10:42 am
علامہ محمد اقبالؒ  کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

10:42 am

وفاقی وزیر سائنسی امور فواد چودھری  کا کہنا ہے کہ پاکستان بنانے والے قائدین مذہبی لوگ نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی راہنمائو ں کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار ہے۔ باقی تمام باتوں سے قطع نظر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کا ایک خطاب پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے 9 فروری 1932ء  کو بادشاہی مسجد لاہور میں عید الفطر کے اجتماع میں ارشاد فرمایا تھا اور انجمن اسلامیہ لاہور نے اسے چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس خطبہ کا متن عبد الواحد معینی اور عبد اللہ قریشی کے مرتب کردہ مقالات اقبال سے لیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بانیان پاکستان کی مذہبیت اور تحریک پاکستان کے حوالہ سے ان کے دینی مقاصد کا معیار اور دائرہ کیا تھا۔ خدا کرے کہ ہم علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی ؒجناح کے خطبات و بیانات کو سنجیدگی کے ساتھ پڑھیں اور ان سے اپنی قومی پالیسیوں میں راہنمائی حاصل کرنے کی کوئی عملی سبیل پیدا کریں، آمین یا رب العالمین۔ 
 
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔ لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں۔ تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے۔
یہی ارشادِ خداوندی ہے جس کی تعمیل میں آپ نے ماہِ رمضان کا پورا مہینہ روزے رکھے اور اس اطاعت الہٰی کی توفیق پانے کی خوشی میں آج بحیثیت قوم خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لانے کے لیے جمع ہوئے۔  بیشک مسلم کی عید اور اس کی خوشی اگر کچھ ہے تو یہ  کہ وہ اطاعتِ حق یعنی عبدیت کے فرائض کی بجا آوری میں پورا نکلے۔ اور قومیں بھی خوشی کے تیوہار مناتی ہیں مگر سوائے مسلمانوں کے اور کون سی قوم ہے جو خدائے پاک کی فرمانبرداری میں پورا اترنے  کی عید مناتی ہو؟
مئورخین کے بیان کے مطابق  سنہ 2 ہجری میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے، صدقہ عید الفطر کا حکم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سال جاری فرمایا، حضورؐ  نے پہلے ایک خطبہ دیا جس میں اس صدقہ کے فضائل بیان فرمائے پھر صدقہ کا حکم دیا، عید الفطر کی نماز باجماعت عیدگاہ میں اسی سال ادا فرمائی، سنہ 2  ہجری سے پہلے عید کی نماز نہیں ہوتی تھی۔
اسلام کے ارکان یعنی توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ جب نبی امی کی زبانِ پاک سے خالقِ اکبر نے بندوں کی اصلاح و فلاح کے لیے ہدایت فرمائے تو مقصود یہ تھا کہ ان کی پابندی سے ’’مسلم بحیثیت‘‘ فرد وہ انسان بن سکے  جسے وحی خداوندی ’’احسن التقویم‘‘ کے نام سے تعبیر کرتی ہے اور’’ملتِ اسلامیہ وہ ‘‘ملت بن  جائے جو قرآن پاک کے الفاظ کے مطابق دنیا کی بہترین امت ہو اور اپنے تمام معاملات میں اعتدال اور میانہ روی کے اصول کو سامنے رکھنے والی ہو۔ اسلام کا ہر رکن انسانی زندگی کی صحیح نشوونما کے لیے اپنے اندر ہزارہا ظاہری اور باطنی مصلحتیں رکھتا ہے۔ مجھے اس وقت صرف اسی ایک رکن کی حقیقت کے متعلق آپ سے دو ایک باتیں کہنی ہیں جسے صوم کہتے ہیں اور جس کی پابندی کی توفیق  کے شکرانے میں آج آپ عید منا رہے ہیں۔ روزے پہلی امتوں پر بھی فرض  تھے گو ان کی تعداد وہ نہ ہو جو ہمارے روزوں کی ہے اور فرض اس لیے قرار دئیے گئے  کہ انسان پرہیزگاری کی راہ اختیار کرے۔ 
خدا نے فرمایا : اے ایمان والو! تم  پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے  تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔ گویا روزہ انسان کو پرہیزگاری کی راہ پر چلاتا ہے، اس سے جسم اور جان دونوں تزکیہ پاتے ہیں۔ یہ خیال کہ روزہ ایک انفرادی عبادت ہے، صحیح نہیں بلکہ ظاہر و باطن کی صفائی کا یہ طریق، یہ ضبطِ نفس، یہ حیوانی خواہشوں کو اپنے بس میں رکھنے کا نظام اپنے اندر ملت کی تمام اقتصادی اور معاشرتی زندگی کی اصلاح کے مقاصد پوشیدہ رکھتا ہے۔ وہ فائدے جو ایک ’’فرد کو  روزہ رکھنے سے حاصل ہوتے ہیں، اس صورت میں بھی ہو سکتے تھے کہ روزے بجائے مسلسل ایک مہینہ رکھنے کے کبھی کبھی رکھ لیے جاتے، یا بجائے رمضان  میں رکھنے کے سال کے اور مہینوں میں رکھ لیے جاتے۔ اگر محض فرد کی اصلاح اور اس کی روحانی نشوونما پیشِ نظر ہوتی تو بیشک یہ ٹھیک تھا، لیکن فرد کے علاوہ تمام ‘‘ملت کے اقتصادی اور معاشرتی تزکیہ کی غرض بھی شارعِ برحق کے سامنے تھی۔
آج کی عید ’’ عید الفطر کہلاتی ہے، پیغمبر خدا نے جب عید کے لیے عیدگاہ میں اکٹھا ہونے کا حکم دیا تو ساتھ ہی صدقہ عیدالفطر ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ تعجب نہیں کہ عیدکا دن مقرر کرنے کی اصل غرض ہی شارع علیہ الصلوٰۃ کے نزدیک صدقہ عید الفطر کا جاری کرنا ہو۔ حق یہ ہے کہ زکوٰۃ اور اصولِ تقسیم وراثت کے بعد تیسرا طریق اقتصادی اور معاشرتی مساوات قائم کرنے کا جو اسلام نے تجویز کیا‘‘صدقات کا تھا، اور ان صدقات میں سب سے بڑھ کر صدقہ فطر کا، اس لیے   کہ یہ صدقہ ایک مقررہ دن پر تمام قوم کو ادا کرنا ہوتا ہے۔
رمضان کا مہینہ آپ نے اِس اہتمام  سے بسر کیا ہے کہ کھانے پینے کے اوقات کی پابندی سیکھ لی، اپنی صحت درست کر لی، آیندہ گیارہ مہینے کئی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے قابل اپنے آپ کو بنا لیا، کفایت شعاری سیکھی، رزق کی قدر و قیمت سیکھی۔ یہ سب ذاتی فائدے تھے۔ صیام کا قومی اور ملی فائدہ یہ ہے کہ صاحبِ توفیق مسلمانوں کے دل میں اپنی قوم کے مفلس اور محروم افراد کی عملی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو اور صدقہ فطر ادا کرنے سے قوم میں ایک گونہ اقتصادی اور معاشرتی مساوات قائم ہو۔
حکم یہ ہے کہ عید کی نماز میں شرکت سے پہلے ہر صاحبِ توفیق مسلمان صدقہ فطر ادا کر کے عیدگاہ میں آئے۔ اس سے مقصود یہ نہیں کہ اقتصادی اور معاشرتی مساوات صرف ایک آدھ دن کے لیے قائم ہو جائے بلکہ ایک مہینہ کا متواتر ضبطِ نفس تم کو اِس لیے سکھایا گیا ہے کہ تم اس اقتصادی اور معاشرتی مساوات کو قائم رکھنے کی کوشش تمام سال کرتے رہو۔
باقی رہا یہ امر کہ روزے ماہِ رمضان کے ساتھ ہی کیوں مختص کیے جائیں۔ سو واضح رہنا چاہیے کہ اسلام نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اسرار کو مدِنظر رکھ کر صیام کے زمانی تسلسل کو ضروری سمجھا ہے۔ اس تسلسل کے لیے وقت کی تعیین لازم تھی اور چونکہ اسلام کا اصلی مقصود انسانوں کو احکامِ الہی کی فرمانبرداری میں پختہ کرنا تھا، اس لیے صیام کو اِس مہینہ کے ساتھ مختص کیا گیا جس میں احکامِ الہی کا نزول شروع ہوا تھا۔ بالفاظِ دیگر یوں کہو کہ مسلمانوں کو ہر سال پورا مہینہ کامل تذکیہ نفس کے ساتھ نزولِ قرآنِ حکیم کی سالگرہ منانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ احکامِ الہٰی کی حرمت و تقدیس ہمیشہ مدِنظر رہے اور نمازِ تراویح پر کاربند ہو کر قوم کے ہر فرد کو اجتماعی حیات کا قانون عملاً ازبر ہو جائے۔    ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں