07:15 am
  پروڈکشن آرڈر  جاری کیا جائے!

پروڈکشن آرڈر جاری کیا جائے!

07:15 am

عیدالفطر بخیر و خوبی گذرنے نہ پائی تھی کہ تیسرے روز چار فرزندانِ وطن کی شہادت کی دلخراش خبر قوم پر برق بن کے گری
  عیدالفطر بخیر و خوبی گذرنے نہ پائی تھی کہ تیسرے روز چار فرزندانِ وطن کی شہادت کی دلخراش خبر قوم پر برق بن کے گری۔ دہشت گردوں نے   واضح پیغام دیا ہے کہ قبائلی پٹی میں ریاست کی عملداری انہیں نامنظور ہے ! لسانی تعصب پھیلانے والوں کے منہ پر طمانچہ پڑا ہے کہ  شہداء کا تعلق ہنزہ ، کراچی ، لکی مروت اورچکوال سے ہے۔  یہ سانحہ  شمالی وزیرستان کے اُسی علاقے میں رونما ہوا ہے جہاں چند روز قبل پاک فوج کی چوکی پر احتجاج کی آڑ میں حملہ کر کے ایک جوان کو شہید اور کئی جوانوں کو زخمی کیا گیا تھا ۔ اس حملے کے بعد رچائے گئے پشتون حقوق کے ڈرامے میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے جس طرح  اپنی روایتی مفاد پرستی اور بے دانشی کا مظاہرہ کیا  اُس پر خود اِن جماعتوں کے سادہ لوح محب وطن حمایتی بھی شرمندگی میں بھیگی حیرت کا شکار ہیں۔
سوشل میڈیا پر بال نوچ نوچ کے بین ڈالنے اور واویلا مچانے والے حلقے  ایک خاص طرزِ فکر کے حامل ہیں ۔ بھانت بھانت کی این جی اوز اور کھمبیوں کی طرح اُگ جانے والی میڈیا ویب سائٹس سمیت  ای میگزینز  پر وہی راگ پاٹھ گائے جا رہے ہیں جو بھارت سرکار اور  امریکہ بہادر نے انہیں سکھائے ہیں ۔ قبائلی پٹی میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے۔ یہ جدوجہد  ایک پیچیدہ مرحلے سے دوسرے پیچیدہ تر مرحلے میں داخل ہوئی ہے ۔افغانستان سے دہشت گردوں کی آزادانہ در اندازی پرانا آزار ہے ! اس دراندازی کو روکنے کے لیے باڑ لگی تو افغان حکومت کی چیخیں نکلتی سب کو سنائی دیں ! بھارت اور امریکہ کی تیوریوں پر پڑے بل چھپائے نہیں چھپتے! ایسے نازک حالات میں دو اراکین پارلیمان فوجی چوکیوں پر یلغار کیوں کرنے نکل پڑے ؟ حالت جنگ میں چوکی پر تعینات فوجی اپنی جانب بڑھنے والے ہتھیار بند مجمع پر فائر نہ کرتے تو کیا کرتے ؟ یہ وہ محاذ ہے جہاں کئی فوجی و سویلین خود کش بمباروں کے ہاتھوں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں ۔ خڑ کمر چوکی پر حملے کے بعد بھارت کی زبان میں پاک فوج پر جھوٹے الزامات اور دشنام طرازی میں وہ چہرے کیوں پیش پیش دکھائی دیتے رہے جن کی بڑی تعداد  بیرون ملک  سے پاکستان کے خلاف مورچہ زن ہے ۔
 ایک ماہ کی قلیل مدت میں خڑ کمر اور گردونواح کے علاقوں میں دس اہلکار شہید جبکہ تیس سے زائد اہلکار زخمی ہوچکے ہیں ۔ یہ تشویشناک صورتحال با آسانی نظر انداز نہیں کی جانی چاہیئے ۔ اسی علاقے میں پشتون حقوق کے نام پر  مظاہروں کی آڑ میں سادہ لوح عوام کے جذبات پاک فوج کے خلاف مشتعل کیے جانے کی سرتوڑ کوششیں بار بار سامنے آرہی ہیں ۔ نقیب اﷲمحسود کے قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبے سے بڑھ کر بات اب شمالی وزیرستان سمیت قبائلی پٹی سے پاک فوج کے انخلاء کے مطالبے تک آن پہنچی ہے  ۔ جس ارسطوئے زماں رکن اسمبلی نے یہ مطالبہ داغا تھا وہ موصوف بھی چوکی پر حملہ کرنے والے مجمعے کو اکسانے اور اشتعال دلانے کے الزام میں زیرحراست ہیں ۔ ایک ہمنوا  رکن قومی اسمبلی پہلے ہی روز گرفتار ہوا تھا ۔ شنید ہے کہ دونوں اراکین قومی اسمبلی دہشت گردوں کے گرفتار شدہ سہولت کار کی رہائی کے لیے فوجی چوکی پر مجمع سمیت حملہ آور ہوئے۔ کیا یہ تشویشناک بات نہیں کہ اسی خڑ کمر علاقے میں ایک ماہ کے دوران دس شہداء کے جنازے اٹھ چکے ہیں اور تیس فوجی زخمی ہوچکے ہیں ۔  اسی علاقے کے دو اراکین اسمبلی جب فوج کے انخلاء کا  مطالبہ کریں تو  اس  کے کیا معنی لیے جائیں ؟ پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور نون لیگ کے پاکستان میں دستیاب درجن بھر مرد و زن  نائب صدور قوم کو سمجھائیں کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں ؟ زیر حراست اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کروانے کا مطالبہ تو بڑی زور و شور سے کیا جا رہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ان اراکین کو اسمبلی میںبلاکر آخر کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ پی پی پی اور نون لیگ کی قیادت اپنا موقف قوم پر واضح کرے  ! مبہم اور ادھورے مطالبے ملک  میں غیر یقینی کو جنم دے رہے ہیں ۔
 اس بے یقینی اور اپوزیشن کی پیدا کردہ منفی فضا کا تدارک کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات فوری کیے جائیں تو  بہت بہتر ہو گا ۔ اول،  گرفتار اراکین اسمبلی کے  پروڈکشن آرڈر کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں سے اسمبلی کے اجلاس کا واضح ایجنڈا بھی طلب کیا جائے تاکہ قوم جان سکے کہ آخر زیر حراست اراکین کو اجلاس میں بلوا کر یہ جماعتیں کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں ؟ دوم ، ایوان میں وزیر قانون یہ وضاحت فرمائیں کہ آئین اور قانون کے تحت کیا  کوئی  رکن پارلیمان گرفتار ملزم کی رہائی کا مطالبہ   تفتیش اور قانونی تقاضے  پورے کیئے بغیر کر سکتا ہے ؟ سوم ، خڑ کمر چوکی پر حملے پر تحقیقات کے لیے ایک پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے ۔ یہ کمیشن حملے کے محرکات اور گرفتار اراکین پارلیمان کا  موقف سننے کے ساتھ ساتھ چوکی پر تعینات اہل کاروں او ر اُن کے بالا افسران  کو طلب کر کے اُن کا موقف بھی ضرور سنے ۔ چہارم، کمیشن اس امر کی بھی  تحقیق ضرو ر  کرے کہ عین حالت جنگ میں امتاثرہ  علاقوں سے فوج کے انخلاء کے مطالبے کے پیچھے کیا عزائم کار فرما ہیں  ؟ گرفتار اراکین اور اُن کے حامیوں کے بھارت اور  افغانستان سے تعلقات کی نوعیت کیا ہے ؟  ان ارکین سے یہ بھی پوچھا جائے کہ آخر ان  کا ہر مطالبہ بھارت اور افغانستان کے  عزائم کی  فوٹو سٹیٹ کاپی  کیوں دکھائی دیتے ہیں ؟ پنجم، پاک فوج کے انخلاء کا مطالبہ کرنے والے ارسطو سے یہ استفسار بھی کیا جائے کہ آخر فوج کے انخلاء کے بعد قبائلی پٹی میں سرحدی دراندازی کا سامنا کیسے کیا جائے گا ؟ کیا موصوف اس کار خیر کے لیے افغانستان سے فوج طلب کریں گے یا نریندر مودی سے بھارتی سینا مستعار لیں گے یا وہ پی ٹی ایم کے مسلح لڑاکوں کی قیادت فرماتے ہوئے خود ہی دفاع وطن کا فریضہ نبھانا پسند فرمائیں گے ؟
ہمیں امید ہے کہ ان پانچ مطالبات کی روشنی میں کبھی پارلیمانی کمیشن نہیں بنے گا کیونکہ پی پی پی اور نون لیگ اس پیچیدہ صورت حال کا فائدہ اٹھا کے ریاستی اداروں کے خلاف اپنا وہ غصہ نکال رہی ہیں جو کہ کرپشن کی تحقیقات کی وجہ سے  اب رفتہ رفتہ ان جماعتوں کی بد حواس  قیادت کے سر پر ہمہ وقت سوار رہتا ہے۔ پی پی پی کے چیئر مین موصوف نے روایتی بڑھک بازی کرتے ہوئے بطور فیشن سقوط مشرقی پاکستان کا ذکر کیا ہے ۔ اختصار پیش نظر ہے وگرنہ تاریخ کے وہ اوراق الٹنے کا دل چاہتا ہے کہ جن پر اک نگاہ ڈالنے کے بعد پی پی پی کے حواری و درباری کسی کو منہ دکھانے کے بھی لائق نہ رہ پائیں ۔ توفیق ہوئی تو یہ تذکرہ اگلے کالم میں ضرور کیا جائے گا۔   

 

تازہ ترین خبریں