10:43 am
چھ فوجی اہلکار شہید اور مٹھائی!!

چھ فوجی اہلکار شہید اور مٹھائی!!

10:43 am

٭چھ فوجی افسر و جوان شہیدO مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے چار مزید کشمیری شہید کر دیئے۔ واہگہ، سیالکوٹ، گنڈا سنگھ بارڈر پر پاکستان رینجرز کو مٹھائی پیش کی!O پرسوں بجٹ آ رہا ہےO بھارت اسرائیل سے 100 سیٹلائٹ سپائس بم خریدے گا، فی بم چھ کروڑ 46 لاکھ روپے O ایودھیا میں رام چندر کا 736 فٹ بلند مجسمہ بنانے کا اعلان (مینار پاکستان 234 فٹ) سے تین گنا سے زیادہ! O شہباز شریف کی واپسی O وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پھر بھارتی وزیراعظم کو مذاکرات کی پیش کش O امریکہ نے بھارت کے ساتھ تجارت کا رعائتی استثنا ختم کر دیا۔
 
٭پاکستان کی فوجی گاڑی پر ’خرکمر‘ کے مقام پر بارودی سرنگ کے ذریعے حملہ۔ تین فوجی افسر ایک جوان شہید، بلوچستان میں ایف سی کی گاڑی پر حملہ، دو فوجی شہید۔ تفصیلات خبروں کے صفحہ پر موجود ہیں۔ قومی اسمبلی میں پشتین حقوق تحریک کے رکن محسن داوڑ (اس وقت جیل میں) نے چند روز قبل وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ وزیرستان سے کوئی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا! پھر بلاول زرداری کے محسن داوڑ کے حق میں بیانات ’’محسن داوڑ کیسے فوجی چوکی پر حملہ کر سکتا ہے؟ محسن داوڑ اور اس کے ساتھی علی وزیر کو اسمبلی میں لایا جائے!!‘‘ بلاول کی ہم نوائی مریم نواز نے بھی کی۔ اسمبلی میں بات کہنے کی پوری آزادی ہوتی ہے۔ وہاں آ کر محسن داوڑ اور علی وزیر پاکستان کے خلاف جو کچھ بھی کہیں گے اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ مگر یہ تقریریں فوری طور پر، خاص طور پر بھارتی میڈیا میں نشر ہونے لگیں گی۔ تو کیا بلاول یہی کچھ چاہتے ہیں؟ برخوردار کے والد پورا منہ کھول کر فوجی جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے اور کراچی سے طورخم تک پورے ملک کو بند کرنے کی کھلی دھمکی دے چکے ہیں۔ باپ پر پُوت، پِتا پر گھوڑا!! بلاول نے ’خرکمر‘ کی فوجی چوکی پر شرپسندوں کے حملہ پر بھی تین دنوںکے بعد رسمی افسوس کا اظہار کیا تھا۔ تا دم تحریر بلاول کی چھ اہم فوجی اہلکاروں کی شہادت پر کوئی رسمی افسوس سامنے نہیں آیا تھا۔ شائد ’اجازت‘ ملنے میں دیر ہو رہی ہو!! مگر کیا فوج وزیرستان اور بلوچستان میں نہائت قیمتی جانوں کے نقصان پر خاموش رہے گی؟ دل پر بہت بوجھ ہے۔ تفصیل میں جانا مشکل ہو رہا ہے۔
٭پرسوں بجٹ آ رہا ہے بلکہ آ چکا ہے! ایک ایک تفصیل چھپ چکی ہے۔ صرف آخری وقت کے لئے ٹیکسوں کے ہیر پھیر کی خبریں رہ جائیں گی۔ عجیب حکومت! عجیب وزارت خزانہ! خزانے کے غیر منتخب مشیر حفیظ شیخ اور عبدالرزاق دائود بعض ٹیکسوں کے بارے میں آپس میں لڑ رہے ہیں۔ پہلی بار بجٹ سے کئی روز پہلے اس کی ساری اہم تفصیلات باہر گھوم رہی ہیں۔ہر بات کا باوا آدم ہی الٹا ہے! بجٹ کا ایک راز بھی باہر نکل جائے تو سٹاک ایکس چینج اور غیر ملکی سرمایہ کاری اپ سَیٹ ہو سکتی ہے، بڑے بڑے تجارتی سَودے رک جاتے ہیں اور یہاں! کوئی راز باقی نہیں رہ گیا سارے راز میڈیا کے ہاتھوں عام ہو چکے ہیں۔ بجٹ آنے میں ایک دن باقی رہ گیا ہے۔ خدا خیر کرے! یہ بھی نئی روائت کہ ماضی میں ہمیشہ بجٹ ہفتے کی شام کو پیش کیا جاتا تھا، اگلے روز سٹاک ایکس چینج، مارکیٹوں اور بنکوں میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی اور تمام فریقوں کو غوروخوض کے لئے ایک مکمل دن مل جاتا تھا۔ اس بار بجٹ منگل کے روز آ رہا ہے! پتہ نہیں کیا مصلحت ہے؟
٭بھارتی فوج نے عید کے روز مقبوضہ کشمیر میں چار مزید کشمیری افراد شہید کر دیئے اور اسی روز بھارتی فورس نے واہگہ، سیالکوٹ اور گنڈا سنگھ بارڈر پر پاکستان رینجرز کو مٹھائی کی ٹوکریاں پیش کیں! پتہ نہیں اس مٹھائی کے فرانزک ٹیسٹ کرائے گئے یا نہیں؟
٭رام رام کے بارے میں بھارتی میڈیا کی ایک خبر! یو پی کے انتہا پسند مسلمان دشمن وزیراعلیٰ یوگی ادیتی ناتھ نے کہا ہے کہ نریندر مودی نے ایوتھیا میں رام مندر کے نام پر بھارت کا الیکشن جیتا ہے۔یوگی ادیتی نے یہ اعلان بھی کیا کہ ایودھیا کے پاس دریائے ساریو کے کنارے رام چندر کا 221 میٹر (736 فٹ) بلند مجسمہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ لاہور کا ’مینار پاکستان‘ 234 فٹ بلند ہے۔ رام چندر کا مجسمہ مینار پاکستان سے بھی تین گنا سے زیادہ بلند ہو گا۔ بھارت میں اس وقت بلند ترین مجسمہ گجرات میں سردار پٹیل (مسلمانوں کا کٹڑ دشمن) کا ہے جو تقریباً 500فٹ بلند ہے۔
٭بھارت کی ہی ایک اور خبر! نریندر مودی نے اسرائیل سے 100 سپائس بم خریدنے کا نیا معاہدہ کیا ہے۔ سپائس بم کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے اندر خلائی سیٹلائٹ کا نظام بھی موجود ہے۔ اس کی 113 کلو، 453 کلو اور 907 کلو وزنی بم کی تین قسمیں ہیں۔ بھارت 453 کلو (1000 پائونڈ) وزنی بم خرید رہا ہے۔ ایک بم کی قیمت چھ کروڑ 46 لاکھ روپے، 100 بموں کی قیمت6 ارب 46 کروڑ روپے بنتی ہے۔ سپائس بم اپنے سیٹلائٹ نظام کے ساتھ زمین پر 60 کلو میٹر کے علاقہ میں 100 خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگا لیتا ہے۔ اسے فضا سے زمین پر پھینکا جاتا ہے۔ بھارتی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے 26 فروری کو ایسے ہی آزاد کشمیر میں جیش محمد تنظیم کے ٹھکانے پر پھینکے تھے۔ بھارتی حکومت نے 350 افراد ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا مگر بعد میں وزیرخارجہ سشما سوراج نے اعتراف کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
٭وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارتی وزیراعظم کو ایک خط کے ذریعے مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ اس خیر سگالی کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ نے حقارت کے ساتھ بیان دیا ہے کہ چند روز بعد کرغیزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس میںبھارتی وزیراعظم کی پاکستان کے وزیراعظم سے کسی ملاقات کا کوئی امکان نہیں!
٭میاں شہباز شریف کی بالآخر واپسی کا اعلان ہو گیا تھا۔ آج علی الصبح پونے پانچ بجے آنا تھا، اب تک آ چکے ہوں گے، بہت بڑا استقبال بھی ہو چکا ہو گا! لندن سے روانگی سے قبل انہوں نے آخری میڈیکل معائنہ کرایا۔ خبر مشہور ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے سفر سے روک دیا ہے مگر وہ واپس آ رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لئے ن لیگ کے صدر کے طور پر شہباز شریف کی موجودگی ضروری ہے۔ یہ تحریک کیا ہو گی؟ شدید گرمی میں کیسے چلے گی؟ اس کی قیادت کون کرے گا؟ اور پھر انجام کیا ہو گا؟ ان باتوں کے فیصلے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن ابھی تک طے نہیں کر پائی کہ عمران خان کی حکومت کو گرایا جائے گا یا نہیں! گرا دی تو پھر کیا ہو گا؟ اس وقت عمران خان کی حکومت کو اسمبلی میں چھ نشستوں کی اکثریت حاصل ہے۔ حکومت بنانے کے لئے کم از کم 172 نشستیں چاہئیں۔ عمران خان کے پاس 177 ہیں۔ فرض کریں یہ حکومت ختم ہو جاتی ہے تو ن لیگ (85) اور پیپلزپارٹی (56) مل کر (141) بھی حکومت نہیں بنا سکیں گی۔ چھوٹی پارٹیوں سے جوڑ توڑ کر کے بھی 172 نشستیں ملنا دشوار ہو گا۔ یہ 172 کی اکثریت مل بھی جائے تو حکومت کیسے چل سکے گی؟ 157 نشستوں والی تحریک انصاف کی مشتعل زبردست اپوزیشن کو چین سے ٹکنے دے گی؟ اسی حالت میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو صدرکے ایک آرڈیننس کے ذریعے چھ ماہ کے لئے صدارتی نظام قائم ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد پھر اسمبلی بحال ہو جائے گی اور پھر وہی پرانی صورت حال! ایسے عالم میں فوج کا نام آ سکتا ہے۔ مگر فوج جب بھی آئی، خزانہ بھرا ہوا ملا اب خزانہ تو بالکل خالی ہے، ناقابل برداشت قرضوں کا بوجھ سر پر سوار ہے۔ نئے قرضوں سے صرف پہلے والے بھاری قرضوں کا بھاری سود ہی ادا کیا جا رہاہے۔ نئے اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کا مسئلہ ملکی معیشت کے اعصاب پر سوار ہے۔ ایسے عالم میں فوج اس بوجھکو سر پر کیوں اٹھائے گی؟ یہ سارے حقائق اور حکومت کے خلاف تحریک!! پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے خلاف بے شمار کیس چل رہے ہیں۔ ان کے عنقریب سنسنی خیز فیصلوں کی ابھی سے گونج سنائی دے رہی ہے! پھر؟

 

تازہ ترین خبریں