10:39 am
ٹرمپ کومواخذہ کاخطرہ

ٹرمپ کومواخذہ کاخطرہ

10:39 am

امریکی کانگرس کے ایوانِ زیریں ایوانِ نمائندگان کی جانب سے   ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیا جانا طے ہوچکا ہے ۔ اب صرف موزوں موقع کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ  ٹرمپ نے محکمہ انصاف کا مکمل اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی اور یہ عمل انصاف کی راہ میں دیوار کھڑی کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے قوانین و قواعد سے انحراف اور بدعنوانی کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اس کے باوجود وہ دوسری مدت کیلئے بھی  منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، خواہ اس کیلئے انہیں آئین ہی کو داوؤپر لگانا پڑے۔ری پبلکن پارٹی اس وقت بظاہر کسی سازش کا شکار ہے۔ ٹرمپ نے عملاً سینیٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اس تصور کا تمسخر اڑانے سے بھی باز نہیں آرہے کہ کانگرس درحقیقت حکومتی نظام میں برابر کی حصہ دار ہے۔ 
 
اس صورت حال میں سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے سربراہ مِچ مکونیل اور سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین لِنزے گراہم فی الحقیقت  ٹرمپ کے اجازت و اختیار یافتہ نمائندوں کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہ ہو، ٹرمپ اور ان کے ساتھی ناجائز ذرائع سے حاصل کیے جانے والے اثاثوں اور غیر ضروری اختیارات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایسے بہت سے اقدامات کر رہے ہیں، جو حکومتی نظام کیلئیانتہائی خرابی کا باعث ہیں۔  ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف شواہد جمع ہوتے جارہے ہیں، انبار بلند ہوتا جارہا ہے۔
امریکی اخبارات نے ایسی خبریں شائع کرنا شروع کردی ہیں، جو اگر عام حالات میں شائع ہوں تو کانگرس کی جانب سے صدرکے فوری مواخذے کی بنیاد بنیں اور صدرکو اس منصب سے فی الفور ہٹادیا جائے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی اوور سائٹ اینڈ ریفارم کمیٹی نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انتہائی حساس سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی سعودی عرب کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔ یہ اقدام امریکی خفیہ اداروں کی طرف سے اعتراضات کے باوجود کیا گیا۔ یہ سودا  ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے ابتدائی دنوں میں ان کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن نے کرانے کی کوشش کی، جن کا اس کمپنی سے مفاد وابستہ تھا جو یہ سودا کر رہی تھی۔ مائیکل فلن کو دو دیگر مقدمات میں بھی ممکنہ سزا کا سامنا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی ایوان  میں سعودی عرب سے خفیہ نیوکلیئر ڈیل کے حوالے سے اب بھی مشاورت جاری ہے۔ ایف بی آئی کے سابق عبوری سربراہ اینڈریو میک کیب نے متعدد انٹرویوز میں بتایا  کہ انہوں نے 2017 ء کے موسم بہار میں کانگرس کو بتایا تھا کہ ان کے پاس جو ٹھوس شواہد موجود ہیں ان کی روشنی میں اس امر کی تحقیقات کی جانی چاہیے کہ ٹرمپ روسی ایجنٹ ہیں یا نہیں۔ جو کچھ کہا اینڈریو میک کیب نے کہا، وہی کچھ اِس سے قبل خصوصی قانونی مشیر رابرٹ مولر نے بھی کہا تھا۔
 اینڈریو میک کیب نے حال ہی میں دی  تھریٹ : ہاؤ ایف بی آئی پروٹیکٹز امریکہ اِن دی ایج آف ٹریرر اینڈ ٹرمپ ‘‘کے عنوان سے کتاب لکھی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جب بتایا گیا کہ شمالی کوریا کی طرف سے نیوکلیئر میزائل داغے جانے کا خطرہ زور پکڑ رہا ہے تو  ٹرمپ نے گفتگو کا رخ کسی اور جانب موڑتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا ایسا کچھ نہیں کر رہا کیونکہ مجھے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن نے بتایا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کا تجزیہ اور اندازہ غلط ہے اور جو کچھ بھی وہ شمالی کوریا کے نیوکلیئر میزائل پروگرام کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ محض مذاق ہے، اور کچھ نہیں۔
نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق  ٹرمپ نے اٹارنی جنرل میتھیو وٹیکر سے کہا ہے کہ وہ ان کے سابق وکیل مائیکل کوہن کی جانب سے صدارتی انتخاب سے قبل ان دو خواتین کو دیے جانے والے زرِ تلافی سے متعلق تحقیقات کا رخ موڑیں جنہوں نے  ٹرمپ پر افیئر کا الزام عائد کیا تھا۔ ٹرمپ کو اس معاملے میں انتہائی وفادار وکیل کی ضرورت تھی۔ مائیکل کوہن نے اس حوالے سے کانگرس کے سامنے جھوٹ بولا، جس پر انہیں تین سال کی سزائے قید کا سامنا ہے،یہ قید جلد شروع ہوگی۔    ( جار ی ہے)

تازہ ترین خبریں