09:55 am
پاکستان کوتنہا کرنے کی بھارتی پالیسی

پاکستان کوتنہا کرنے کی بھارتی پالیسی

09:55 am

کیا بھارت پاکستان کو تنہا کر سکے گا۔ بھارت نے سارک کے بجائے دیگر علاقائی فورمز کی حوصلہ افزائی کیوں شروع کر رکھی ہے۔ محقق اور دانشور ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی تازہ تحقیق میں بھارتی خارجہ پالیسی پر ریسرچ کی ہے۔ جس کے مطابق بھارتی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں کے دوران ایک واضح بدلائوکا رخ نظر آرہا  ہے۔ نریندر مودی نے الیکشن میں کامیابی کے بعد اپنے عہدے کا دوسری بار حلف اٹھایا تو اِس تقریب میں موجود مختلف ممالک کی جو اعلیٰ ترین شخصیات موجود تھیں اُنکا تعلق ایک ایسی علاقائی تنظیم سے تھا جسے بیم اسٹیک کہا جاتا ہے
 
۔ 2014ء میں نریندر مودی نے پہلی بار بحیثیت وزیر اعظم حلف اٹھایا تو اُس وقت خارجی مہمانوں میںسارک تنظیم کے نمائندگان موجود تھے۔سارک جنوبی ایشیائی علاقائی تنظیم ہے۔بھارت کے علاوہ اِس تنظیم میں پاکستان،سری لنکا، نیپال،بھوٹان، مالدیپ،بنگلا دیش اور افغانستان شامل ہیں۔ ایسا لگتا ہے سارک کو ہند و پاک کی باہمی چپقلش کھا گئی ہے۔2016ء میں قرار یہ پایا تھا کہ سارک کے سر براہوں کا اجلاس پاکستان میں ہو گا لیکن بھارت نے اِس اجلاس میں شریک ہونے سے انکار کیا چنانچہ یہ اجلاس آج تک منعقد نہ ہو سکا۔ 2016ء  میں کشمیر کے حالات مزاحمتی تحریک میں شدت کی وجہ سے کافی خراب تھے۔بھارت حسب المعمول مزاحمتی تحریک میں شدت کو سرحد پار کی دہشت گردی سے تعبیر دیتا رہا اور ایسے میں یہ علاقائی تنظیم کشمیر کے ابتر حالات کی زد میں آئی۔ پچھلے دو تین سال سے سارک کے بجائے بھارت بیم اسٹیک کو اہمیت دے رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے جنوبی ایشیا کے مغرب کے بجائے بھارتی خارجی پالیسی کا رخ بتدریج مشرق کی جانب مڑ رہا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع بھارت کے مغرب کی جانب ہے جب کہ بیم اسٹیک بیشتر بھارت کے شرقی علاقے کو گھیرتی ہے۔  
بیم اسٹیک کا تعلق خلیج بنگال کے ساحلی علاقوں سے ہے۔ اِس میں بھارت کے علاوہ بنگلا دیش،میانمار (برما)،تھائی لینڈ، سری لنکا، نیپال وبھوٹان شامل ہیں۔اِس تنظیم کے اغراض و مقاصد کا پتہ کچھ حد تک اُسکے نام سے ہی چلتا ہے۔ بیم اسٹیک بہ معنی کلمہ خلیج بنگال کے ساحلی علاقے پر رہنے والے ممالک کے ملٹی سیکٹرل   تحرک سے ہے۔اِس کے احداف میں اِس علاقائی تنظیم سے وابستہ ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی پیشرفت شامل ہے۔ آج سے دو تین سال پہلے تک اِس تنظیم کا نام شاز و نادر ہی سننے میں آتا تھا جبکہ سارک جنوب ایشیا ء کی ایک جانی مانی تنظیم تھی۔ اگرچہ دوسری علاقائی تنظیموں کی مانند سارک کو مطلوبہ فروغ حاصل نہیں ہوا۔ یہ ظاہر ہے کہ پاک و بھارت  کی ترجیحات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے حالانکہ سارک کے چارٹر میں یہ عیاں ہے کہ باہمی تنازعات کو سارک میں موضوع بحث نہیں بنایا جائے گا۔ ایسی شرائط کے باوجود یہ تنظیم مطلوبہ اہداف کے حصول سے محروم رہی۔سارک کے بجائے نریندر مودی کی رسم حلف برداری میں بیم اسٹیک کے سربراہاں کو مدعو کرنا ایک اور علامت تھی کہ بھارت جنوبی ایشیائی علاقائی اہداف کے حصول سے جہاں تک ممکن ہوسکے پاکستان کو دور رکھنا چاہتا ہے۔یہ عالمی محفلوں میں پاکستان کو  تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ عالمی مبصروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی اہمیت اُس کے محل وقوع سے وابستہ ہے۔ ثانیاََ ایک ایٹمی قوت اور ایک منظم فوج رکھنے کے سبب اِسے عالمی محفلوں سے دور رکھنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا‘ چنانچہ آج بھی کئی عالمی تنظیموں میں بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ممبرشپ حاصل ہے۔دونوں ہی ممالک اقوام متحدہ کے ممبر ہیں اورایس سی او یا شنگھائی تعاون تنظیم کی ممبرشپ دونوں کو حاصل ہے جس میں روس و چین بھی شامل ہیں۔بھارتی خارجہ پالیسی کے علاقائی رخ کے علاوہ ایک عالمی رخ بھی ہے جو ہمارے آج کے تجزیے میں شامل ہے۔
ماضی میں 1947ء میں آزادی کے حصول کے بعد بھارتی خارجہ پالیسی میں جو عنصر نمایاں رہا  وہ عالمی سطح پہ کسی بھی بلاک سے بندھے نہ رہنے کی ترجیح تھی۔پاور بلاکوں سے دور رہنے کی ترجیح کو غیر جانبدارانہ خارجی پالیسی کا عنواں دیا گیا۔جنگ عظیم دوم کے بعد 20ویںصدی کی چوتھی دہائی  میں دو پاور بلاک وجود میں آئے۔امریکہ کی رہبری میں مغربی بلاک سرمایہ دارانہ نظام کا قائل تھا۔  جس کی علمی بنیاد ایڈم سمتھ  کی تھیوری نے فراہم کی۔ سوویت یونین کی رہبری میں دوسرے پاور بلاک میں مشرقی یورپی ممالک شامل رہے۔یہ کمیونسٹ اعتقاد کا بلاک تھا جس کی علمی بنیاد کارل مارکس  کی معروف تصنیف داس کیپٹل  نے فراہم کی۔ یہ جرمنی کے دانشور تھے۔ مغربی بلاک کا ملٹری فرنٹ نیٹو  تھا جو آج بھی قائم ہے جبکہ کمیونسٹ بلاک کا فوجی اتحاد (وارساپیکٹ) کہلاتا تھا۔ اِن دو بلاکوں کے بیچ کی رسہ کشی ایشائی ممالک میں نمایاں رہی۔ یہ دو بلاک کبھی کوریا میں اور کبھی ویٹنام میں برسر پیکار رہے۔ یہ پاور بلاک ایشیائی ممالک کو اپنے ساتھ باندھے رکھنے کی پالیسی پہ عمل پیرا تھے لہذا کئی ممالک اِن دو بلاکوں سے دور رہنے کی پالیسی پہ عمل پیرا رہے اور یہ غیر جانبدار ممالک کہلائے۔ بھارت ،مصر اور یوگو سلاوایہ اِن ممالک میں پیش پیش رہے۔ بھارت کے پنڈت نہرو،مصر کے کرنل ناصر اور یوگو سلاوایہ کے مارشل ٹیٹو غیر جانبدار ممالک کے تین بڑے رہبر مانے جاتے تھے۔غیر جانبدار ممالک ظاہراََ تو غیر جانبدار تھے لیکن عملاََ اُنکا جھکائوسووویت یونین کی جانب تھا۔چونکہ اُنکی افواج کیلئے فوجی ساز سامان کی سپلائی کا انحصار سووویت یونین پہ تھا۔
(جاری ہے)
1956ء میں جب سووویت افواج نے ہنگری اور 1968ء میں چیکو سلواکیہ  کی بغاوت کو ٹینکوں سے روند ڈالا تو غیر جانبدار ممالک نے چپ سادھ لی جبکہ اِن ممالک کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ کسی بھی زیادتی کے خلاف احتجاج کریں گے۔ بھارت کی اپنی مجبوریاں در پیش رہیںجو کہ بیشتر کشمیر سے وابستہ تھیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں سووویت یونین کے ویٹو کا مرہون منت رہا۔کشمیر کے معاملے میں سووویت یونین نے بھارت کا بھر پور ساتھ دیا۔ پاکستان مغربی فوجی بلاکوں میں بندھا ہوا تھا۔نیٹو کے علاوہ امریکہ کی سر کردگی میں مغربی بلاک کے کئی فوجی معاہدے تھے جن میں بغداد پیکٹ، سیٹو  اور سینٹو  کا نام لیا جا سکتا ہے۔مسلہ کشمیر اُسی زمانے میں عالمی سیاست کی بھول بھلیوں کا شکار ہوا۔ غیر جانبدار ممالک کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ چبھتی ہوئی بات کہی۔اُن کا یہ کہنا تھاکہ یہ ممالک دونوں بلاکوں سے دور تو رہتے ہیں لیکن دونوں بلاکوں کے ساز پہ رقص بھی کرتے ہیں۔ بھارت ابھی بھی غیر جانبدار ممالک کی عالمی تنظیم کا ممبر ہے لیکن یہ اب نام کی تنظیم رہ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی وزرائے اعظم غیر جانبدار ممالک کے اجلاسوں میں شرکت بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ نچلے درجے کی نمائندگی اِن اجلاس کا مقدر بن چکی ہے۔ 
سووویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کے روپ میں اُبھر آیا۔ پاور بلاکوں کی جداگانہ اہمیت ختم ہو گئی۔بھارت نے بتدریج اپنی خارجی پالیسی کا رخ تبدیل کرنا شروع کیا اوردھیرے دھیرے امریکہ کی جانب جھکائو واضح ہوتا گیا لیکن ایک مجبوری آڑے رہی۔بھارت کی فوجی سپلائی کا انحصار بہت حد تک روس پہ ہے۔سووویت یونین گر چہ سمٹ کر اب صرف روس رہ گیا لیکن ابھی بھی یہ فوجی سپلائی کی ایک بڑی منڈی ہے۔فوجی مال کی ساخت روس کی اعلی ترین صنعت ہے۔ بھارت نے سالہا سال جو سووویت یونین سے فوجی ساز و سامان خریدا ہے اُنکے لئے سپیر پارٹس کی خرید کیلئے بھارت کیلئے روس سے خوشگوار تعلقات بنائے رکھنا ایک مجبوری ہے گر چہ حالیہ برسوں میں بھارت نے   امریکہ،فرانس،برطانیہ اور اسرائیل سے فوجی ساز و سامان کی خرید کا آغاز کیا ہے۔تکنیکی اعتبار سے یہ مانا جا تا ہے کہ مغربی ممالک کی اسلحہ سازی روس سے بہتر ہے گر چہ قیمتیں روس سے زیادہ ہیں۔ پلوامہ حملہ واقعہ کے بعد پاک بھارت  کے بیچ جو حالیہ تصادم پیش آیا اُس کے بعد بھارتی وزیر اعظم کا ایک بیاں منظر عام پہ آیا جس میں نریندرا مودی کا کہنا تھاکہ اگر اُنکے پاس فرانس کے رافیل طیارے ہوتے تو بھارت کی فوجی پوزیشن مستحکم تر رہتی۔بھارت کی ترجیحات جو بھی ہوں آج کل ویسے بھی روسی فوجی مال کی خرید پہ امریکہ نے قدغن لگا دی ہے۔بھارت کسی پابندی کے نرغے میں نہیں آنا چاہتا۔ ویسے بھی امریکہ سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا حالیہ برسوں میں بھارت کی ترجیح رہی ہے۔ایک وسیع پیرائے میں جانچا جائے تو بھارت بھی امریکہ کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان روس کے قریب آرہا ہے۔ روس بلاشبہ ایک بڑی طاقت ہے۔یہ بات فوجی زمرے میں گر چہ ایک حقیقت ہے لیکن روس کو شش کے باوجود ایک اقتصادی طاقت نہیں بن سکا۔روس میں ابھی بھی اقتصادی ضعف عیاں ہے بلکہ ماضی میں یہی اقتصادی ضعف سوویت یونین کو بھی کھا گیا۔ اِس کے برعکس چین نہ صرف ایک نئی فوجی قوت کے طور پہ اُبھر رہا ہے بلکہ اُسکی اقتصادی حثیت بھی مغربی اقوام کیلئے ایک چلینج بنتی جا رہی ہے۔زمانہ قدیم کی شاہراہ ابریشم کو چین نے عصر حاضر میں ایک نیا رنگ و روپ دیا ہے۔ ون بیلٹ ون روڑ کے عالمی نظریے کو عملیانے کیلئے چین بے دریغ سرمایہ کاری کر رہا ہے جو موجودہ عالمی اقتصادی نقشے کیلئے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔چین کے عزائم  پہ روک لگانے کیلئے امریکہ کی منصوبہ بندی میں بھارت کا رول اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔چین کا علاقائی رول بھی بھارت کیلئے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ بھارت کے ہمسایہ ممالک میں چین کی وسیع سرمایہ کاری بھارت کے سفارتی اثر و رسوخ پہ ایک ایسا دبائوہے جو کہ بھارتی پالیسی سازوں کے ارادوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی قوت نہ صرف بھارت پہ اپنے اثرات چھوڑ رہی ہے بلکہ ایشیا پیسفک کے علاقہ جات پہ بھی اثرات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ایشیا پیسفک وہ علاقہ مانا جاتا ہے جہاں ایشیائی ممالک کا محل و قوع بحر منجمند کے ساحل پہ ہے۔اَن ممالک میں جاپان،ویٹنام اور فلپائن کا نام لیا جا سکتا ہے۔  ثانیاََ پیسفک ریجن میں آسٹریلیا بھی ایک بڑا ملک ہے۔ امریکہ کی سیاسی،سفارتی اور فوجی ترجیحات میں ایک کواڑ  کا وجود اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے جو در اصل ایک چہار ملکی اتحاد پہ مشتمل ہے۔ یہ چہار ملکی اتحاد امریکہ،جاپان،آسٹریلیا اور بھارت پہ مشتمل ہو سکتا ہے۔  اگر چہ ابھی اِس اتحاد کی تنظیمی شکل سامنے نہیں آئی ہے لیکن یہ موضوع عالمی مطبوعات اور سفارتی حلقوں میں عام ہے۔ یہ مجوزہ اتحاد چین کے بڑھتے ہوئے اقدامات پہ روک لگانے کیلئے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ چین اپنے سمندری ساحل پہ اپنی اجارہ داری منوانے پہ اڑا ہوا نظر آ رہا ہے جبکہ امریکہ ایک علاقائی اتحاد کی تشکیل سے اپنے عالمی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ جہاں چین عالمی سطح پہ امریکی ارادوں کے آڑے آ رہا ہے وہی علاقائی سطح پہ چین بھارت پہ بھاری پڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ روس کی البتہ یہ کوشش ہے کہ بھارت پوری طرح امریکی حلقہ اثر میں نہ رہے۔ روس کی کوشش یہ بھی ہے کہ چین اور بھارت کے مابین مسائل میں اُلجھائوکے بجائے سلجھائوکی کیفیت رہے۔
بھارت کا انحصار پاکستان پر ہو تو دونوں ممالک میں بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے جیسے کہ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پہلے بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج اور اب اس کے سربراہ اجلاس کے لئے نریندر مودی کے طیارے کو گزرنے دینے کی درخواست دہلی نے اسلام آباد سے کی ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات سے یہ بات عیاں ہے کہ امریکہ سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔حالیہ مہینوں میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ امریکہ کی مجوزہ پابندیوں کے خوف سے بھارت نے ایران سے تیل لینا تقریباََ بند کر لیا ہے حالانکہ حالیہ برسوں میں بھارت اور ایران کے مابین قریبی تعلقات رہے ہیں بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا بھارت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ بھارت کی ایک بہت بڑی مشکل افغانستان اوروسط ایشیائی  ممالک سے براہ راست راہداری کا نہ ہونا ہے۔پاکستان چونکہ در حال حاضر بھارت کیلئے راہداری فراہم کرنے کے لئے آمادہ نظر نہیں آ رہا ہے لہٰذا بھارت نے ایک متبادل راہ ڈھونڈھ لی۔ یہ متبادل راہداری ایران پورٹ چہاہ بہار فراہم کر رہا ہے۔یہاں سے بھارت زمینی راستے سے افغانستان اوروسط ایشیائی ممالک سے تجارتی روابط قائم کر سکتا ہے۔  بنابریں مانا جا سکتا ہے کہ ایران سے تعلقات بنائے رکھنا بھارتی خارجی پالیسی کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہو سکتا ہے لیکن امریکہ اپنی بات منوانے پہ تلا ہوا نظر آتا ہے۔ ایران سے تجارتی روابط پہ قدغن لگانے کے باوجود امریکہ نے بھارت کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اب پابندی ہمہ گیر ہو گئی ہے۔ بھارتی انتخابی مہم کے دوران ایرانی وزیر خارجہ جواد زریف بھارت آئے تھے لیکن اُنکو یہی جواب ملا کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد نئی حکومت فیصلہ کرے گی لیکن یہ خبر آئی ہے کہ بھارت تیل کی خرید کیلئے ایران کا متبادل ڈھونڈھ رہا ہے۔یہ بھی اطلاعات آ رہی ہیں کہ بھارت اب پیش رفتہ اسلحہ کی خرید کے لئے روس کے بجائے امریکہ کا رخ کر ے گا۔ آنے والے سالوں میں بھارت کی خارجہ پالیسی کیا رخ اختیار کرتی ہے یہ مبصرین کیلئے دلچسپی کا موضوع ہو گا۔پاکستان کو بھی اسی انداز میں اپنی معیشت کی مضبوطی کے لئے فوری اور ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔ 

 

تازہ ترین خبریں