08:13 am
گولڈن ٹمپل ‘ خالصتان اور شیوا جی

گولڈن ٹمپل ‘ خالصتان اور شیوا جی

08:13 am

6جون کو اندرا گاندھی حکومت کی فوج نے گولڈن ٹمپل پر حملہ آورہو کر ہزاروں کی تعداد میں سکھوں کا قتل عام کر دیا تھا۔ ردعمل میں ایک سکھ محافظ نے وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل کر دیا۔  اندرا قتل کے بعد ہندوئوں  نے سماجی سطح پر سکھوں کا پھر قتل کر دیا تھا۔  یہ سکھ مظلومیت کا انڈیا عہد ہے یا ہندو ازم کا سکھ مذہب‘ گولڈن ٹمپل اور سکھ سیاسی شعور کو نیست و نابود کرنے کا عہد ہے؟ امریکہ میں خالصتان کی تحریک اتنی موجود ہے کہ امریکی سیاست کے افراد سکھوں کی حمایت اکثر کرتے ہیں اور خالصتان کے قیام کے جواز کو قبول کرتے ہیں۔ اس سال  بھی 6جون کو گولڈن ٹمپل میں سکھوں نے اندرا گاندھی کے ظلم کو یاد کیا‘ خالصتان حاصل کرنے کے نعرے لگائے اور بھارت مردہ باد کہا تو مودی حکومت نے گولڈن ٹمپل میں 6جون کے سکھ اجتماع کو پاکستانی شرارت قرار دیا۔ کیا امریکہ میں بھی سکھوں کی حمایت میں سرگرم امریکی پاکستانی سازش میں مبتلا ہیں؟
 
