09:54 am
آئی ٹی کی جنگ

آئی ٹی کی جنگ

09:54 am

اکیسویں صدی میں تجارتی تنازعات میں سب سے اہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں سبقت لے جانے کی جنگ ہوگی۔ یہ جنگ مصنوعی ذہانت سے لے کرنیٹ ورکنگ کے آلات تک تمام شعبہ جات کواپنی لپیٹ میں لے گی اورنیم موصل( سیمی کنڈکٹر) کواس جنگ میں بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔چِپ کی صنعت ہی وہ صنعت ہے جہاں امریکہ اپنی سبقت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف چین اس شعبے میں مہارت حاصل کرنے کیلئے سرتوڑکرششیں کررہا ہے۔یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مقابل آکھڑے ہوئے ہیں۔اسی لیے گزشتہ G-20اجلاس میں ٹرمپ اورصدرشی کے درمیان یہ تنازعہ برقراررہا،وہ اس لیے کہ کمپیوٹرچِپ کواس وقت ڈیجیٹل معیشت اور قومی سلامتی کے امورمیں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔کاریں ٹائروں پرچلنے والے کمپیوٹرکی شکل اختیارکرچکی ہیں،بینک وہ کمپیوٹربن چکے،جورقم کی نقل وحرکت کاباعث بنتے ہیں ۔ فوجیں اپنی جنگیں لوہے کے ساتھ ساتھ سلی کون سے بھی لڑرہی ہیں۔امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک کوریا اورتائیوان کی صنعتوں کواس جدیدشعبے پرغلبہ حاصل ہے جبکہ چین ابھی بھی High-End Chips کیلئے دوسرے ممالک پر انحصار کرتاہے۔چین کی نیم موصل( سیمی کنڈکٹر) کی درآمدکاخرچ تیل کی درآمدکے خرچ سے بھی زیادہ ہے۔فروخت کے لحاظ سے دنیا کی پندرہ بڑی کمپنیوں میں ایک بھی چینی کمپنی شامل نہیں ہے۔
 
ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی چین اس حوالے سے اپنی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔ 2014ء میں چین نے اپنی اس صنعت کوفروغ دینے کیلئے ایک کھرب یوآن (150 ارب ڈالر) کا انوسٹمنٹ فنڈ قائم کیا۔2015ء میں جاری ہونے والے  میڈ ان چائنا  2025 منصوبے میں بھینیم موصل( سیمی کنڈکٹر) کوخاص اہمیت دی گئی ہے۔اس جدید صنعت کی ترقی کے حوالے سے چین کے عزائم نے اوباماکوکافی پریشان کیے رکھا۔ 2015ء میں اوبامانے ’’انٹیل‘‘ کواپنی جدیدترین کمپیوٹر چپس چین کو فروخت کرنے سے روک دیاتھا،اس کے علاوہ 2016ء میں جب ایک چینی کمپنی ایک چِپ بنانے والی جرمن کمپنی کوخریدنے کی کوشش کررہی تھی توامریکہ  نے اس سودے کور کوا دیا۔ اوباما کے عہدہ چھوڑنے سے پہلے وائٹ ہائوس سے ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں ایسی چینی کمپنیوں کے خلاف اقدام کرنے کی تجاویزدی گئی تھیں جوٹیکنالوجی ٹرانسفرپر بضد تھیں۔ دیگرممالک نے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں۔ تائیوان اورجنوبی کوریاکے ہاں پہلے سے ہی اس طرح کی پالیسیاں موجودہیں جن کے تحت چینی کمپنیوں پرجدیدترین آلات خریدنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔
اگرچہ چِپ کی یہ جنگ ٹرمپ کے آنے سے پہلے کی ہے،تاہم ٹرمپ نے اس جنگ میں مزیدتیزی پیداکردی ہے۔انہوں نے Qualcomکی فروخت کے حوالے سے چین کے ڈرسے سنگاپورکی کمپنی کی جانب سے لگائی جانے ولی بولی کومستردکردیا۔اسی سال کے آغازمیں امریکی کمپنیوں کواپنی کمپیوٹر چپیں اورسافٹ وئیرچینی ٹیلی کام کمپنی ZTE کوفروخت کرنے پرپابندی لگائی۔جس کی وجہ سے یہ کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ٹرمپ کے بقول چینی صدرکی اپیل پرفی الحال انہوں نے یہ فیصلہ واپس لیاہے ۔ دو باتیں اب تبدیل ہوچکی ہیں۔پہلی یہ کہ امریکہ کواس بات کااندازہ ہے کہ اسے چین پرحاصل سبقت صرف اورصرف جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے۔امریکا نے درآمدات کوکنٹرول کرنے کے حوالے سے کافی پابندیاں لگائیں ہیں،ان ہی پابندیوں کی وجہ سے چینی کمپنی Fujian Jinhuaبھی متاثرہوئی،جس پرالزام تھاکہ اس نے خفیہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے علاوہ وائٹ ہاس نئی آنے والی ٹیکنالوجی پرمسلسل پابندیاں لگارہاہے۔ 
دوسری تبدیلی یہ آئی ہے کہ چین نیم موصل(سیمی کنڈکٹر) کی صنعت میں خود مختاری کے حصول کیلئے مسلسل کوششیں کررہاہے اوراس معاملے میں حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ بے پناہ مراعات بھی دے رہاہے۔امریکانے جب ZTE پرپابندی لگائی توصد ر شی نے اپنے ملک کی تمام بڑی کمپنیوں سے رابطہ کیا۔ چین کی تمام بڑی کمپنیاں جن میں  بیدو‘ علی بابا اور ہواوے شامل ہیں،چِپ سازی پرسرمایہ لگانے کے حوالے سے یکساں مؤقف رکھتی ہیں اورچین نے اس بات کوثابت کیاہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے راستے میں حائل ہوسکتاہے۔ 
دونوں ممالک کے مفادات میں کوئی خاص تبدیلی نظرنہیں آرہی۔امریکہ کے خدشات بھی صحیح ہیں کہ وہ اگرچِپ کے شعبے میں چین پرانحصارکرے گاتواس کی ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔اسی طرح چین کاسپرپاوربننے کاخواب بھی اس وقت تک پورانہیں ہوسکتا،جب تک کہ وہ اس شعبے میں خود انحصارنہیں ہوجاتا۔چین اس دوڑکوجیتناچاہتاہے جبکہ امریکا اس دوڑمیں اپنی سبقت کوبرقراررکھناچاہتاہے۔سوال یہ ہے کہ امریکہ اپنے اس رویے میں کس حدتک آگے جاسکتاہے؟وائٹ ہاس کے موجودہ مقیم توچاہتے ہیں کہ  نیم موصل( سیمی کنڈکٹر) کی مکمل فراہمی امریکہ منتقل کردی جائے۔یہ اچھی سوچ ہے لیکن عالمگیریت کے اس دورمیں یہ ممکن نہیں۔امریکاکی ایک کمپنی کے 16000سپلائرہیں جس میں سے نصف غیر ملکی ہیں۔چین بہت سی صنعتوں کیلئے مرکزی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔Qualcommاپنی پیداوار کادوتہائی چین میں فروخت کرتی ہے۔اس صنعت کودوحصوںمیں تقسیم کرنے سے امریکی صنعت کار اور صارفین دونوں ہی متاثر ہوں گیاوریہ مخالفت میں اٹھایاجانے والاایک ایسا قدم ہوگاجس سے اس صنعت میں موجود مسابقت کی فضاکو نقصان پہنچے گا۔
ویسے اگربڑے تناظرمیں دیکھاجائے توایسے کسی قدم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایاجاسکتا۔آج اگر امریکہ کوچِپ سازی کی صنعت میں سبقت حاصل ہے تو وہ ایسے اقدام سے اپنے حریف کی رفتارکوکم توکرسکتاہے لیکن چین کی ترقی کی راہ میں حائل ہوناشایدممکن نہ ہو۔جس طرح سلی کون ویلی کے عروج کی بڑی وجہ امریکی حکومت کی مدد تھی، بالکل اسی طرح چین بھی اس صنعت کو فروغ دینے کیلئے حکومتی اورکاروباری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ چین نے ذہین لوگوں کواپنی جانب کھینچنے کیلئے ایک مراعاتی پیکیج بنایاہواہے۔اس معاملے میں تائیوان پرخصوصی نظررکھی جاتی ہے۔چین کی Huaweiجیسی کمپنیاں ایجادات کی صلاحیت رکھتی ہیں۔2015ء میں جب انٹیل پرچِپ چین درآمدکرنے پرپابندی لگائی گئی تواس پابندی نے چینی سپرکمپیوٹرکی صنعت کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

تازہ ترین خبریں