07:24 am
علامہ محمد اقبالؒ  کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

07:24 am

حکم یہ ہے کہ عید کی نماز میں شرکت سے پہلے ہر صاحبِ توفیق مسلمان صدقہ فطر ادا کر کے عیدگاہ میں آئے۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
حکم یہ ہے کہ عید کی نماز میں شرکت سے پہلے ہر صاحبِ توفیق مسلمان صدقہ فطر ادا کر کے عیدگاہ میں آئے۔ اس سے مقصود یہ نہیں کہ اقتصادی اور معاشرتی مساوات صرف ایک آدھ دن کے لیے قائم ہو جائے بلکہ ایک مہینہ کا متواتر ضبطِ نفس تم کو اِس لیے سکھایا گیا ہے کہ تم اس اقتصادی اور معاشرتی مساوات کو قائم رکھنے کی کوشش تمام سال کرتے رہو۔
باقی رہا یہ امر کہ روزے ماہِ رمضان کے ساتھ ہی کیوں مختص کیے جائیں۔ سو واضح رہنا چاہیے کہ اسلام نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اسرار کو مدِنظر رکھ کر صیام کے زمانی تسلسل کو ضروری سمجھا ہے۔ اس تسلسل کے لیے وقت کی تعیین لازم تھی اور چونکہ اسلام کا اصلی مقصود انسانوں کو احکامِ الہی کی فرمانبرداری میں پختہ کرنا تھا، اس لیے صیام کو اِس مہینہ کے ساتھ مختص کیا گیا جس میں احکامِ الہی کا نزول شروع ہوا تھا۔ بالفاظِ دیگر یوں کہو کہ مسلمانوں کو ہر سال پورا مہینہ کامل تذکیہ نفس کے ساتھ نزولِ قرآنِ حکیم کی سالگرہ منانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ احکامِ الہٰی کی حرمت و تقدیس ہمیشہ مدِنظر رہے اور نمازِ تراویح پر کاربند ہو کر قوم کے ہر فرد کو اجتماعی حیات کا قانون عملاً ازبر ہو جائے۔
اصل بات قوم کی اقتصادی اور تمدنی زندگی کی مجموعی اصلاح کے متعلق تھی۔ قرآن میں جہاں مسائلِ صیام کے ذکر کے بعد یہ فرمایا کہ:  یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جا۔ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ انہیں پرہیزگاری ملے۔
وہاں ساتھ ہی ملحق بطور ان تمام کے نتیجہ کے یہ حکم بھی دیا:اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچا کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور  پر کھا لو جان بوجھ کر۔
روزہ رکھ کر مفلسوں سے محض ہمدردی کا احساس پیدا کر لینا کافی نہ تھا۔ عید کے دن غربا کو دو چار دن کا کھانا دے دینا کافی نہ تھا۔ طریق وہ اختیار کرنا مقصود تھا جس سے مستقل طور پر دنیاوی مال و متاع سے انتفاع کے قواعد اِس طور پر قائم ہوں کہ جہاں تقسیم وراثت اور زکوٰۃ سے ملت اسلامیہ کے مال و متاع میں ایک گونہ مساوات پیدا ہو، وہاں اس مساوات میں ایک دوسرے کے اموال میں ناجائز تصرف سے کسی قسم کا خلل نہ آئے۔  روزوں کے التزام سے صرف انفرادی روحانیت  کی ترقی یا زیادہ سے زیادہ انسانوں کے ساتھ ایک ہنگامی ہمدردی  ہی مقصود نہیں بلکہ شارع کی نظر اِس بات پر ہے کہ تم اپنے اپنے حلال کے کمائے ہوئے مال پر قناعت کرو اور دوسروں کے کمائے ہوئے مال کو باطل طریقوں سے کھانے کی کوشش نہ کرو۔ اس باطل طریق پر دوسروں کا  مال کھانے کی بدترین روش قرآن کے نزدیک یہ ہے کہ مال و دولت کے ذریعہ حکام تک رسائی حاصل کی جائے اور ان کو رشوتوں  سے اپنا طرفدار بنا کر اوروں  کے مالوں کو اپنے قبضہ میں لایا جائے۔ مذکورہ بالا آیت میں ’’اثم‘‘ کے معنی بعض مفسرین نے جھوٹی گواہی وغیرہ کے لیے ہیں، علمائے قرآن نے حکام سے مراد مسلمانوں کے اپنے مفتی اور سلطان لیے ہیں۔  جب اپنے فقیہوں اور قاضیوں کے پاس جھوٹے مقدمے بنا کر لے جانے کو خدا نے مذموم قرار دیا ہو تو سمجھ لو  کہ غیراسلامی  حکومتوں کے حکام کے پاس اس قسم کے مقدمات لے جانا کس قدر  ناجائز ہے ۔
