07:19 am
ٹرمپ کومواخذہ کاخطرہ

ٹرمپ کومواخذہ کاخطرہ

07:19 am

اس سے قبل ٹرمپ نے روس کے معاملے میں ان کے خلاف جانے پر اس وقت کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو برطرف کرنے کی طرف بھی قدم بڑھایا۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
 اس سے قبل ٹرمپ نے روس کے معاملے میں ان کے خلاف جانے پر اس وقت کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو برطرف کرنے کی طرف بھی قدم بڑھایا۔ ٹرمپ انتقامی کارروائی کے معاملے میں کبھی جھجکتے ہیں نہ شرمندہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روزنزسٹین کو بھی نشانے پر لیا، بہت جلد ان کا استعفیٰ بھی متوقع ہے۔امریکیوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹرمپ نے محکمہ انصاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں یقینی بنانے کے حوالے سے ذرا سی بھی شرم یا جھجک کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومے کو برطرف کیا اور اب ایسا لگتا ہے کہ اینڈریو میک کیب کی باری ہے۔ امریکی کے حکم پر محکمہ انصاف میں اتنے بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
کرپشن، خفیہ سودوں اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کے حوالے سے خبریں تواتر سے آرہی ہیں، مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سینیٹر میکونیل خاموش ہیں۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی مشکل وقت آئے گا، سینیٹر میکونیل ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اگر اور کسی بات سے کچھ اندازہ نہیں ہوتا تو چند ہفتوں کے دوران سینیٹر میکونیل کی جانب سے دیے گئے بیانات ہی پر ایک نظر ڈالیے۔ ان کا کہنا ہے کہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کیلئے فنڈ جمع کرانے کے سلسلے میں کانگرس پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ ٹرمپ کی طرف سے حماقت کے سوا کسی چیز کا اظہار نہ ہوگا مگر جب ٹرمپ اس مرحلے سے گزر گئے تو سینیٹ میکونیل نے ان کیلئے حمایت کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائی۔
امریکی آئین کا ایک خاصا یہ ہے کہ اس کی وساطت سے پارلیمان یعنی کانگرس کو خزانے کے معاملات میں بالادستی حاصل ہے۔ 16 ریاستوں کے اٹارنی جنرل کے دائر کیے ہوئے مقدمات میں نیشنل ایمرجنسی کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ اینٹی امیگریشن پالیسی پر غیر معمولی حد تک یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے حوالے سے اپنی پالیسی کو دائیں بازو کی سیاست کی بنیاد بنایا ہے۔ انہیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ مواخذے اور سزائے قید سے بچنے کی لازمی صورت یہ ہے کہ خود کو کسی نہ کسی طور دوسری مدت کیلئے بھی منتخب کرایا جائے۔
اگر انا کا معاملہ ایک طرف ہٹادیا جائے تب بھی انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے اور محکمہ انصاف کو کنٹرول کرنے کی خواہش و کوشش اور انتخابی مہم بہت پہلے شروع کرنے کی پشت پر ٹرمپ کے دو واضح مقاصد ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ کانگرس میں ڈیموکریٹ ارکان کی واضح اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کاروبار کے حوالے سے ٹرمپ کے روس سے غیر معمولی خفیہ تعلقات ہیں اور یہ کہ ٹرمپ کی کاروباری سلطنت کو زندہ رکھنے کیلئے اس پیسے کی بہت اہمیت ہے، جس کا منبع روس میں ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ ٹرمپ اپنے اور اپنے خاندان کے آمدن کے ذرائع اور اثاثوں کے بارے میں کی جانے والی ہر طرح کی تحقیقات ہر قیمت پر رکوانا چاہتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ٹرمپ 2016 ء کی انتخابی مہم کے دوران اگر کسی روسی سیاست دان سے ان کا کوئی تعلق تھا بھی تو وہ فی الحال اس حوالے سے تمام شواہد کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کی ٹیم میں نمایاں مقام رکھنے والوں میں مائیکل فلن، کیمپین منیجر پال مینفرٹ اور راجر اسٹون شامل ہیں اور تینوں کو روسی سیاست دانوں سے تعلقات اور دیگر معاملات میں تحقیقات ہی نہیں بلکہ ممکنہ سزائوں کا بھی سامنا ہے۔
رابرٹ مولر کی فائل کی ہوئی عدالتی دستاویزات سے، جن میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرکے بعض نکات کو سینسر بھی کیا گیا، یہ مترشح ہوتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے روسی سیاست دانوں سے مدد حاصل کی اور جوابا ًیہ عہد کیا کہ جب وہ صدرکی حیثیت سے کام کر رہے ہوں گے تب یوکرین میں روسی مفادات کے نگہبان ہوں گے اور اس حوالے سے امریکی پابندیوں کو ہٹانے میں اہم کردار بھی ادا کریں گے۔ ٹرمپ کی سنگین سیاسی غلطیوں کے حوالے سے ابھی بہت کچھ ہے جو منظر عام پر آنا ہے۔ مائیکل فلن، مینفرٹ اور رِک گیٹس کے حوالے سے تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کو ہیں۔ اِن تمام افراد کو ممکنہ طور پر سزاؤں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ وکی لیکس سے راجر اسٹون کے خفیہ روابط اور سابق امریکی وزیر خارجہ اور گزشتہ صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن کے کمپیوٹرز میں روسی ہیکروں کی طرف سے سیندھ کا معاملہ بھی کھلے گا تو بہت کچھ سامنے آئے گا۔ مائیکل کوہن آئندہ ماہ سزا بھگتنے کیلئے جیل جائیں گے مگر اس سے قبل وہ کانگرس میں شہادت ریکارڈ کرائیں گے۔ ایوان نمائندگان کی متعدد کمیٹیاں مختلف معاملات پر کھلی سماعت کرنے والی ہیں اور پھر تحقیقات بھی کی جائیں گی۔ نیو یارک کے اٹارنی جنرل ٹرمپ کے مالیاتی معاملات اور ان کے خیراتی ادارے سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں، جس کے نتائج جلد منظر عام پر آنے والے ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے خلاف درج کی جانے والی درخواستوں کی سماعت بھی ہونے والی ہے۔
 ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے ارکان نے اپنے منصب اور اختیارات کا جس طور غلط استعمال کیا ہے، اس پر ملک بھر میں تحقیقات کا مطالبہ بھی زورپکڑرہا ہے۔ اگرحالات اسی نہج پرچلتے رہے توٹرمپ مواخذہ کی تلوارسے بچ نہ سکیں گے۔

 

تازہ ترین خبریں