09:53 am
کوئی قانون سے بالا تر نہیں 

کوئی قانون سے بالا تر نہیں 

09:53 am

تحریک انصاف کی حکومت نے جب سے احتسابی مہم کا آغاز کیا ہے ، پاکستان میڈیا کے ٹاک شوز اور سیاسی جماعتوں کی افطار پارٹیوں میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ وفاقی حکومت نے مبینہ طور پر خلاف ضابطہ اپنی بیرون ملک جائیدادیں چھپانے پر اعلیٰ عدلیہ  کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس دائر کیے ہیں جن میں سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کا نام بھی شامل ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے ایسے ججز کے خلاف ریفرنس بھیجا ہے جن پر ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیرون ملک اپنی یا اپنے اہل خانہ کے نام پر اثاثے  رکھنے کا الزام ہے۔ جسٹس عیسیٰ کو شہرت اور شریف خاندان کی پذیرائی اس وقت ملی جب حدیبیہ کیس میں شریف خاندان کے خلاف ناقابل تردید شواہد کے باجود اس مقدمے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس مقدمے میں اسحاق ڈار کا اعترافی بیانِ حلفی بھی موجود تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے نیب کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرکے اسے سپریم کورٹ میں ہمیشہ کے لیے ناقابل سماعت قرار دیا۔ انہوں نے نیب کے پراسیکیوٹر کو اس مقدمے میں چیف جسٹس کے آبزرویشن کا حوالہ دینے سے بھی روک دیا اور میڈیا کو اس سے متعلق رپورٹنگ نہ کرنے کا پابند کیا۔ ان کے خلاف ریفرینس دائر ہونے کے بعد بالخصوص ان حلقوں میں  ہمدردی اور اظہار یک جہتی کی لہر اٹھتی نظر آرہی ہے جنھیں یہ سلسلہ آگے بڑھنے کا خدشہ لاحق ہے۔ 
 
