07:26 am
اے راہِ حق کے شہیدو!

اے راہِ حق کے شہیدو!

07:26 am

میری عید خون سے لالہ رنگ۔ عید پر میرے وطن کے فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادت نے فضائیں سوگوار کر دی ہیں۔ خدا دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائے
میری عید خون سے لالہ رنگ۔ عید پر میرے وطن کے فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادت نے فضائیں سوگوار کر دی ہیں۔ خدا دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائے اور پاکستان کے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دے۔ میں اپنی نسلِ نو کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاک فوج کا ارتقاء در اصل انتہائی نا مساعد حالات میں وجود میں آنے کی لازوال داستان ہے۔پاک فوج کو آزادی کے فوراًبعد میدان عمل میں اپنے فرائض نبھانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔تقسیم ہند کے وقت حکومت برطانیہ نے غیر منصفانہ انداز میں بھارت کے حق میں 64 فیصد اور پاکستان کے لیے صرف 36فیصد کے تناسب سے فوجی اثاثے تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔رہی سہی کسر بھارت کی تنگ نظری اور ہٹ دھرمی نے پوری کر دی تھی۔پاک فوج کو ابتدا سے ہی جنگ سے نبرد آزما ہونا پڑا۔27اکتوبر1947 ء کو کشمیر کے ہندو فرماں روا ہری سنگھ نے سازش کے تحت بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن ماؤنٹ بیٹن اور نہرو نے الحاق سے قبل ہی بھارتی فوج کشمیر پر قبضے کی خاطر سری نگر میں اتار دی۔پاک فوج نے سیز فائر لائن پران کی پیش قدمی روک لی۔قائد اعظم کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ابتدائی دشواریوں کے باوجود پاک فوج کے ابتدائی سربراہوں نے دانش مندانہ فیصلے کیے اور فوج کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔1965ء کی جنگ میں پاک فو ج اور ہماری قوم نے جس عزم و ہمت اور جذبے کا اظہار کیا وہ بے مثال ہے۔
دراصل 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی کامیابی کے پیچھے دو عناصر نمایاں اہمیت کے حامل تھے۔ پہلا عنصر پاکستانی فوج کے سپاہیوں کی ذاتی شجاعت اور جذبۂ جہاد تو دوسری جانب تمام پاکستانی قوم کی یکجہتی اور اپنی فوج کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند کھڑ ا ہوناتھا۔ ہماری قوم فخریہ کہہ سکتی ہے کہ سیاسی اختلافات کچھ بھی ہوں جب بھی پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت ٹھونسنے کی کوشش کی جائے تو قوم اور فوج یک جان ویک قالب ہو جاتے ہیں۔پاک فوج میں خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے مقدس فریضے میں شرکت کا بھر پور موقع فراہم کیا جاتا ہے۔1960سے پاک فوج اقوم متحدہ کے امن مشن میں شرکت کر کے دنیا کے مختلف شورش زدہ علاقوں میں پاکستان کا پرچم سر بلند کرتی آئی ہے ان میں کانگو،ویسٹ انڈیز،صومالیہ،نیو کیٹی، کمبوڈیا، مشرقی تیمور، سلووینا، ہیٹی، بوسنیا، لائبیریا، کویت اور یمن نمایاں خطے ہیں جہاں پاک فوج  نے دوسری بین الاقوامی افواج کے شانہ بشانہ دشوار ترین اور نا مساعد حالات میں امن قائم کرنے کی ذمہ داریاں سر انجام دی ہیں۔سیاہ چین دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے جو کشمیر کے پیچیدہ مسئلے سے منسلک ہے۔13اپریل 1984ء کو بھارتی فوج نے اس کی غیر متعین سرحدوں کا احترام نہ کرتے ہوئے نا جائز قبضہ کر لیا۔تب پاک فوج نے بھارتی پیش قدمی روک دی تھی۔ معرکہ کارگل پاک فوج کی تاریخ میں روشن حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ حریت پسند مجاہدین نے صرف5 بٹالین کی مدد سے بھارتی فوج کی خاصی بڑی تعداد سے مقابلہ کیا۔ہماری قوم اپنے فوجی جوانوں اور قیادت کی جرأت،ہمت اور استقلال پر فخر کرتی ہے۔ پاکستان  کا  میزائل پروگرام اپنا تیار کردہ ہے اور اس کے اسلحے خانے میں مختلف فاصلوں پر مار کرنے اور وار ہیڈ سے لیس ابدالی، غزنوی،شاہین،غوری اور شاہین IIمیزائلز شامل ہیں۔
پاکستان ’باور‘ نامی کروز میزائل کے بھی کامیاب تجربے کر چکا ہے جو زمین،فضا،سطح سمندر اور زیر آب جیسے مختلف پلیٹ فارم سے لانچ کیے جاسکتے ہیں۔پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے کیونکہ پاکستان کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا لیکن کسی بھی جارحیت کا بھر پور قوت سے جواب دینے اور اسے حملے کی نیت سے باز کرنے کی صلاحیت سے لیس ہے۔دسمبر2001ء میں بین الاقوامی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان پر دباؤ کی خاطر تاکہ وہ کشمیر پر اپنے حق سے دستبردار ہو جائے اور بھارتی برتری قبول کرے بھارت نے اپنی بھر پور عسکری قوت پاکستان کی سر حدوں پرلگا دی۔ پاکستان کی بروقت اور بہتر حکمت عملی اور فوجی عزم وثابت قدمی کے پیش نظر بھارت کو اپنی فوجیں غیر مشروط طور پر ہٹانا پڑیں۔پاک فوج اور ہماری قوم نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صف اول کا حلیف ہونے کے ناتے بھاری قیمت ادا کی ہے لیکن ہمارے ہم وطنوں،پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔پاکستان کو جب بھی قدرتی آفات نے گھیرا پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے ہم وطنوں کی آزمائش کی گھڑی میں اپنی جانوں پر کھیل کر امداد پہنچائی خواہ وہ 2005 ء میں آنے والا زلزلہ ہویابین الاقوامی آفات جیسے سونامی،سندھ اور بلوچستان میں سیلاب اور طوفانوں کی تباہ کاریاں یا تھر میں قحط ہو ، پاک فوج نے انسانی ہمدردی کی خاطر وہ خدمات سر انجام دی ہیں جن پر پوری قوم فخر کر سکتی ہے۔1947 ء میں آزادی کے بعد سے پاک فوج بھارت سے تین جنگوں اورمتعدد سرحدی جھڑپوں میں دفاع وطن کا فریضہ انجام دے چکی ہے۔حالیہ بڑی کاروائیوں میں آپریشن بلیک تھنڈر سٹارم، آپریشن راہ راست ، آپریشن راہ نجات ، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد شامل ہیں۔اسی طرح حال میں ہی شورش زدہ علاقوں میں کیا جانے والے آپریشن کئی قربانیوں کے واقعات لئے تاریخی اہمیت کا حامل ہے وہاں   ایک تاریخی واقعہ ہوا کہ ایک سپاہی شدید زخمی حالت میں تھے، جاں لبوں پر تھی، دشمنان تاک میں تھے کہ کوئی آئے اس کو اٹھانے یا بچانے تو وہ بھی ان کی گولی کا نشانہ بنے ایسے میں اس زخمی سپاہی کا دوست پانی لے کر آگے بڑھا باوجود سب کے روکنے کے اس نے کسی کی نہیں سنی اور پانی لے کر خطرناک مقام پر کسی نہ کسی طرح پہنچنے میں کامیاب ہو گیا زخمی سپاہی جو آخری سانسیں لے رہا تھا اپنے دوست کو آتے دیکھ کر مسکرایا اور بمشکل بولا مجھے یقین تھا کہ تم ضرور آؤ گے اور شہید ہوگیا ۔ایسے انگنت اسباق ہیں جو ہمیں زندہ رکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہمارے تمام ادارے ابھی زمین بوس نہیں ہو ئے بلکہ ابھی اس ملک کی شہ رگ اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی اس کی ’’فوج ‘‘ایسا کامیاب مکمل اورمنظم ادارہ ہے جس نے مشکل سے مشکل مرحلے میں بھی اپنے ملک کی حفاظت کیلئے حسین و جمیل ماؤں کے خوبرو شہزادے یوں قربان کئے ہیں کہ فلک بھی انگشتِ بدنداں رہ گیا ہے ۔سلام ہے پاکستانی فوج آپ پر کہ آپ نے ہمیشہ اُس وقت اپنی طاقت کے جوہر دکھائے جب سامنے نظر آنے والا چیلنج ناممکن دکھائی دیتا تھالیکن جب بھی ہم اپنی فوج کے آہنی جذبوں کو دیکھتے ہیں تو لبوں پر یہ الفاظ مچل کے رہ جاتے ہیں کہ ’’پاک فوج کوسلام…میرے وطن کے شہیدوں کو سلام‘‘

 

تازہ ترین خبریں