09:56 am
آصف زرداری کی ضمانت مسترد!

آصف زرداری کی ضمانت مسترد!

09:56 am

٭اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی۔ اب گرفتاری یقینی ہے۔ ابتدائی خبروں کے مطابق آصف زرداری عدالت سے جا چکے تھے اس لئے فوری گرفتاری نہیں ہو سکی۔ ممکن ہے اب فوری طور پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے مگر…! مکافات عمل! باقی تفصیل اخبارات میں دیکھئے۔
 
٭آج وفاقی بجٹ کی کالی آندھی آ رہی ہے۔ امتحانی پرچوں کی طرح سارا بجٹ آئوٹ ہو چکا، ٹیکس بھی باہر آ گئے۔ خود حکومتی فوکل پرسن ٹیکسوں کا انکشاف کر رہے ہیں۔ سگریٹ کی ڈبیا پر 10 روپے ٹیکس کا اعلان، دکانوں پر سگریٹوں کی موجودہ نرخوں پر خریداری بڑھ گئی۔ وفاقی حکومت نے پٹرول کے نرخ آسمان پر پہنچا دیئے، پنجاب حکومت نے مزید ایک فیصد ٹیکس کا اعلان کر دیا۔ ایک بات یہ کہ قومی اسمبلی کے 342 ارکان اور منتخب ارکان کی بھاری کابینہ کے باوجود ایک غیر منتخب مشیر بجٹ پیش کرے گا! پوری کابینہ میںکوئی وزیر اس کام کا اہل نہ پایا گیا! مجھے ماضی کے کچھ مضحکہ خیز واقعات یاد آ رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر خزانہ غلام محمد نے پہلا بجٹ پیش کیا۔ قانون کے تحت بجٹ کی منظوری کی طے شدہ تاریخ کے روز رات بارہ بجے تک منظوری لازمی تھی، ایسا نہ ہونے پر ملک میں مالیاتی بحران پیدا ہو جاتا۔ مگر بجٹ پر بحث میںرات بارہ بجے تک مکمل نہ ہو سکی۔ اور بجٹ کی منظوری خطرہ میں پڑ گئی۔ صرف پانچ منٹ باقی تھے کہ اسمبلی کے صدر (سپیکر) کی ہدائت پر اسمبلی میں لگی ہوئی گھڑی کا وقت دو گھنٹے پیچھے کر دیا گیا اور بارہ بجے سے پہلے بجٹ منظور کر لیا گیا۔ جنرل ایوب خان کے دور تک مغربی پاکستان کی اسمبلی میں ریلوے کا الگ بجٹ پیش کیا جاتا تھا۔ صوبائی بجٹ سے کچھ دیرپہلے اسمبلی میں ریلوے کا بجٹ پیش کیا گیا۔ ایک رکن نے ریلوے کی کارکردگی پر سخت تنقید کر دی (آج بھی وہی حال ہے)۔ اسمبلی کے ارکان جذباتی ہو گئے اور اسمبلی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر بجٹ مسترد کر دیا۔ جنرل ایوب کو سخت طیش آیا۔ اسمبلی کے سپیکر اور سیکرٹری کو بلا کر ڈانٹ ڈپٹ کی۔ اگلے روز ریلوے کا وہی بجٹ متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔ جنرل یحییٰ خاں کے دور میں بجٹ کے ساتھ عجیب معاملہ پیش آیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں موجود نہیں تھیں۔ یحییٰ خاں اپنے ’حال‘ میں ’مَست‘ رہتا تھا۔ 30 جون کو رات بارہ بجے تک بجٹ منظور ہونا تھا مگر ایک دن پہلے تک کسی بجٹ کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ وزارت خزانہ کے حکام نے جنرل یحییٰ کو پریشانی بتائی۔ اس نے حکم دیا کہ فوری طور پر قومی اور صوبائی بجٹ تیار کئے جائیں۔ وزارت خزانہ کے حکام نے ساری رات جاگ کر اور اگلے پورے دن میں سخت محنت کے ساتھ ایک قومی اور چار صوبائی بجٹ تیار کرائے۔ جنرل یحییٰ نے کسی بحث یا جائزہ کے بغیر 30 جون کو سات بجے شام مارشل لا کے ایک حکم کے ذریعے سارے بجٹ منظور کردیئے۔ پوری قوم سخت اضطراب کے عالم میں تھی۔ اخبارات بھی پریشان تھے۔ اچانک انہیں اکٹھے پانچ بجٹ مل گئے۔ ان دنوں بجٹ انگریزی میں ٹیلی پرنٹروں پر آتا تھا اس کا ترجمہ کرنا پڑتا تھا۔ اخبارات نے جس مشکل کے ساتھ اکٹھے پانچ بجٹ چھاپے وہ صحافتی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ اب ایک رسمی بجٹ آ رہا ہے جو تقریباً سارا آئوٹ ہو چکا ہے، ایک پرانا قصہ یاد آ رہا ہے۔ ایک شخص نے اپنے بچوں کو ہدائت کی کہ شام کے وقت ایک مہمان آئے گا اس کی ناک کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ مہمان آیا تو کسی وجہ سے اس کی ناک غائب تھی۔ سب سے چھوٹے بچے نے مہمان کے سامنے باپ سے کہا کہ ابا! آپ نے منع کیا تھا کہ مہمان کی ناک کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی، ان کی تو ناک ہی نہیں ہے، بات کیا کرنی تھی؟