ریفرنس سے متعلق خبر آنے کے بعد ایڈشنل اٹارنی جنرل زاہد ابراہیم نے اسے ’’عدلیہ پر حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ہمارے عدالتی نظام کا یہ  اہلکار جب یہ کہتا ہے کہ جسٹس عیسیٰ ’’ سپریم کورٹ کے سینیئر جج ہیں جن کی دیانت ناقابل مواخذہ ہے؟‘‘ تو کیا ان کی مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ اس قدر مقدس ہوتے ہیں کہ انہیں قانون اور احتساب سے بالاتر قرار دیا جاسکتا ہے؟ 
اس کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حرکت  میں آئی۔ اس کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے میڈیا ٹرائل پر تحفظات کا اظہار کیا اور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اﷲ کنرانی نے ججوں کو پوری حمایت کا یقین دلایا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام وکلاء تنظیمیں جسٹس عیسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہیں۔ اپنے اس اظہار یکجہتی و ہمدردی میں اس مؤقر تنظیم کے صدر جناب کنرانی ، جو خود بھی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں، جسٹس عیسیٰ کے حق میں ایک دلچسپ دلیل بھی لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس عیسیٰ کے آبائو و اجداد نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والوں کو قانون  سے بالاتر قرار دے کر انہیں کسی بھی ملک میں اپنے غیر ظاہر شدہ اثاثے رکھنے کی اجازت بھی دے دی جائے؟  ہمارے نظام قانون و انصاف کے ان دو اہم ارکان کے زریں خیالات کو کم سے کم بھی تعجب خیز قرار دیا جاسکتا ہے۔ جمہوریت کا یہ بنیادی اصول کہ قانون کی نظر میں ریاست کے تمام شہری یکساں ہیں ، ان دونوں صاحبان کے لیے یہ تصور اجنبی یا ناقابل قبول ہے۔ تبھی یہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو قانون و احتساب سے ماورا قرار دے رہے ہیں؟  
اسی دوران میں حزب مخالف کی جماعتیں یہ معاملہ میدان سیاست میں بھی کھینچ لائی ہیں اور اس بار ان کی سرخیل پیپلز پارٹی ہے۔ یہ اقدام قابل فہم ہے، اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اپوزیشن اب اس حکومت کو چلتا کرنے کی فکر میں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بھٹو زرداری خاندان کو نیب سے شدید شکایات ہیں اور ان کے متعدد مقدمات عدالتوں میں جانے والے ہیں اس لیے وہ پیشگی ہی اپنے لیے کسی نرمی یا رعایت کی امید پر  تگ و دو کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزرا اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرکے جسٹس فائز عیسیٰ کو اگر منصب سے ہٹایا گیا تو حکومت کے خلاف  عوامی سطح پر تحریک چلائی جائے گی۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے تو یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کا مل بیٹھنا بھی  خارج از امکان نہیں ۔ کرپشن کے خلاف اپنی مہم کو تیز کرکے تحریک انصاف نے  بھِڑوں کے چھتے پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔ لیکن پاکستان کے معاشی اور سیاسی نظام میں تبدیلی کا کوئی اور راستہ بھی نہیں، اس گندگی میں اتر کر ہی اسے صاف کرنا پڑے گا۔ حکومت یہی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جب بہت واویلا ہوچکا تو وزیر اعظم ہاؤس کے ’’ایسٹ ریکوری یونٹ‘‘ نے اتوار کو ایک مشترکہ اعلامیے میں   دعویٰ کیا کہ ریفرنس بدنیتی کی نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے۔ یونٹ کو برطانیہ سے  جج صاحبان کی جائیدادوں کی تصدیق شدہ دستاویزات موصول ہوچکی ہیں اور انہی کی بنیاد پر آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اثاثوں کی دستایزات کی نقول برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن اور لندن سے تصدیق شدہ ہیں۔ اس سے بظاہر حکومت پر کسی بدنیتی کا شبہ زائل ہوجاتا ہے لیکن اس معاملے کو جس طرح آگے بڑھایا گیا ہے کسی طرح اس انداز کو ضابطوں کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کم از کم اس مرحلے پر ریفرنس کی خبر ظاہر نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس خبر کو پھیلانے والوں کی نشاندہی اور جوابدہی ہونی چاہیے۔ جسٹس عیسیٰ نے صدر پاکستان کے نام اپنے خط میں اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ ریفرنس تیار ہونے سے متعلق اُسی وقت اطلاع عام کی جاتی ہے جب یہ بات اس شخص کے علم میں بھی آچکی ہو اور اس سے جواب طلب کرلیا گیا ہو، جس کے خلاف ریفرنس دائر کیا جارہا ہے۔ میڈیا پر یہ خبر گردش کرتی رہے یہ کسی طرح قابل قبول نہیں۔ جسٹس عیسیٰ نے صدر کو لکھے گئے خط میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ’’خاص معلومات کا افشا کردار کُشی کا باعث ہے‘‘ اور اس کے بعد ان کا منصفانہ عدالتی کارروائی اور قانونی عمل کا حق بھی متاثر ہوا ہے۔ ان کی یہ بات بھی درست ہے۔ 
دو جج صاحبان کے خلاف دائر ہونے والے ریفرینس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ لیکن اس اقدام سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کوئی بھی فرد قانون سے بالاتر نہیں اور ہر ایک قانون کے سامنے جواب دہ ہے۔ یہ جمہوریت اور نظام انصاف کا بنیادی  ترین اصول ہے۔ جو فرد جتنے اعلیٰ آئینی منصب پر ہو اسے اپنی جوابدہی کے لیے اتنا ہی تیار رہنا چاہیے۔ خصوصاً ایک ایسی عدلیہ جو شکوک کی زد میں ہو، وہ کس طرح قانون کا نفاذ کرے گی؟ اسی لیے احتساب کا آغاز اوپر سے شروع ہونا چاہیے اور پہل ان لوگوں سے ہونی چاہیے جو خود انصاف کی فراہمی کے ضامن ہیں۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں