09:56 am
سعودی عرب کے خلاف افواہیں اور بھارت کی طوطا چشمی

سعودی عرب کے خلاف افواہیں اور بھارت کی طوطا چشمی

09:56 am

پہلے سوشل میڈیا اور پھر بعض نجی چینلز کے ذریعے پرزور انداز میں یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ خیبرپختونخوا کی طرح سعودی عرب میں بھی اس مرتبہ ایک دن پہلے عید منائی گئی  جس کی وجہ سے سعودی عرب کے مسلمانوں نے ایک روزہ کم رکھا‘ اس پروپیگنڈے کے پیچھے چھپے ہوئے مخصوص مائنڈ سیٹ نے الجزیرہ ٹی وی کاایک ویڈیو کلپ بھی پھیلایا۔
 
سچی بات ہے کہ اس فیک خبر کو جس نے بھی سنا وہ حیران رہ گیا  بلکہ ایک دوست نے تو عید کی مبارکباد  کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی  بھیجا کہ لگتا ہے کہ سعودی عرب میں بھی مفتی منیب الرحمن ‘ مفتی پوپلزئی اور ایک عدد فواد چودھری پائے جاتے ہیں۔
اس خاکسار نے الجزیرہ کے ویڈیو کلپ کے حوالے سے جب اپنے بعض دوستوں سے استفسار کیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ہاشمی صاحب!  اسی بات سے آپ سوشل میڈیا اور بعض چینلز کی صحافتی کریڈیبلٹی کا اندازہ لگاسکتے ہیں؟
ان دوستوں کا کہنا تھا کہ ہمارے مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل میڈیا کے دماغ پر سعودی عرب کی مخالفت کا جو بھوت سوار ہے یہ سارا شاخسانہ اسی کا ہے ‘ورنہ سعودی سفارت خانے سے معلومات حاصل کی جاسکتی تھیں  اور اگر کسی کی رسائی سفارت خانے تک نہ تھی تو جڑواں شہروںکے  ان علماء ‘ صحافیوں اور دانشوروں سے رابطہ کیا جاسکتا تھا کہ سعودی عرب کے سفارت خانے کو جو بالکل اپنے گھر کی طرح ہی سمجھتے ہیں‘ الجزیرہ ٹی وی کا وہ ویڈیو کلپ2013 ء کا ہے لیکن اسے جان بوجھ کر اس مرتبہ عید کے موقع پر وسیع پیمانے پرپھیلا کر عید کی خوشیوں میں بھی سعودی عرب کے خلاف افواہوں کا زہر گھولنے کی کوشش کی گئی ۔میرا یہاں پر سعودی مخالف ’’بھتنوں‘‘ سے سوال ہے کہ وہ  اس طرح کی افواہیں پھیلا کر کیا ‘ پاک سعودی برادرانہ تعلقات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں؟ سعودی عرب وہ ملک ہے کہ جس نے ہر برے وقت میں پاکستان کی مدد کی‘ آپ پچھلے70 سالوں کو تو ایک طرف رکھیے‘  صرف موجودہ حومت کے ابتدائی دس مہینوں پر ہی ایک نظر ڈال لیجئے۔
عمران خان حکومت کے آغاز میں جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر شدید دبائو کا شکار تھے‘ سعودی عرب وہ ملک تھا کہ جس نے تین ارب ڈالر سے پاکستان کی مدد کرکے پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے کی کوشش کی۔یہ وہی ملک ہے کہ جو ان خطرناک حالات میں بھی پاکستان کو اربوں ڈالر کا ادھار تیل د ے رہا ہے‘ ایران اور سعودی عرب کے خراب تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ‘ لیکن ایران کی عراق‘ شام سے لے کر یمن تک مداخلت کی کہانیاں بھی زبان زد عام ہیں‘ پاکستان میں کسی بھی شخص ‘ جماعت یا گروہ کو ایران یا سعودی عرب کا ’’پراکسی‘‘ بننے کی اجازت بھی قطعاً نہیں ہونی چاہیے  لیکن کوئی سعودی عرب سے پاکستان کا مخلص دوست ملک ہونے کا اعزاز کیسے چھین سکتا ہے؟ پاک سعودی ہر سطح پر پائی جانے والی محبتوں کو مٹی میں کیسے ملاسکتا ہے؟ جی ہاں یہ اعزاز بھی پاک سعودی تعلقات کا ہی ہے کہ دونوں طرف کی حکومتیں ہوں‘ دونوں طرف کی مسلح افواج ہوں‘ دونوں طرف کے علماء اور سکالرز ہوں‘ دونوں طرف کے تاجر یا بزنس مین ہوں ‘ حتیٰ کہ  عوام سے عوام کے رابطوں میں بھی  پاک سعودی تعلقات  بلندیوں کی طرف گامزن ہیں۔
امریکہ‘ ایران تنازع بھی آجکل میڈیا کی شہ سرخیاں  بنا ہوا ہے … کل تک ایران کو جس بھارت کی دوستی پر فخر تھا ‘گزشتہ دنوں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف امریکہ‘ ایران تنازع میں حمایت حاصل کرنے کے لئے  بھارت پہنچے‘  بھارتی دورے کے دوران شسما سوراج نے تو ان سے ملاقات کی‘ لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں ملاقات کا وقت نہ دیا‘ کیوں؟ شائد اس لئے کہیں امریکہ ناراض نہ ہو جائے ‘ مطلب یہ کہ بھارت  ایران کی خاطر امریکہ کی ناراضگی مول لینے کے  تیار نہیں ہے۔
یادش بخیر! ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کہ جس کو گوادر کے مدمقابل قرار دیا جاتا تھا ‘جس کی تعمیر و  توسیع کے لئے بھارت نے 340 ملین ڈالر کی ایران کو امداد فراہم کی تھی ‘ زیادہ دور نہیں جاتے ‘ یہ رواں سال کے فروری کی بات ہے کہ جب پاسداران انقلاب پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’’ان کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے بات ہوگئی ہے اور یہ طے ہوا ہے کہ بہت ہوگیا خطے میں دہشت گردی  کا مل کر مقابلہ کریں گے‘‘   لیکن صرف تین مہینے میں ہی ایسی کایا پلٹی کہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے دوران نریندر مودی نے ملنا بھی گوارا نہ کیا‘ بھارتی دورے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یہاں انہوں نے صرف اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ہی نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کیں‘ اور یہ بیان جاری کیا کہ ایران خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے‘ یعنی خطے میں بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا سفر خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے بیان پر آکر رکا۔
ستم در ستم! طوطا چشمی کی انتہا  کرتے ہوئے امریکہ میں بھارتی سفیر نے واضح انداز میں ایران پر لگنے والی امریکی پابندیوں کی تائید کرتے ہوئے ایران سے تیل امپورٹ کرنے کے تمام معاہدے معطل  کرنے کا اعلان کیا اور بیان دیا کہ مستقبل میں بھارت ایران سے تیل امپورٹ نہیں کرے گا‘ سوال تو بنتا ہے کہ ایران اور بھارت کے وہ گہرے تعلقات کہاں گئے کہ جس کے بل بوتے پر وہ مل کر خطے میں ’’دہشت گردی‘‘ کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے؟
ہم جیسے طالبعلم تو روز اول سے ہی یہ بات لکھ رہے تھے کہ امریکہ‘ ایران سمیت ہر ملک کے حکمرانوں کو اپنی سرحدات کے اندر  رہ کر اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کی کوششیں کرنی چاہیں‘ دوسرے ملکوں کی سرحدات کے اندر تانک جھانک اور مداخلت ہمیشہ فتنہ فساد اور تباہی کا باعث بنتی ہے۔

تازہ ترین خبریں