرل پرویز مشرف ‘واجپائی سے ملاقات اور مصالحت کرنے انڈیا گئے تو بظاہر وزیراعظم واجپائی صدر مشرف سے مصالحت اور معاہدے پر تیار ہوگئے تھے مگر ماضی کے سردار پاٹیل کی روح اور سوچ لیے ہوئے وزیرد اخلہ ایڈوانی نے اس متوقع معاہدے کو سبوتاژ کر دیاتھا۔
ذرا غور کریں کہ سردار ولبھ بھائی پاٹیل سخت گیر مذہبی ہندو تھا۔ سیکولر نہرو کو خود وزیراعظم بنا کر اس سخت گیر ہندو کو وزیر داخلہ بنانا پڑا تھا۔ اسی طرح واجپائی کو وزیراعظم بن کر سخت گیر اور مسلمان دشمن ایل کے ایڈوانی کو وزیرداخلہ بنانا پڑا تھا۔ سردار  پاٹیل نے نرم دل ہندو گاندھی کو قتل کروا کر پاکستان کو پیغام دیا جبکہ وزیرد اخلہ ایل کے ایڈوانی نے وزیرا عظم واجپائی اور صدر جنرل مشرف میں ممکن ہوچکے معاہدے کو سبوتاژ کرکے پاکستان اور مسلمانوں کو واضح پیغام دے دیا تھا۔ اب امیت شاہ جو سردار پاٹیل اور ایل کے ایڈوانی کی انتہا پسند مذہبی سوچ اور روح کے نئے پیکر ہیں ‘ وزیر داخلہ بنائے گئے ہیں ان کی اصل شخصیت کیا ہے؟ افتخار گیلانی‘ بھارتی صحافی لکھتے ہیں ’’مودی اور امیت شاہ کی جوڑی کا رشتہ30 سال پرانا ہے۔2001 ء میں مودی کے گجرات کا وزیر اعلیٰ بننے کی راہ کو آسان کرنے کیلئے امیت شاہ نے پارٹی میں ان کے مخالفین ہرین پانڈیا اور کیشو بائی پاٹل کو ٹھکانے لگانے کا اہم رول ادا کیا تھا۔ 
قومی تفتیشی بیورو نے تو  امیت شاہ کو سہراب الدین اور اس کی اہلیہ کوثر کے قتل  کیس میں ملزم ٹھہرایا تھا۔19سالہ عشرت  جہاں کے اغوا اور بعد میں قتل کے الزام میں بھی ان کے خلاف تفتیش جاری رہی تھی۔2013 ء میں ایک ریکارڈنگ میڈیا میں آئی تھی جس میں وہ ایک دوشیزہ کا فون ٹیپ کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کی ہدایات دے رہے تھے کیونہ وہ دوشیزہ ان کے باس مودی کو پسند آگئی تھی۔2014 ء کے عام انتخابات میں مودی نے  شاہ کو اترپردیش کا انچارج بنا دیا تھا جہاں اس نے بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں جیت کر پیش کر دی تھیں اور مودی کے اقتدار کا راستہ ہموار کر دیا تھا۔ اس کامیابی کے بعد شاہ کو پارٹی کا صدر بنا دیا گیا تھا اور گجرات میں وزیر اعلیٰ مودی کے عہد میں جو مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا اس عہد میں وزیرداخلہ کیا امیت شاہ ہی تھے؟

 

تازہ ترین خبریں