٭کچھ دلچسپ باتیں! بھارت کے ایک نجی ٹی ویAMF نے ایک رپورٹ نشر کی کہ ملکی اور غیر ملکی ماہرین کے مطابق پاکستان نے سندھ کے علاقے سے بھارتی علاقہ راجستھان میں شدید گرم ہوائیںبھیج دی ہیں جو پورے بھارت میں پھیل گئی ہیںاور پورا ملک سخت گرمی سے جھلس رہا ہے۔ یہ خبردراصل امریکہ کے ایک کامیڈین جیری میکلان (مزاحیہ اداکار) نے امریکہ سے جاری کی۔ اسے پوری سنجیدگی کے ساتھ نشر کر دیا گیا۔ اس پر خود بھارت میں طنز و مزاح کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک ’موسمیاتی ماہر‘ نے مزاحیہ خبر دی کہ اس کی تحقیق کے مطابق پاکستان نے راجستھان سے ملنے والی سینکڑوں کلو میٹر سرحد کے ساتھ آگ کے بڑھکتے ہوئے ہزاروں تنور نصب کر دیئے ہیں۔ ان میں گیس سے ہر وقت آگ بھڑکتی رہتی ہے۔ ان تنوروں سے خارج ہونے والی جھلسا دینے والی شدید گرم آگ اور ہوا کا رخ راجستھان کی طرف کر دیا گیا ہے اس سے پورا بھارت انتہائی گرم موسم کی زد میں آ گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ خبر چلانے والی ٹیلی ویژن نے ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں راجستھان کے ایک سرحدی گائوں پر گزرنے والی گرم آندھی دکھائی گئی ہے!! اس پاگل پن پر قارئین خود ہی کوئی تبصرہ کر لیں۔
٭ایک بہت اہم خبر کہ پاکستان بار کونسل کے صدر کنرانی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے روز 14 جون کو وکلاء کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے، پنجاب بار کونسل نے اسے مسترد کر دیا ہے کہ قانون ہر ایک کے لئے یکساں ہے۔ جسٹس عیسیٰ کو ریفرنس میں باعزت بری ہونا چاہئے ورنہ ان کے خلاف متعدد الزامات سے ان کی بطور جج حیثیت اور ساکھ متنازعہ رہے گی۔ انہیں ریفرنس کی سماعت تک کسی عدالتی فرائض کی انجام دہی سے روکا جا چکا ہے۔ اس ریفرنس کی مخالفت بلوچستان سے پاکستان بار کے صدر، سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کر رہے ہیں۔ یوں یہ علاقائی سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ پاکستان بار کے صدر ریفرنس واپس نہ ہونے پر لاشیں گرانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔وہ گزشتہ روز کراچی بار ایسوسی ایشن میں گئے تو وکلا نے انہیں آگے جانے سے روک دیا اوار کہا کہ ملک کا قانون سب کے لئے یکساں ہے، 14 جون کو ہڑتال نہیں ہو گی۔ یہ مطالبہ منظور ہونے کا صاف مطلب ہے کہ آئندہ پاکستان بار کا صدر سپریم کورٹ کو کنٹرول کیا کرے گی۔ مریم نواز کا بیان مزید ستم انگیز کہ ن لیگ کے ججوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے! استغفار! مبینہ سیاسی ججوں کی کیا عدالتی وُقعت رہ جائے گی؟
٭بھارتی لوک سبھا کے انتخابات پر 12 کھرب 90 ارب روپے خرچ آئے۔ یہ رقم پاکستان کے کل سالانہ بجٹ کا تقریباً تیسرا حصہ بنتی ہے۔ پاکستان میں آٹھ ماہ پہلے ہونے والے انتخابات پر 25 ارب روپے کے اخراجات ہوئے تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان کے نئے بجٹ میں نئے انتخابات کے لئے کوئی رقم نہیں رکھی جا رہی۔ مولانا فضل الرحمن نئے انتخابات پر زور دے رہے ہیں انہیں بجٹ میں کم از کم 25 ارب روپے رکھے جانے کا مطالبہ بھی کرنا چاہئے تھا۔ مگر انہوں نے توجہ نہیں دی۔
٭بھارتی وزیراعظم کے دفتر سے حکومت پاکستان کو درخواست موصول ہوئی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس ماں کے آخر میں کرغیزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس میں شرکت کے لئے جانا ہے، اس کے طیارے کو پاکستان کی فضا میں سے گزرنے کی اجازت دی جائے۔ اس وقت بھارت کے لئے پاکستان کی فضا بند ہونے سے بھارتی طیاروں کو دوسرے راستوں سے گزرنے میں تقریباً چار گھنٹے زیادہ لگتے ہیں اس سے لاکھوں لٹر تیل زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کے طیارے کو پاکستان سے گزرنے کی اجازت معمولی بات ہے۔ یہ اجازت تو مل جائے گی مگر اس درخواست کے ساتھ بھارتی حکومت کا بیان بھی آ گیا ہے کہ پاکستان جب تک دہشت گردی ختم نہیں کرتا اس سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے!

تازہ ترین خبریں