مہینہ بھر روزے رکھنے کی آخری غرض یہ تھی  کہ آئندہ تمام سال اس طرح ایک دوسرے کے ہمدرد اور بھائی بن کر رہو کہ اگر اپنا مال ایک دوسرے کو بانٹ کر نہیں دے سکتے  تو  ’’کم سے کم‘‘حکام کے پاس کوئی مالی مقدمہ اس قسم کا نہ لے کر جا جس میں ان کو رشوت دے کر حق و انصاف کے خلاف دوسروں کے  مال پر قبضہ کرنا مقصود ہو۔ آج کے دن سے تمہارا عہد ہونا چاہیئے کہ قوم کی اقتصادی اور معاشرتی اصلاح کی جو غرض قرآن حکیم نے اپنے ان احکام میں قرار دی ہے، اس کو تم ہمیشہ مدنظر رکھو گے۔مسلمانانِ پنجاب اس وقت تقریبا سوا ارب روپے کے قرض میں مبتلا ہیں اور اس پر ہر سال تقریباً چودہ کروڑ روپیہ سود ادا کرتے ہیں۔ کیا اس قرض اور اس سود سے  نجات کی کوئی سبیل سوائے اس کے ہے کہ تم احکامِ خداوندی کی طرف رجوع کرو، اور مالی اور اقتصادی غلامی سے اپنے آپ کو رہا کرا؟ تم اگر آج فضول خرچی چھوڑنے کے علاوہ مال اور جائیداد کے جھوٹے اور بلاضرورت مقدمے عدالتوں میں لے  جانا چھوڑ دو تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ چند سال کے اندر تمہارے قرض کا کثیر حصہ از خود  کم ہو جائے گا اور تم تھوڑی مدت کے اندر قرض کی غلامی سے اپنے آپ کو آزاد کر لو گے۔ نہ صرف یہ کہ مالی مقدمات کا ترک تمہیں اِس قابل بنا دے گا کہ تم وہی روپیہ جو مقدموں اور رشوتوں اور وکیلوں کی فیسوں میں برباد کرتے ہو اسی سے اپنی تجارت اور اپنی صنعت کو فروغ دے سکو گے۔ کیا اب بھی تم کو ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی ضرورت محسوس نہ ہو گی اور تم عہد نہ کر لو گے کہ تمام دنیاوی امور میں شرعِ قرآنی کے پابند ہو جا گے؟ کس انتباہ کے ساتھ رسولِ پاکؐ نے مسلمانوں کو پکار کر کہا تھا کہ: دیکھو قرض سے بچنا، قرض رات کا اندوہ اور دن کی خواری ہے۔
اِس خطبے میں مسلمانوں کی معاشرتی زندگی کے صرف اقتصادی پہلو ہی پر نظر ڈالی گئی ہے، شاید عیدالاضحی کے موقع پر اسی قسم کے ایک خطبے میں اسلامی زندگی کے ایک اور اہم پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ فی الحال میں حضورؐ سرورِ کائنات کی ایک حدیث پر اِس خطبے کو ختم کرتا ہوں جو ایک نہایت لطیف پیرایہ میں رشد و ہدایت کی تمام شاہ راہوں کو انسان پر کھول دیتی ہے:مجھے میرے  رب نے نو باتوں کا حکم دیا ہے۔ ظاہر و باطن میں اخلاص پر کاربند رہنا۔ غضب و رضا دونوں حالتوں میں انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دینا۔ فقر و تونگری میں میانہ روی۔ جو شخص مجھ پر زیادتی کرے اس کو معاف کر دوں۔ جو مجھ سے قطعِ رحم کرے میں اس سے صلہ رحم کروں۔ جو مجھے محروم کرے میں اس کو اپنے پاس سے دوں۔ میرا بولنا ذکرِ الہی کے لیے ہو۔ میری خاموشی غور و فکر کے لیے ہو، اور میرا دیکھنا عبرت کے لیے ہو۔

 

تازہ ترین خبریں