07:21 am
کالعدم روئیے اور مسائل کی جڑ ۔۔۔اصل کردار؟

کالعدم روئیے اور مسائل کی جڑ ۔۔۔اصل کردار؟

07:21 am

رمضان المبارک 29مئی کو بلاول زرادری نیب میں پیشی کے لئے اسلام آباد آئے تو اسلام آباد کا ڈی چوک میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا
23رمضان المبارک 29مئی کو بلاول زرادری نیب میں پیشی کے لئے اسلام آباد آئے تو اسلام آباد کا ڈی چوک میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔ 25رمضان المبارک30مئی کے دن پاکستان میں سب سے سپریم کا دعویٰ رکھنے والی قومی اسمبلی کے  اجلاس کے دوران محسن داوڑ اور علی وزیر کی گرفتاری کے معاملہ پر ایوان  میں ایسی ہنگامہ آرائی ہوئی کہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین باقاعدہ آپس میں گتھم گتھا ہوئے۔
یہ تو صرف دو دنوں کی انتہائی مختصر سیاسی کار گزاری  ہے وگرنہ یہاں تو ہر دن حکومت اور اپوزیشن کی ایسی سرگرمیوں کا گواہ ہے‘ عوام غور کریں کہ جب ان کے حکمران‘ سیاست دان اس طرح کی آپسی لڑائیوں‘ مار کٹائیوں میں مصروف رہیں گے تو یہ ملک کیا خاک ترقی کرے گا؟
یاد رہے کہ نیب کے سامنے پیشی کے وقت بلاول کے ساتھ آنے والے کالعدم تنظیموں کے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے کارکن تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے ڈی چوک  پر پولیس پر نہ صرف پتھر برسائے‘ بلکہ پولیس سے ہاتھا پائی بھی کی۔ اسی طرح ایوان میں گتھم گھتا ہونے والوں میں بھی کالعدم تنظیم نہیں بلکہ سیاسی اور حکومتی پارٹی کے اراکین شامل تھے۔
یہ عجیب ’’سیاست‘‘ ہے کہ قومی خزانے کے بل بوتے پر لڑائیاں‘ گالم گلوچ‘ الزام تراشیاں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کرتے ہیں‘ لیکن قوم کو انہوں نے ’’کالعدم‘‘ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوتا ہے اور دجالی میڈیا اس کذب بیانی میں ان کے لئے سہولت کاری کی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔
جہاد کشمیر سے محبت کے جرم میں عالمی صیہونی طاقتوں کے عتاب کا شکار بننے والے محب وطن پاکستانیوں کے خلاف تو بلاول زرداری نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن کی دہائیاں دیتے ہیں‘ لیکن ان کے  لاڑکانہ کے امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ عاقل روڈ پر ایک گروہ دن دیہاڑے 3بندے مار دیتا ہے۔مارے جانے والوں کے لواحقین اسلحہ اٹھائے موقعہ واردات پر پہنچتے ہیں‘ پھر پولیس کی موجودگی میں دونوں گروہوں کے درمیان ایک گھنٹے تک شدید فائرنگ کا مقابلہ ہوتا ہے۔اسی دوران مقتولین کے ورثاء قاتلوں کے دس گھروں کو آگ لگا کر خاکستر کر دیتے ہیں۔ لاڑکانہ پولیس لاقانونیت کا سارا کھیل کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کے باوجود رات گے تک دونوں گروہوں  کے کسی ایک شخص کو بھی گرفتار نہیں کرتی تو کیوں؟
کیا ان دونوں یا دونوں میں سے ایک گروہ کا تعلق کسی کالعدم جہادی تنظیم سے تھا؟ بلاول کو پلوامہ میں ہونے والی جہادی کارروائی کی تو بڑی فکر ہے مگر لاڑکانہ میں انتہائوں کو چھونے والی لاقانونیت کی کوئی فکر نہیں ہے تو کیوں؟
اس خاکسار کے تو علم میں نہیں ہے  لیکن اگر کوئی بلاول کی تعریفوں کے پل باندھنے والے صحافی بتا سکے تو ضرور بتائے کہ کبھی بلاول نے لاڑکانہ میں انتہا کو پہنچتی ہوئی لاقانونیت پربھی تشویش کا اظہار کیا ہے؟ حالانکہ لاڑکانہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا شہر ہے‘ پچھلے دنوں لاڑکانہ میں ’’ایڈز‘‘ جیسے موذی مرض پھیلنے کے بڑے قصے کہانیاں منظر عام پر آئیں‘ کیا ایڈز زدہ ان کہانیوں کے پیچھے بھی کسی ’’کالعدم‘‘ تنظیم کا ہاتھ تھا؟
عید کے دن بھی لیاری سے لے کر شاہ لطیف ٹائون اور کورنگی تک کے لاکھوں عوام پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے‘ لیاری کی مائیں‘ بہنیں‘ بیٹیاں پانی کا مسئلہ حل نہ کرنے پر  جھولیاں اٹھا اٹھا کر مراد علی شاہ کی صوبائی حکومت کو بددعائیں دیتی رہیں‘ کیا اس کے پیچھے بھی کالعدم جہادی تنظیموں کا ہاتھ ہے؟ مطلب یہ کہ بلاول سمیت دیگر جمہوریت زدہ سیاست دان ہوں یا ان کالے پالک میڈیا اٹھتے‘ بیٹھتے‘ سوتے جاگتے صلوٰتیں سناتے ہیں کشمیر کے جہادیوں کو  جبکہ پاکستان کے مسائل کی اصل جڑ وہ خود ہیں‘ فرحت اللہ بابر‘ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری یک دست راست ہیں‘ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ ’’پیپلزپارٹی محسن داوڑ اور علی وزیر کی حمایت کرتی رہے گی‘ یہ محسن داوڑ اور علی وزیر وہی ہیں کہ جن پر پاک فوج کی چوکی پر حملہ آور ہونے کا الزام ہے اور ان پر دہشت گردی کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ جو پاکستانی کشمیر کے جہاد میں  شریک ہو کر بھارتی فوج سے جہاد کریں ان کے خلاف تو بلاول زرداری زہریلے بیانات جاری کریں اور جو ’’پاکستانی‘‘ پاک فوج پر حملوں میں ملوث ہوں بلاول‘ فرحت اللہ بابر اور پیپلزپارٹی ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہنے کا اعلان کرے‘ کیا اسے بھی ’’سیاست‘‘ کہا جائے گا؟
میرا دعویٰ ہے کہ کالعدم تنظیموں کا خطرناک ہونا درست ان سے زیادہ خطرناک دراصل وہ جماعتیں اور ان کی قیادت ہے کہ جو راگ الاپتے ہیں جمہوریت کا اور جمہوریت قرار دیتے ہیں صرف  چند خاندانوں کے مفادات کے تحفظ کو‘ پاکستان کی  جن سیاسی جماعتوں یا حکومتوں کی حمایت امریکہ یا صیہونی ممالک کرتے ہیں کیا وہ جماعتیں اور حکومتیں بھی اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان اور یہاں بسنے والے 22کروڑ عوام کے لئے مفید اور بہتر ہوسکتی ہیں؟
کون نہیں جانتا کہ مرزا قادیانی ملعون کے پیروکار قادیانی ٹولے کی سرپرستی یہود و نصاریٰ کر رہے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود بعض نام نہاد سیاسی جماعتیں اور حکومتیں قادیانیوں کے شانہ بشانہ اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے میں کسی نہ کسی طرح شامل رہتی ہیں۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ پاکستان کے تمام مسالک کے علماء کرام اور مذہب سے محبت رکھنے والے عوام ان سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین سے غلط توقعات اور امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ جو سیاست دان سالہا سال تک حکومتوں میں رہ کر عوام کو پانی کی  سہولت فراہم کرنے سے قاصر رہے کیا ان حکمرانوں اور سیاست دانوں سے پاکستان میں نفاذ اسلام کی امید رکھی جاسکتی ہے؟
ایسے لگتا ہے کہ جیسے پاکستان کے سیاسی‘ حکومتی اور دانشوری افق پر دھوکے بازوں کا راج مستحکم ہوچکا ہے‘ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے (آمین)

 

تازہ ترین خبریں