10:41 am
حضرت سیدناعمرفاروقؓ اور عدلیہ کاوقار

حضرت سیدناعمرفاروقؓ اور عدلیہ کاوقار

10:41 am

 جمہوری حکومت کا اصلی زیور یہ ہے کہ بادشاہ ہر قسم کے حقوق میں عام آدمیوں کے ساتھ برابری رکھتا ہو یعنی کسی قانون کے اثر سے مستثنیٰ نہ ہو، ملک کی آمدنی میں سے ضروریات زندگی سے زیادہ نہ لے سکے، عام معاشرت میں اس کی حاکمانہ حیثیت کا کچھ لحاظ نہ کیا جائے، اس کے اختیارات محدود ہوں،ہر شخص کو اس کے قابل اعتراض امور پر نکتہ چینی کا حق حاصل ہو۔ یہ تمام امور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اس درجے تک پہنچے تھے کہ اس سے زیادہ ممکن نہ تھے اور جو کچھ تھا خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریق عمل کی بدولت ہوا تھا انہوں نے متعدد موقعوں پر ظاہر کر دیا تھا کہ حکومت کے لحاظ سے ان کی کیا حیثیت ہے  اور ان کے کیا اختیارات ہیں ایک موقع پر انہوں نے اس کے متعلق جو تقریر کی تھی اس کے بعض  فقرے اس موقع پرآب زر سے  لکھنے کے قابل ہیں: ’’مجھ کو تمہارے مال(یعنی بیت المال) میں اس قدر حق ہے جتنا یتیم کے مربی کو یتیم کے مال میں۔ اگر میں دولت مند ہوں گا تو کچھ نہ لوں گا اور ضرورت پڑے گی تو دستور کے موافق کھانے کے لیے لوں گا ۔ میرے اوپر تم لوگوں کے متعدد حقوق ہیں جس کا تم کو مجھ سے مواخذہ کرنا چاہیے۔ ایک یہ کہ ملک کا خراج اور مال غنیمت بیجا طور سے نہ جمع کیا جائے ۔ ایک یہ کہ جب میرے ہاتھ میں خراج اورغنیمت آئے تو بیجا طور سے خرچ نہ ہونے پائے،ایک یہ کہ میں تمہارے روزینے بڑھادوں اور سرحدوں کو محفوظ رکھوں ۔اور ایک یہ کہ تم کوخطروں میں نہ ڈالوں‘‘
 
