08:16 am
پاکستان کوتنہا کرنے کی بھارتی پالیسی

پاکستان کوتنہا کرنے کی بھارتی پالیسی

08:16 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

1956ء میں جب سووویت افواج نے ہنگری اور 1968ء میں چیکو سلواکیہ  کی بغاوت کو ٹینکوں سے روند ڈالا تو غیر جانبدار ممالک نے چپ سادھ لی جبکہ اِن ممالک کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ کسی بھی زیادتی کے خلاف احتجاج کریں گے۔ بھارت کی اپنی مجبوریاں در پیش رہیںجو کہ بیشتر کشمیر سے وابستہ تھیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں سووویت یونین کے ویٹو کا مرہون منت رہا۔کشمیر کے معاملے میں سووویت یونین نے بھارت کا بھر پور ساتھ دیا۔ پاکستان مغربی فوجی بلاکوں میں بندھا ہوا تھا۔نیٹو کے علاوہ امریکہ کی سر کردگی میں مغربی بلاک کے کئی فوجی معاہدے تھے جن میں بغداد پیکٹ، سیٹو  اور سینٹو  کا نام لیا جا سکتا ہے۔مسلہ کشمیر اُسی زمانے میں عالمی سیاست کی بھول بھلیوں کا شکار ہوا۔ غیر جانبدار ممالک کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ چبھتی ہوئی بات کہی۔اُن کا یہ کہنا تھاکہ یہ ممالک دونوں بلاکوں سے دور تو رہتے ہیں لیکن دونوں بلاکوں کے ساز پہ رقص بھی کرتے ہیں۔ بھارت ابھی بھی غیر جانبدار ممالک کی عالمی تنظیم کا ممبر ہے لیکن یہ اب نام کی تنظیم رہ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی وزرائے اعظم غیر جانبدار ممالک کے اجلاسوں میں شرکت بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ نچلے درجے کی نمائندگی اِن اجلاس کا مقدر بن چکی ہے۔ 
 
سووویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کے روپ میں اُبھر آیا۔ پاور بلاکوں کی جداگانہ اہمیت ختم ہو گئی۔بھارت نے بتدریج اپنی خارجی پالیسی کا رخ تبدیل کرنا شروع کیا اوردھیرے دھیرے امریکہ کی جانب جھکائو واضح ہوتا گیا لیکن ایک مجبوری آڑے رہی۔بھارت کی فوجی سپلائی کا انحصار بہت حد تک روس پہ ہے۔سووویت یونین گر چہ سمٹ کر اب صرف روس رہ گیا لیکن ابھی بھی یہ فوجی سپلائی کی ایک بڑی منڈی ہے۔فوجی مال کی ساخت روس کی اعلی ترین صنعت ہے۔ بھارت نے سالہا سال جو سووویت یونین سے فوجی ساز و سامان خریدا ہے اُنکے لئے سپیر پارٹس کی خرید کیلئے بھارت کیلئے روس سے خوشگوار تعلقات بنائے رکھنا ایک مجبوری ہے گر چہ حالیہ برسوں میں بھارت نے   امریکہ،فرانس، برطانیہ اور اسرائیل سے فوجی ساز و سامان کی خرید کا آغاز کیا ہے۔تکنیکی اعتبار سے یہ مانا جا تا ہے کہ مغربی ممالک کی اسلحہ سازی روس سے بہتر ہے گر چہ قیمتیں روس سے زیادہ ہیں۔ پلوامہ حملہ واقعہ کے بعد پاک بھارت  کے بیچ جو حالیہ تصادم پیش آیا اُس کے بعد بھارتی وزیر اعظم کا ایک بیاں منظر عام پہ آیا جس میں نریندرا مودی کا کہنا تھاکہ اگر اُنکے پاس فرانس کے رافیل طیارے ہوتے تو بھارت کی فوجی پوزیشن مستحکم تر رہتی۔بھارت کی ترجیحات جو بھی ہوں آج کل ویسے بھی روسی فوجی مال کی خرید پہ امریکہ نے قدغن لگا دی ہے۔بھارت کسی پابندی کے نرغے میں نہیں آنا چاہتا۔ ویسے بھی امریکہ سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا حالیہ برسوں میں بھارت کی ترجیح رہی ہے۔ایک وسیع پیرائے میں جانچا جائے تو بھارت بھی امریکہ کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان روس کے قریب آرہا ہے۔ روس بلاشبہ ایک بڑی طاقت ہے۔یہ بات فوجی زمرے میں گر چہ ایک حقیقت ہے لیکن روس کو شش کے باوجود ایک اقتصادی طاقت نہیں بن سکا۔روس میں ابھی بھی اقتصادی ضعف عیاں ہے بلکہ ماضی میں یہی اقتصادی ضعف سوویت یونین کو بھی کھا گیا۔ اِس کے برعکس چین نہ صرف ایک نئی فوجی قوت کے طور پہ اُبھر رہا ہے بلکہ اُسکی اقتصادی حثیت بھی مغربی اقوام کیلئے ایک چلینج بنتی جا رہی ہے۔زمانہ قدیم کی شاہراہ ابریشم کو چین نے عصر حاضر میں ایک نیا رنگ و روپ دیا ہے۔ ون بیلٹ ون روڑ کے عالمی نظریے کو عملیانے کیلئے چین بے دریغ سرمایہ کاری کر رہا ہے جو موجودہ عالمی اقتصادی نقشے کیلئے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔چین کے عزائم  پہ روک لگانے کیلئے امریکہ کی منصوبہ بندی میں بھارت کا رول اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔چین کا علاقائی رول بھی بھارت کیلئے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ بھارت کے ہمسایہ ممالک میں چین کی وسیع سرمایہ کاری بھارت کے سفارتی اثر و رسوخ پہ ایک ایسا دبائوہے جو کہ بھارتی پالیسی سازوں کے ارادوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی قوت نہ صرف بھارت پہ اپنے اثرات چھوڑ رہی ہے بلکہ ایشیا پیسفک کے علاقہ جات پہ بھی اثرات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ایشیا پیسفک وہ علاقہ مانا جاتا ہے جہاں ایشیائی ممالک کا محل و قوع بحر منجمند کے ساحل پہ ہے۔اَن ممالک میں جاپان،ویٹنام اور فلپائن کا نام لیا جا سکتا ہے۔  ثانیاََ پیسفک ریجن میں آسٹریلیا بھی ایک بڑا ملک ہے۔ امریکہ کی سیاسی،سفارتی اور فوجی ترجیحات میں ایک کواڑ  کا وجود اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے جو در اصل ایک چہار ملکی اتحاد پہ مشتمل ہے۔ یہ چہار ملکی اتحاد امریکہ،جاپان،آسٹریلیا اور بھارت پہ مشتمل ہو سکتا ہے۔  اگر چہ ابھی اِس اتحاد کی تنظیمی شکل سامنے نہیں آئی ہے لیکن یہ موضوع عالمی مطبوعات اور سفارتی حلقوں میں عام ہے۔ یہ مجوزہ اتحاد چین کے بڑھتے ہوئے اقدامات پہ روک لگانے کیلئے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ چین اپنے سمندری ساحل پہ اپنی اجارہ داری منوانے پہ اڑا ہوا نظر آ رہا ہے جبکہ امریکہ ایک علاقائی اتحاد کی تشکیل سے اپنے عالمی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ جہاں چین عالمی سطح پہ امریکی ارادوں کے آڑے آ رہا ہے وہی علاقائی سطح پہ چین بھارت پہ بھاری پڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ روس کی البتہ یہ کوشش ہے کہ بھارت پوری طرح امریکی حلقہ اثر میں نہ رہے۔ روس کی کوشش یہ بھی ہے کہ چین اور بھارت کے مابین مسائل میں اُلجھائوکے بجائے سلجھائوکی کیفیت رہے۔
بھارت کا انحصار پاکستان پر ہو تو دونوں ممالک میں بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے جیسے کہ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پہلے بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج اور اب اس کے سربراہ اجلاس کے لئے نریندر مودی کے طیارے کو گزرنے دینے کی درخواست دہلی نے اسلام آباد سے کی ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات سے یہ بات عیاں ہے کہ امریکہ سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔حالیہ مہینوں میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ امریکہ کی مجوزہ پابندیوں کے خوف سے بھارت نے ایران سے تیل لینا تقریباََ بند کر لیا ہے حالانکہ حالیہ برسوں میں بھارت اور ایران کے مابین قریبی تعلقات رہے ہیں بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا بھارت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ بھارت کی ایک بہت بڑی مشکل افغانستان اوروسط ایشیائی  ممالک سے براہ راست راہداری کا نہ ہونا ہے۔پاکستان چونکہ در حال حاضر بھارت کیلئے راہداری فراہم کرنے کے لئے آمادہ نظر نہیں آ رہا ہے لہٰذا بھارت نے ایک متبادل راہ ڈھونڈھ لی۔

تازہ ترین خبریں