سکھ اور مسلمان‘ فطری طور پر‘ دینی فکر‘ سماجی رواداری اور معاشرتی اسلوب میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ گولڈن ٹمپل کے قیام میں لاہور کے صوفی بزرگ میاں میر حسین خود شریک ہوئے تھے۔ سکھ مذہب اور گرنتھ میں کچھ قرآنی مفاہیم‘ اکثر بابا فرید کا کلام بھی شامل ہے۔ اس اعتبار سے سکھ مذہب توحید کی طرف زیادہ رحجان رکھتا ہے۔ بابا گرونانگ کی زندگی میں نارروال کے مسلمان بابا مروانہ کا بھی سماجی و معاشرتی حصہ موجود ہے۔ سکھوں اور مسلمانوں میں جو ’’دوری‘‘ اور معاشرتی ’’اختلاف‘‘ پیدا ہوا وہ اورنگ زیب کے عہد کے غلط فہمی پر مبنی رویوں کے سبب تھا۔ اس عہد میں سکھوں  کو اورنگ زیب حکومت سے کافی شکایات پیدا ہوئیں تو سکھ اورنگ زیب کے مخالف ہوگئے اور جنگلوں میں چلے گئے جبکہ ہندو اور سکھ زیادہ قریب ہوگئے۔ اسی ہندو سکھ قریب کو کانگرسی قیادت نے نہایت مہارت سے مسلمان دشمنی میں تحریک پاکستان میں استعمال کیا اور ماسٹر تارا سنگھ جو ایک مدبر سے زیادہ جذباتی کردار ثابت ہوئے‘ نے  پاکستان تحریک کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں تلوار لہرا دی اور دشمنی ظاہر کر دی۔
یوں ایک جذباتی سکھ سیاسی رہنما کے عمل نے تحریک پاکستان کے دنوں اور ہجرت میں  دونوں اطراف سے ہندوئوں کی مسلمانوں کے ساتھ ’’سکھ دشمنی‘‘ کے خواب کو پورا کر دیا۔ حالانکہ مدبر قائداعظم نے بار بار سکھ قیادت  کو سمجھایا تھا کہ ہندو سکھوں کے ساتھ مخلص نہیں اور ان کے ساتھ بدتر سلوک کریں گے مگر ماسٹر تارا سنگھ کی عقل سوئی ہوئی تھی۔ لہٰذا وہ ہندو سازش کی تکمیل میں آلہ کار ثابت ہو کر پنجاب کی دونوں اطراف سے ہوتی ہجرت کو خون آلود کر دیا۔ جبکہ مغربی بنگال سے مشرقی پاکستان کی طرف ہوتی مسلمان ہجرت میں کوئی خون آلود منظر موجود  نہیں تھا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بنگال میں جذباتی سکھ نہیں تھے۔ جبکہ گاندھی  نے بھی بنگال کی ہجرت کو پرامن رکھنے میں مثبت کردار ادا کیا جبکہ پنجاب میں سکھ قیادت گاندھی کی بجائے سردار ولبھ بھائی پاٹیل کے زیادہ زیر اثر تھی۔
گزشتہ کالم میں ہم نے سردار پاٹیل کے بت مجسمے اور ذاتی کردار کے حوالے سے معلومات دی تھیں۔ ہندوئوں میں قدیم ہندو ہیرو کا درجہ شیوا جی کو حاصل ہے جس نے صلح کے لئے آئے ہوئے جنرل افضل خان کو دھوکے سے قتل کر دیا اور پھر مغل سلطنت سے لڑتا رہا اور 40قلعے فتح کرلئے۔ شیوا کی فتوحات میں مسلمان شائستہ خاتون جنرل کا   بنیادی کردار تھا۔ اورنگ زیب نے بالآخر شیوا جی کی قوت کو پاشا پاش کر دیا۔ اس مرتبہ حالت میں  شیوا جی کا پہلی بیوی سے بیٹا شامبوجی الگ ہوگیا اور بیجاپور واپس چلا گیا۔
53سال کی عمر میں شیواجی کی وفات ہوئی۔ کہا جاتا ہے دوسری بیوی نے زہر دیا تاکہ شامبوجی کی بجائے دوسری بیوی  سے شیوا جی کے دس سالہ بیٹے کی ہندوئوں کا سردار بنایا جاسکے۔ ہندو مجاہد اعظم کے طور پر شیواجی کا مجسمہکر ٹانک میں موجود ہے جبکہ سردار ولبھ بھائی پاٹیل کو جدید ہندو مجاہد اعظم کا درجہ حاصل ہے اور اس کا عظیم ترین مجسمہ گجرات میں موجود ہے جدید ہندو ازم کی جڑیں 1923ء میں دریافت ہوتی ہیں۔ اگر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ لبرل‘ سیکولر انڈیا کی جڑیں 1947ء میں مضبوط ہوئیں اور یہ عہد نہرو کے سوشلزم اور سیکولر ازم کے اشتراک کا ہے جس میں اشو کا اور اکبر مغل اعظم عہد کو نمایاں کیا گیا ہے ہندو مذہب کے فروغ کے حامی سردار ولبھ بھائی پاٹیل کو وہ مکمل اقتدار  بھی نہ ملا جو نہرو کو حاصل تھا۔
 انگریزی راج کے سیکولر ازم کی بنیاد کو ہی نہرو نے مسلمانوں کے اشتراک (مولانا آزاد اور کچھ دوسرے مسلمانوں) اور مدد سے پاکستان کو ناکام ثابت کرنے  اور پاکستان کی مذہب کی بنیاد پر تشکیل ریاست حکمت عملی کو غلط ثابت کرنے کی جدوجہد کو نمایاں کیا۔ البتہ کشمیر کو پاکستان سے اچک لینے کے ذریعے پاکستان کو پانیوں کے ذخائر سے ضرور محروم کر دیا مگر یہ سب لارڈ مائونٹبیٹن اور بائونڈری کمیشن کے انگریز سربراہ کے تعاون سے کیا۔ یوں قیام پاکستان کے بعد کا عہد برطانیہ کا پاکستان مخالف زیادہ نظر آتا ہے کالم مکمل ہو رہا ہے لہٰذا بھارت کے سیکولر ازم‘ سوشلزم سے دوبارہ مکمل ہندو بھارت جوکہ موجودہ بی جی پی اقتدار کی شکل میں موجود ہے پرنگارشات کسی اگلے کالم میں پیش کریں گے۔ ان شاء اللہ

تازہ ترین خبریں