08:15 am
شمالی وزیرستان میں دہشت گردی  کے پیچھے کون ہے؟

شمالی وزیرستان میں دہشت گردی  کے پیچھے کون ہے؟

08:15 am

گزشتہ ہفتہ شمالی وزیرستان میں چار فوجی افسران شہید ہوئے یہ افسران فوجی گاڑی میں معمول کے مطابق ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی سٹرک پر نصب شدہ ایک دیسی ساخت کے بم سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے یہ افسران شہید ہو گئے جب کہ پانچ زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریب ہی ملٹری اسپتال میں علاج کے لیے منتقل کر دیا ہے۔ شہید ہونے والے افسران کو تمام تر فوجی اعزازت  کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں دفن کر دیا ہے۔  اس المناک واقع  کے دو دن کے بعد پھر اس طرح کا واقع پیش آیا  جس میں دو سولجر اور دیگر افراد زخمی ہوئے ۔دہشت گردی کے یہ تمام واقعات افغانستان کی سرحد کے قریب پیش آئے ہیں جہاں افواج پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے فینسنگ کر رہی ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے یہ واقعات کیوں پیش آرہے ہیں جبکہ پاکستان کی فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت حد تک دہشت گردی اور اس سے وابستہ عناصر کا قلع قمع کر دیا ہے ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت بھارت کے تابع ہو چکی ہے بھارت ہی کے ایما پر افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس اور ’’ را‘‘  سے تنخواہ ملتی ہے ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر بھارت نواز عناصر دہشت گردی کروانے کے لیے دہشت گردی کی تربیت دے کر شمالی وزیرستان اور اس کے قرب وجو ار میں بھیجتے۔ گزشتہ ہفتہ دہشت گردی کے اس قابل مذمت واقع میں یہی عناصر شامل ہیں جو افغانستان کے راستے شمالی وزیرستان میں داخل ہوئے تھے اور اس مذموم کاروائی کا ارتکاب کیا جس میں پاکستان کے چار فوجی افسران شہید ہوئے۔
 
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب سے پاکستان کی افواج اور خیبر پختون خواہ کی حکومت نے باہم مل کر افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے درمیان باڑ لگانے کا مشکل کام شروع کیا ہے سب سے زیادہ تکلیف بھارت اور کابل کی بھارت نواز حکومت کو ہو رہی ہے۔  امریکہ بہادر بھی باڑ لگانے کے حق میں نہیں ہے  لیکن باڑ لگانے کا فیصلہ دہشت گردوں کی کاروائیوں کو رکوانے کے لیے ضروری تھا جو افغانستا ن کے راستے آ کر پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں اس کے اچھے نتائج بھی نکل رہے ہیں لیکن کیونکہ پاکستان اور افغانستان کی 2500 ہزار کلومیٹر پھیلی ہوئی سرحد کو مکمل طور پر بند کرنا مشکل ترین کام ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یہ دہشت گرد پیچیدہ راستوں سے گزر کر شمالی وزیرستان پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں یہ وحشیانہ کارروائی کرنے کے بعد فرار ہوجاتے ہیں یا پھر گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔ مزید برآں یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ ان دہشت گردانہ کاروائیوں کے پیچھے کچھ مقامی عناصر کا بھی ہاتھ ہے جو چند سکوں کی خاطر ان پاکستان دشمن عناصر کی مدد کرتے ہیں ان کو پناہ بھی دیتے ہیںبعد میں انہیں فرار ہونے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں لیکن ایسے عناصر کی تعداد زیادہ نہیں ہے بہت جلد ان کا سراغ لگا لیا جائے گا بعد میں ان کا جو انجام ہو گا وہ سب کو معلوم ہے ۔ایسے کچھ عناصر پختون موومنٹ میں شامل ہو گئے ہیں جو ’’را‘‘ کی  مالی امداد اور مشاروت سے پاکستان دشمن کاروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں اس نام نہاد مومنٹ کے ایک ترجمان نے ابھی کچھ دن قبل یہ کہا تھا کہ’’ پاکستان کی فوج شمالی علاقوں سے نکل جائے ورنہ یہاں سے لاشیں جائیں گی‘‘ یہ بیان بھی ’’ را‘‘ نے دلوایا تھا حالانکہ فاٹا اب خیبر پختونخواہ کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون سے اب یہ علاقہ پاکستان کے مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہو چکا ہے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ بھی کر دیا ہے تاکہ یہاں کے منتخب افراد اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کر ا کر عوام کو سہولتیں پہنچا سکیں ۔
 فاٹا سے نکل جانے کی دھمکیاں وہی دے سکتے ہیں جو پاکستان دشمن طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔  ان کے ساتھ سیاسی گفتگو کرنا وقت کا زیاں ہے کیونکہ جن مطالبات کی کی روشنی میں فاٹا کے عوام کو یہ بھٹکا رہے ہیں وہ نئے نہیں ہیں ۔ پاکستا ن کی حکومت ان مسائل سے بخوبی واقف ہے او ر ان کو حل کرنے کے لیے خلوص دل کے ساتھ کوششیں کر رہی ہے۔ ظاہر اس پسماندہ علاقے کو ترقی یافتہ علاقوں کی صفوں میں شامل کرنے میں دن لگیں گے تاہم معاشی و سماجی بہتری کا یہ عمل جاری و ساری رہے گا ۔اس کے علاوہ خیبر پختونخواہ کی حکومت مرکزی حکومت کی مشاورت کے ساتھ ان علاقوں میں لوکل گورنمنٹ کے نظام کو رائج کر کے اس کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تاکہ نچلی سطح پر عوام کو جو مسائل درپیش ہیں انہیں فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ دراصل لوکل گورنمنٹ کے نظام کو فعال بنا کر ہی ان علاقوں کے معاشی و سماجی حالات کو بہتر کیا جاسکتا ہے خصوصیت کے ساتھ تعلیم و صحت کے شعبوں میں !  دراصل قبائلی رسم ورواج میں تبدیلی لانے کے لیے جدید تعلیم کو رائج کرنا اشد ضروری ہے۔ تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے رسم ورواج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم کے ذریعے ان کے سماجی و سیاسی خیالات کو عوام دوست اور انسان دوست بنایا جا سکے، تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو فاٹا کے علاقوں میں غیر معمولی تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتی ہے ۔ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت تہہ دل سے چاہتی ہے کہ یہاں تعلیم کا فروغ ہر طرح سے ممکن بنایا جاسکے اور نئی نسل کو یہ احساس دلایا جاسکے کہ پاکستان کا قیام اور اس کی گونا گوں ترقی ہر لحاظ سے اللہ کریم کی جانب سے ایک نعمت سے کم نہیں ہے جو تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے ۔ تاہم یہاں یہ بات بھی لکھنا بے حد ضروری ہے کہ بعض عناصر تعلیم کے فروغ کے خلاف ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ ا گر ان علاقوں میں تعلیم پھیل گئی اور نئی نسل تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان  بزرگوںکی راہ پر نہیں چلے گی ان کا اثرورسوخ بھی کم ہوجائے گا ، یہی وجہ ہے کہ اسکولوں اور درس گاہوں کو دہشت گردوں کے ذریعے مسما ر کیا جارہا ہے تاکہ تعلیم کے فروغ اور پھیلائو کوروکا جاسکے ۔ پاکستان میں اسکولوں اور درسگاہوں کو تباہ کرنے کی ایک تاریخ ہے۔ ایسے تعلیم دشمن ، وطن دشمن عناصر کو حکومت، فوج اور مقامی افراد کے تعاون سے ختم کردیا گیا ہے لیکن اب بھی ایسی طاہوتی طاقتیں موجود ہیں جو موقع ملنے پر دہشت گردانہ کاروائیوں سے باز نہیں آتی ہیں ۔ دراصل پاکستان یہود ، ہنوداور دیگر اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کی آمجگاہ بن گیا ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ ان سازشوں میں پاکستان کے کچھ سیاست دان اور این جی اوز بھی شامل ہو چکے ہیں جو سامراج کے عالمی ایجنڈے کو روپے پیسے کی لالچ میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ذرا سوچیے! 

تازہ ترین خبریں