08:15 am
مسائل کا حل اجتماعی توبہ

مسائل کا حل اجتماعی توبہ

08:15 am

مسٹر ٹن پرسنٹ سے ہنڈرڈ پرسنٹ کی شہرت حاصل کرنے والے ’’صاف ستھرے‘‘ اور ’’معصوم‘‘ آصف علی زرداری کی گرفتاری سیاسی اور جماعتی بتوں کے پجاریوں کے لئے تو بڑی خبر ہوسکتی ہے مگر میرے لئے نہیں‘ اس لئے اس موضوع پر طبع آزمائی کی بجائے آئیے پاکستان اور امت مسلمہ کے مجموعی حالات پر بحث کرلیتے ہیں۔
 
اس وقت امہ مسلمہ بالعموم اور اہل پاکستان بالخصوص  پے درپے مصائب اور پریشانیوں سے دوچار ہیں‘ ایک مصیبت ختم نہیں ہوتی تو دوسری پہلے سے بھی بڑھ کر آجاتی ہے…  وہ ختم نہیں ہوتی تو تیسری اور یوں مصائب در مصائب دکھ در  دکھ ‘پریشانی در پریشانی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے… جس نے پوری قوم کونڈھال کر رکھا ہے‘ ملک کے اندر بڑھتی ہوئی مہنگائی کی  لہر  ہو یا قبائلی علاقوں میں پی ٹی ایم کی شکل میں سر اٹھاتی بغاوت‘ ملک میں بڑھتے ہوئے لاقانونیت کے واقعات ہوں یا عوام کا حکمرانوں پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد‘ غرضیکہ چاروں طرف ایک نامعلوم سی شدید قسم کی بے چینی کی فضا چھائی ہوئی نظر آرہی ہے…  یوں لگتا ہے جیسا کہ اس ملک اور قوم سے خوشیاں ناراض ہوکر چلی گئی ہیں… نفرتوں ‘ غموں ‘دکھوں ‘ مصیبتوں اور پریشانیوں کے آسیب اس ملک میں اپنے ڈیرے ڈال چکے ہیں‘ سچ پوچھیں تو جب سے ہم نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے اور اسلام اور مسلم دشمن طاقتوں کو اپنا کندھا فراہم کیا ہے اسی دن سے  ہمارے ملک اور قوم پر ایک لامتناہی سلسلہ مصیبتوں اور پریشانیوں کا ٹوٹ پڑا ہے جو کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے‘ اس وقت پوری قوم ان مصیبتوں اور پریشانیوں پر نوحہ کناں ہے‘ ہر شخص پریشانی اور مصیبت سے دوچار ہے‘مصیبت اور پریشانی   پر ماتم  کر رہا ہے‘ لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح پریشانیوں اور مصیبتوں پر ماتم اور نوحہ کرنے سے یہ مصائب اور پریشانیاں ختم ہو جائیں گی‘ ہرگز نہیں… بحیثیت مسلمان ہمیں سب سے پہلے تو ان مصیبتوں اور پریشانیوں کے اسباب کو تلاش کرنا چاہیے‘ کیونکہ جب تک بیماری کی وجہ معلوم نہ ہوگی اس وقت تک اس کا صحیح علاج کسی طور بھی ممکن نہیں‘ اللہ رب العزت کی ذات بڑی رحیم اور کریم ذات ہے وہ اپنے بندے کے ساتھ ایک ماں سے کئی گنا بڑھ کر محبت اور پیار رکھتی ہے‘ ایک ماں اپنے بچے کو دکھ دینا اور مصیبت پریشانی سے دوچار کرنا تو دور کی بات ہے ‘ وہ تو یہ بھی گوارا نہیں کرتی کہ میرے بچے کو کانٹا تک بھی چبھے تو اللہ کریم کی ذات کیسے گوارا کرسکتی ہے کہ میرے بندے کو کوئی دکھ ‘ مصیبت یا پریشانی آئے لیکن بچے کے جسم میں اگر کوئی پھوڑا پھنسی زہریلا اور مہلک خطرناک قسم کا نکل آئے اور ڈاکٹر آپریشن تجویز کر دے… تو ماں باپ بھی اس آپریشن میں بڑھ چڑھ کر ڈاکٹر کے ممدو معاون ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کے ممنون احسان بھی ہوتے ہیں‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ آپریشن نہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں یہ بچہ ہلاک بھی ہوسکتا ہے… اس لئے یہ آپریشن کی وقتی تکلیف گوارا کرلیتے ہیں تاکہ ہلاکت سے بچا جاسکے‘ بالکل اسی طرح بندہ جب کسی خطرناک اور مہلک روحانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ رحیم و کریم ذات اس کو بڑی ہلاکت اور تباہی و بربادی سے بچانے کیلئے دنیا میں دکھوں ‘ مصیبتوں  اور غموں کو بھیج کر اس کا آپریشن کر دیتے ہیں تاکہ وہ میری طرف رجوع کرے اور بڑی ہلاکت سے بچ جائے۔
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ان مصائب اور پریشانیوں کے اسباب اور مقصد جابجا مختلف پیرائے میں بیان فرمایا ہے… سورۃ روم ‘پ21 میں ارشاد گرامی ہے کہ ’’خشکی اور تری  میں جتنی خرابیاں ظاہر ہوتی ہیں  لوگوں کی ہاتھ کی کمائی کا نتیجہ ہیں تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔‘‘ (آیت نمبر41 )
اس آیت کی تفسیر میں  شیخ  الاسلام مفتی تقی عثمانی  دامت برکاتہم رقمطراز ہیں کہ  مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو عام مصیبتیں لوگوں پر آئیں‘ مثلاً قحط ‘ وبائیں ‘ زلزلے ‘ ظالموں کا تسلط ان سب کا اصل سبب یہ تھا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف وزی کی اور اس طرح یہ مصیبتیں اپنے ہاتھوں مول لیں اور ان کا ایک مقصد یہ تھا کہ ان مصائب سے دوچار ہوکر لوگوں کے دل کچھ نرم پڑیں اور وہ اپنے برے اعمال سے باز آئیں… یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ دنیوی مصیبتوں کا بعض اوقات کوئی ظاہری سبب بھی ہوتا ہے جو کائنات کے طبعی قوانین کے مطابق اپنا اثر دکھاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ سبب بھی اللہ تعالیٰ  ہی کا مہیا کیا ہوا ہے اور اس کو کسی خاص وقت یا خاص جگہ پر موثر بنا دینا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے ہوتا ہے اور عموماً اس کی بنیادی وجہ انسانوں کی بداعمالیاں ہوتی ہیں‘ اس طرح آیت کریمہ یہ سبق دے رہی ہے کہ عام مصیبتوں کے وقت چاہے وہ ظاہری اسباب کے ماتحت وجود میں آئی ہیں اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع  کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ 
قرآن پاک میں  ایک آیت میں اس طرح آیا ہے۔
وما اصابکم من مصیبتہ فبما کسبت ایدیکم ویعفواعن کثیراً۔
یعنی تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے ہے۔ یعنی ان گناہوں کے سبب جو تم کرتے رہتے ہو اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف ہی کر دیتے  ہیں۔(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں