10:40 am
آزاد کشمیر کی سیر و سیاحت

آزاد کشمیر کی سیر و سیاحت

10:40 am

5ہزار سال قدیم یونیورسٹی شاردہ کے کھنڈرات، قلعے ، کورئوں اور پانڈئوں ، منگولوں اور مغلوں کی گزرگاہیں، دلفریب باغات ، جنگلات اور پگڈنڈیاں، آبشاریں، قلعے، آثار قدیمہ کا خزانہ۔عید الفطر کی چھٹیوں میں کئی لاکھ سیاح اندرون ملک  سے کشمیر پہنچے ہیں۔کشمیر بلا شبہ دنیا میںجنت  بے نظیر ہے۔آج جون میںیہاں جنوری جیسی فضا اور موسم ہے۔کشمیر کا  ایک خوبصورت ترین حصہ بھارت کے قبضے میں ہے۔دوسرا حصہ، آزاد کشمیر اور تیسرا ، گلگت بلتستان ہے۔ چوتھا، چین کے زیر کنٹرول ہے۔یہ سب خوبصورتی کے شاہکار ہیں۔ آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے ریاست کو گلگت بلتستان سے جوڑنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ ریاست میں پی پی پی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام سے دوستانہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کی۔آزاد کشمیر کے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروںمیں ان کے لئے کوٹہ مختص کیا۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر کوبراستہ گلگت بلتستان چین سے جوڑنے کے لئے ایک اہم شاہراہ نیلم ایکسپریس وے اور شونٹھر ٹنل تعمیر کرنے کا اعلان کیا ۔اس پر فوری کام شروع نہ کیا گیا۔  وادی لیپا ٹنل کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ اگر عمران خان حکومت نے اہم منصوبوں کی تکمیل میں دلچسپی لی اور ترقی کو سیاست سے الگ رکھا تو یہ شاہراہ وادی نیلم کی ترقی اور سیاحت کے فروغ ہی نہیں بلکہ اس خطے کی ترقی کا باعث بنے گی۔ ڈوگرہ مہاراجوں کے دور میں قدیم راستے کشمیر کو وسط ایشیاء ، ایران سے ملاتے تھے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومتیں ہیں جو خطے کی ترقی اور آزادکشمیر سے تعلقات پر خصوصی توجہ دیں تو یہاں کی تقدیر بدل جائے گی۔ 
عید الفطر کی چھٹیاں گزارنے کئی لاکھ سیاحوں نے وادی نیلم کا رخ کیا ہے۔ چلہانہ چیک پوسٹ پرعید کے تین ایام اور ہفتہ کو بھی گاڑیوں کی قطاریں وادی نیلم کی طرف لگی ہیں۔ ہزار گاڑیوں کی انٹری عید کے تین ایام میں ہوئی ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود لوگ پر امید ہیں۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز ی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔بعض ایسے کاروباری حضرات جن کا اس وادی سے تعلق نہیں ۔ ان کے بارے میں شکایات ہیں کہ وہ سیاحوںکی میزبانی اور سہولت سے زیادہ مال کمانے پر توجہ دیتے ہیں۔ ان کے خلاف مقامی انتظامیہ سرگرم ہو گئی ہے۔انتظامیہ کو اس سلسلے میں سخت کارروائی کرنا چاہیئے۔ پہلے اطلاعات تھیں کہ انٹری پوائنٹس پر سیاحوں سے فیس وصول کی جا رہی ہے مگر بعد میں یہ فیس ختم کر کے مناسب فیصلہ کیا گیا۔تا ہم ٹیکس کی لالچ میں بکریوں، دنبوں کے ریورڈ آزاد کشمیر میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے کئی حادثات بھی ہو چکے ہیں مگر حکومت نے کوئی توجہ نہ دی۔ ملکی سیاحوں کی آج پہلی ترجیح وادی نیلم ہے۔اس بار خیبر سے بھی ہزاروں لوگ وادی نیلم جا رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے غیر ملکی سیاحوں کا رخ بھی اس طرف موڑا جائے۔اگر پانچ کلو میٹر کی سرحدی پٹی میں غیر ملکیوں کے داخلہ ممنوع ہونے کی شرط رکھی گئی تو یہاں کوئی نہ آسکے گا۔ کیوں کہ زیادہ تر علاقہ پانچ کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر سیز فائر لائن پر واقع ہے۔ آزاد کشمیر کے دیگر سیاحتی مقامات وادی جہلم،لیپہ،پیر چناسی، بنجوسہ، راولاکوٹ، سدھن گلی وغیرہ کی اپنی زبردست اہمیت ہے ۔ وادی نیلم میں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے ابلتے چشمے،آبشاریں،پھول پودے، دماغ کو معطر کر دینے والی وادیاں، دلفریب قدرتی مناظر،آسمان سے باتیں کرتے بلند و بالا پہاڑ، جھرنے، ندی نالے، ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیاں، قدرتی پھول اور لذیذ پھل سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ اب تو راستے بہتر ہیں۔ 
شاہراہ کو اچھا تعمیر کیا گیا مگر نکاسی آب کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی۔ اس لئے جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے۔ ہوٹل اور ٹینٹ ویلج  قائم ہیں۔ گیسٹ ہائوسزلا تعداد ہیں۔ آپ اپنی گاڑی میں اسلام آباد سے براستہ مری، کوہالہ ، دھیر کوٹ، باغ،گنگا چوٹی، مظفر آباد سے ہوتے ہوئے پیر چناسی، وادی جہلم اور وادی  نیلم کی سیر کو نکل سکتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میںلاکھوں سیاح نیلم آئے۔ وادی کی سیاحت کا یہی موسم ہے۔ مئی تا ستمبر۔ سیاح ٹریکنگ بھی کر سکتے ہیں تا ہم موبائل سروس صرف ایس کام کی ہے‘ دیگر موبائل سروسز صرف نوسیری نیلم جہلم پروجیکٹ تک ہی کام کرتی ہیں۔ایڈونچر ٹورازم ، بوٹنگ بھی ہو سکتی ہے۔آپ سرما میں بھی یہاں برف پوش پہاڑوں پر سکیٹنگ اور برفانی کھیلوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ 
مری، سوات، ناران، کاغان جیسے خوبصورت مقامات کی اپنی دلکش اہمیت ہے۔ سیاح تعطیلات سیکڑوں کلو میٹر پر پھیلی وادی نیلم میں گزارکر انہیں یاد گار بنا رہے ہیں۔ یہاں آ کر تحریک آزاد ی کشمیر اور اس کے متاثرین کا بھی پتہ چلتا ہے۔ دریائے نیلم کے سامنے مقبوضہ کشمیرکی آبادی بھارتی فوج نے قید کر رکھی ہے۔ یہ پورا علاقہ محصور ہے جو بھی یہاں آتا ہے کشمیر کی آزادی کے لئے تڑپ لئے واپس ہوتا ہے۔ خاص طور پر چلہانہ ٹیٹوال اور کیرن میں مقبوضہ کشمیر کی آبادی سامنے نظر آتی ہے۔آزاد کشمیر حکومت کو وادی نیلم کے جنگلات ، جڑی بوٹیوں ، قیمتی اور انمول پتھروں سے آمدن ہوتی ہے۔ اس آمدن میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ سیاحت پر خصوصی توجہ دے کر یہاں سیاحوں کے لئے رہائش، خوراک معقول نرخوں پر فراہم کی جا سکتی ہے۔ تا کہ یہ لوگ بار بار یہاں آئیں۔ ٹورازم پولیس قائم کرنے کا فیصلہ معقول ہے۔ اس پر بھی چیک ایند بیلنس ضروری ہے۔یہ وادی ریاست کی ترقی میں سونے کے انڈے دینے والی مرغی بن سکتی ہے مگر اس مرغی کو ایک بار ہی ذبح کر کے سارے انڈے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاحوں کا استقبال، ان کے لئے معلوماتی کائونٹرز، علاقہ کی تاریخ، اشیاء کی معقول قیمت پر دستیابی ضروری ہے۔ علاقہ کے عوام تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ اچھے میزبان ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاحوں کو معزز مہمانوں کی طرح عزت دینے سے ہی یہ وادی ٹورازم کو ایک صنعت کے طور پر متعارف کرا سکتی ہے۔ یہاں کے ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان، ٹینٹ ویلجز کے منتظمین نیز ہر کوئی اپنی خدمات پیش کر سکتا ہے۔ یا د رہے ،جہاںسیاحوں کو لوٹا جاتا ہے، ان کی عزت اور رہنمائی نہیں کی جاتی ، وہ علاقے خوبصورت ہونے کے باوجود سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتے بلکہ ان کے بارے میں منفی تاثر عام ہوتا ہے۔ 
 سیاحت کو منافع بخش انڈسٹری بنانا ہے تو سیاحوں کی سہولیات اور آرام کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ ٹورازم پولیس  تشکیل دینے کے بعد اسے  نیلم اور دیگر مقامات پر تعینات کرنے سے معقول بندوبست ہو گا۔میں نے ان کالموں میں 2015ء میں ٹورازم پولیس کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔ پانچ سال بعد اس طرف توجہ دی گئی  جس کا خیر مقدم ہے۔یہاں سول انتظامیہ متحرک ہو۔ جگہ جگہ شکایات اور تجاویز بکس رکھے جائیں، شکایات یا تجاویزپر فوری کارروائی ٹورازم پولیس کی کوئیک ریسپانس فورس کرے  تو مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔  صرف کوہالہ کو کشمیر قرار دے کر سیاحوں کے ساتھ مذاق نہ کرنے دیا جائے۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور جیسے شہروں میں آزاد کشمیر ٹورازم محکمہ کے خصوصی کائونٹرز کھولنے کی ضرورت ہے۔ہوائی اڈوں، ریلوے سٹیشنوں، لاری اڈوں، اہم چوراہوں پر کائونٹرز  نیز مری، کوہالہ، مظفر آباد  اور دیگر انٹری پوائنٹس پرمتحرک  ٹورسٹ سنٹرز قائم کئے جائیں۔سرکاری گیسٹ ہائوسز پر سفارشی لوگوں کو  قبضہ نہ جمانے دیا جائے۔قومی ترقی کا جذبہ اور خلوص ہو تو ہرکام نتیجہ خیز ثابت ہو گا۔

 

تازہ ترین خبریں