09:52 am
بھارتی مسلمان پر ظلم کا نیا دور

بھارتی مسلمان پر ظلم کا نیا دور

09:52 am

حال ہی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان نوجوانوں پر تشدد کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں 4 مسلمان نوجوان کھانا کھا رہے ہیں کہ اس دوران ’ہندوتوا بریگیڈ‘ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندو موقع پر پہنچتے ہیں اور مسلمان نوجوانوں کو بری طریقے سے زد کوب کرتے ہیں۔ واقعے میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ سبزی کا سالن کھا رہے تھے جب نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔متاثرہ مزدوروں کے حوالے سے بہاری تھانے کے ایس ایچ او دھانانجے سنگھ نے بتایا کہ مزدروں ایک مکان کی تعمیر کے لیے یومیہ اجرت پر کام کررہے تھے کہ جہاں انہیں ایک مندر کے قریب کھانا کھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل بریلی میں ایک استاد کو فیس بک پوسٹ کے ذریعے گائے کے گوشت کے استعمال کی حمایت کرنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔
بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے اعلان کے دوسرے ہی روز مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر گائے کا گوشت لے جانے والے مسلمان جوڑے کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا دیا۔مشتعل ہجوم میں شامل افراد، جن میں سے بعض نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، نے نوجوان کو ڈنڈوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دوران اسے نازیبا الفاظ سے بھی پکارتے رہے جبکہ اس دوران نوجوان ان سے رحم کی اپیل کرتا رہا۔بعد ازاں ہجوم نے نوجوان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی اہلیہ پر تشدد کرے۔ جس کے نتیجے میں نوجوان نے اپنی اہلیہ کے سر میں جوتے برسائے اور ساتھ ہی ان سے 'جے شری رام' کے نعرے بھی لگوائے گئے۔
2014 ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گائے کے مبینہ ذبح اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں قتل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو رواں برس دوسری مدت کے لیے انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں نے مشتعل ہجوم کی جانب سے گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کی مذمت کی تھی اور مذہب کو تشدد کے لیے استعمال کرنے والے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دیا تھا، لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا۔بھارت میں حالیہ انتخابات کے دوران اور بی جے پی کی دوبارہ جیت کے بعد ظلم و تشدد کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
نریندر مودی کی سرپرستی میں بی جے پی کا حکومتی دور بھارتی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کیلئے ایک ڈرونی حقیقت ہے کہ سوائے اعلیٰ ذات کے ہندو ؤں کے، نچلی ذات کے ہندو بھی انتہا پسندی کا شکار ہوئے۔ اب جبکہ مودی دوبارہ وزیر اعظم کا حلف اٹھا چکے ہیں تو بھارت کی تمام اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگا ہے۔ انتہا پسند ہندو بے لگا ہورہے ہیں۔ جس کو چاہے اذیتوں کا شکار بنا لیتے ہیں۔ جس کو چاہے مار دیتے ہیں ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ 
 امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ بھارتی انتخابات میں مودی کی دوبارہ فتح خود بھارت کیلئے کوئی اچھا شگون نہیں۔ پانچ سال قبل معاشی اصلاحات کا نعرہ لگا کر مہم چلانے والے وزیر اعظم نے اس انتخاب میں فرقہ پرستی اور قومیت کا نعرہ بلند کیا۔ بھارتی جنتا پارٹی نے ملک کی 18 کروڑ مسلم آبادی کو تنگ کرنے کیلئے اقدامات کا عزم کر رکھا ہے۔ مساجد کو منہدم کر کے ان کو مند ربنانا، مسلمانوں پر دہشت گرد ی کا الزام عائد کرنا ۔ اخبارکا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کو پارکوں اور کھلی جگہوں پر نماز جمعہ کی اجازت نہیں۔ مسلمان گھروں سے نکلتے وقت روایتی لباس بھی نہیں پہن سکتے۔ مسلمان گھروں سے نکلتے وقت جینز اور ٹی شرٹ پہننے پر مجبور ہیں۔ 20 کروڑ مسلمان مودی کے دوبارہ منتخب ہونے پر خوف زدہ ہیں۔ بھارت کی آبادی کا 14 فی صد 20 کروڑ مسلمانوں پر مشتمل ہے جب کہ مودی کی بی جے پی میں کوئی مسلمان رکن پارلیمنٹ نہیں۔ دوسری طرف بی جے پی کے رہنما مسلمان دشمن سرگرمیوں اور بیانات میں پیش پیش ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ مودی نے بھارت کو سیکولر کے بجائے ہندو سٹیٹ میں بدل دیا ہے۔ گائے کے تحفظ کے نام پر ہجوم نے مسلمانوں کو تشدد کر کے قتل کیا۔ 
 انتہا پسند اورمسلم و اقلیت دشمن ’مودی سرکار‘ کے دورمیں بھارتی حکام بھی اپنے ہی بھارتی شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کو پامال کرنے پہ تل گئے ہیں۔ انھی وجوہات کی بنا پر کبھی مسلمانوں کے کاروبار کو بند کرایا جارہا ہے۔ کبھی بزرگ مسلمانوں کی جان بخشی خنزیر کھلا کر کی جارہی ہے تو کبھی انتہا پسند ہندوؤں کے جتھے مسلمانوں کو دن دیہاڑے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن حکومتی اہلکار اپنے فرائض بھول کرخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔حکومتی اہلکاروں کی مذہبی تعصب پسندی، جنونیت اور مسلم دشمنی کی ایک اور بدترین مثال گزشتہ روز اس وقت سامنے آئی جب بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل کے جیلر نے مسلمان قیدی کی پیٹھ پر گرم دھات سے ہندوؤں کا مذہبی نشان ’اوم‘ داغ دیا۔ جیل انتظامیہ نے اسے دو دن تک فاقہ کشی پہ مجبور کیا اور کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں دیا۔  انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کا کہنا تھا کہ بھارت میں گائے ذبح کرنے پر مشتعل ہجوم کی جانب سے قتل کے اکثر واقعات میں بھارتی پولیس ملوث ہوتی ہے۔ 

تازہ ترین خبریں