ایک موقع پر ایک شخص نے کئی بار حضرت عمررضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اتق اللّٰہ یا عمر یعنی ’’اے عمر اللہ سے ڈر‘‘حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کو روکا اور کہا کہ بس بہت ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں ،اسے کہنے دو اگر یہ لوگ نہ کہیں تو یہ بے مصرف ہیں اور ہم لوگ نہ مانیں تو ہم۔
ان باتوں کا یہ اثر تھا کہ خلافت اور حکومت کے اختیارات اور حدود تمام لوگوں پر ظاہر ہوگئے تھے اور شخصی شوکت اور اقتدار کا تصور دلوں سے جاتا رہا تھا معاذبن جبل ؓ نے رومیوں کی سفارت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق جو تقریر کی تھی وہ درحقیقت حقوق وانصاف کی اصل تصویر ہے اورحقوق وانصاف کی حقیقت آج بھی اس سے واضح تر اور صحیح ترنہیں بیان کی جا سکتی۔
آپ نے قاعدہ مقرر کیا کہ جو شخص دولت مند اور معززنہ ہو قاضی مقرر نہ ہونے پائے۔معززہونااس لیے ضروری قراردیا کیونکہ کمزورحیثیت کاآدمی عدل وانصاف میں اس درجہ کی رعایت نہیں کرسکے گاجوشریعت میں مطلوب ہے اوردولت مندہونااس لیے ضروری قراردیا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گورنر کو جو فرمان لکھا اس میں اس قاعدے کی وجہ یہ بیان کی کہ’’دولت مند رشوت کی طرف راغب نہ ہوگا اور معزز آدمی پر فیصلہ کرنے میں کسی رعب وداب کا اثر نہ ہوگا‘‘
ایک اہم اصول آپ نے یہ مقررکیاکہ امیر وغریب ،شریف اور ذیل سب ہم رُتبہ سمجھے جائیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس اصول پرعمل درآمدکا اس قدر اہتمام تھا کہ اس کے تجربہ اور امتحان کے لیے متعد ددفعہ خود عدالت میں فریق مقدمہ بن کر گئے۔ ایک دفعہ  حضرت عمرؓ میں اور حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ میں کچھ نزاع تھی۔حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں مقدمہ دائر کیا ۔ حضرت عمرؓ عام آدمی کی حیثیت سے حاضر عدالت ہوئے حضرت زیدؓ آپ کے ساتھ دوسرے فریق کی نسبت خاص تعظیم سے پیش آئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تمہارا پہلا ظلم ہے اوریہ کہہ کرمدعی فریق حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے برابر بیٹھ گئے۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دعویٰ سے انکار تھا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قاعدے کے موافق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قسم لینی چاہی لیکن حضرت زیدؓنے ان کے رتبے کاپاس کرکے حضر ت ابی بن کعبؓ سے درخواست کی کہ امیرالمومنین کوقسم سے معاف رکھو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اِس طرف داری پر نہایت رنجیدہ ہوئے اورحضرت زیدؓ کی طرف مخاطب ہو کر کہا ’’جب تک تمہارے نزدیک ایک عام آدمی عمررضی اللہ عنہ کے برابر نہ ہو تم منصب قضا کے قابل نہیں سمجھے جا سکتے‘‘۔
اسی طرح ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے ایک شخص سے پسندکی شرط پرگھوڑاخریدااورامتحان کے لئے ایک سوارکودیاگھوڑاسواری میں چوٹ کھاکرداغی ہوگیا حضرت عمرؓ نے اس کوگھوڑاواپس کرناچاہاگھوڑے کے مالک نے انکارکردیااس پرنزاع ہوئی اورشریح ثالث مقررہوئے انہوں نے یہ فیصلہ دیاکہ گھوڑے کے مالک سے اجازت لے کرسواری کی گئی تھی توگھوڑا واپس کیاجاسکتاہے ورنہ نہیں ۔حضرت عمرؓ نے کہاحق یہی ہے اوراسی بناپرانہیں کوفہ کاقاضی مقررکردیا اوریہی شخص آگے چل قاضی شُریح کے نام سے تاریخ میںمشہورہوئے۔
سب سے بڑی چیز جس نے ان کی حکومت کو مقبول عام بنایا اور جس کی وجہ سے اہل عرب جیسے غیوربھی اُن کے سخت احکام کو گوارا کر لیتے تھے وہ یہی تھی کہ آپؓ کا عدل وانصاف ہمیشہ بے لاگ رہا جس میں دوست و دشمن کی کچھ تمیز نہ تھی ممکن تھا کہ لوگ اس بات سے ناراض ہوتے کہ وہ جرائم کی پاداش میں کسی کی عظمت وشان کا مطلق پاس نہیں کرتے ،لیکن جب وہ دیکھتے تھے کہ خاص اپنی آل والاد اور عزیز و اقارب کے ساتھ بھی ان کا یہی برتائو ہے تو لوگوں کو صبر آجاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے بیٹے ابوشحمہ نے جب شراب پی توخوداپنے ہاتھ سے 80کوڑے مارے حتی کہ اسی سے وہ بے چارے انتقال کرگئے ۔لیکن آپ داددیجئے مرادرسول حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عدل وانصاف کوجوغیروں کے لیے جس طرح بے لچک تھااپنوں کے لیے بھی اس پرعمل درآمدمیں کوئی کوتاہی نہ تھی۔جناب فاروق اعظم ؓ نے عدل وانصاف کے پیمانے کوجس نہج پرپہنچایااسی کاکمال تھاکہ 22 لاکھ مربع میل جوپاکستان سے کئی گنا بڑا رقبہ بنتاہے وہاں کے تمام باشندے امن وسکون سے زندگی گزاررہے تھے آج بھی اگرمسلم حکمران انہی کے طرزعدالت کو اختیار کرلیں اورعدلیہ کووہ وقاربحال کردیں جوفاروق اعظمؓ نے اسے دیااوراپنے مفادات کی خاطرعدلیہ کوکھلونانہ بنائیں تویقین جانیے چندہی دنوں میں ظلم وستم کی چکی میں پستی اورسرمایہ داروں ، وڈیروں، جاگیرداروں اور دیگر ظالموں کے ہاتھوں سسکتی انسانیت معراج کمال کوپہنچ سکتی ہے اورہمارے مسلم ممالک امن وانصاف کاگہوارہ بن سکتے ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں