08:17 am
آصف زرداری ، حمزہ شہباز، اب الطاف حسین!

آصف زرداری ، حمزہ شہباز، اب الطاف حسین!

08:17 am

٭آصف زرداری کے بعد لندن میں الطاف حسین اور لاہور میں حمزہ شہباز شریف!’’کوئی قاتل بچا نہ رہ جائے میرے شہر میں!‘‘ آصف زرداری کے گرفتاری کے وقت جنونی قہقہے! حمزہ شریف 2013ء میں انتخابی گوشوارے میں اثاثے 32 کروڑ (شہباز شریف 10 کروڑ) 2018ء گوشوارے میں اثاثے 42 کروڑ! (شہباز شریف 28 کروڑ!)  باپ بیٹے کے پاس اثاثوں میں اک دم 30 کروڑ کا اضافہ! اور دعوے پاک صاف، شفاف، نجیب الطرفین ہونے کے ،کالم جانے والا وقت ہو رہا ہے
 
اور نئے نئے ’حادثے‘ ہو رہے ہیں۔ باقی کل۔ آصف زرداری نے بہت زوردار بیان دیا ’نیب مجھے ہاتھ لگا کر دکھائے‘ نیب نے حوالات میںبند کر دیا۔ میرے لئے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، یہ ہونی تھی ہو کر رہی۔ ابھی تو اربوں کی منی لانڈری والے 29 جعلی اکائونٹس میں سے صرف ایک اکائونٹ پر کارروائی ہوئی ہے، 28 اکائونٹس باقی ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح تعلق آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں سے نکل رہا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے کیسوں کو ملا کر 14 مزید ریفرنس تیار ہیں! قدرت کا کیا کمال ہے! نوازشریف کے خلاف مقدمہ، گرفتاری، سزا، قید جرمانہ سب کچھ خود ان کی اپنی ن لیگ کی حکومت اپنے اقتدار اور اپنے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں ہوا۔ آصف زرداری کے خلاف سارے مقدمے ن لیگ کے دور میں قائم ہوئے۔ ن لیگ کے شاہد خاقان عباسی اور پیپلزپارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کئی روز کی بحث کے بعد جسٹس (ر) جاوید اقبال کو نیب کا چیئرمین بنایا اور پھر وہی ہوا جو’’ فرعون کے گھر میں موسیٰ‘‘ کے محاورے کی رو سے ہوا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی کو ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کا وزیراعلیٰ اور وفاقی وزیر بنایا تھا۔ 1990ء کے اوائل میں مصطفیٰ ٰجتوئی صرف تین ماہ کے لئے نگران وزیراعظم بنے تو بے نظیر بھٹو کے خلاف سات ریفرنس دائر کر دیئے اور آصف علی زرداری کو جیل بھیج دیا۔ مصطفیٰ جتوئی ایک بار لاہور آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ تو بھٹو فیملی کے فرسٹ فرنٹ مین تھے، بے نظیر آپ کو انکل کہتی تھیں۔ آپ نے بے نظیر کے خلاف اک دم سات ریفرنس تیار اور دائر کر دیئے؟؟ کہنے لگے کہ میں نے ریفرنس تیار نہیں کئے میرے پاس تیار شدہ آئے تھے، میں نے صرف دستخط کئے تھے! حالات کاکیا ستم کہ آصف زرداری نے فردوس عاشق اعوان کو وفاقی وزیر اطلاعات بنایا، اور…اور گزشتہ روز آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا تو فردوس عاشق اعوان نے سب سے پہلے گرفتاری کے حق میں تالیاں بجائیں!
٭اور اے ساکنان آباد بستی! ذرا غور کرو! 1958ء سے پہلے والے حکمران عزت و آبرو کے ساتھ آئے، نہائت عزت و احترام کے ساتھ رخصت ہوئے۔ قائداعظم، لیاقت علی خان، غلام محمد، خواجہ ناظم الدین، چودھری محمد علی، محمدعلی بوگرا، فیروز خان نون، حسین شہید سہروردی، چندریگر! کسی کے نام پر ایک پیسے کی بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں۔ کسی نے بیرون ملک کوئی فلیٹ، محل یا پلازے نہیں خریدے، کوئی کاروبار نہیں کیا، کسی نے بیرون ملک علاج نہیں کرایا۔ مگر بعد میں!! میں تفصیل میں نہیں جاتا۔ تاریخ میں سب کچھ درج ہے۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا؟ اور پھر ردعمل میں اس ملک نے ان کے ساتھ کیا؟ یہ باتیں بار بار چھپ چکی ہیں مگر عبرت کے لئے انہیں یاد رکھنا ضروری ہے۔ مختصر طور پر دیکھئے کہ اقتدار کے دوران فرعون صفت حکمرانوں کا کیا انجام ہوا۔ ایوب خان کو کن ناقابل بیان مخالفانہ نعروں کی بنا پر اقتدار چھوڑنا پڑا! یحییٰ خان کا انجام! گھر میں نظر بند، پنشن ضبط، وکیل کو دینے کے لئے پیسے نہیں تھے! یحییٰ کو قید کرنے والے بھٹو کو ضیاء الحق نے پھانسی دی، ضیاء الحق صرف تین سیکنڈ میں جلتے طیارے کی آگ میں جل کر راکھ ہو گیا۔ بے نظیر نے غلام اسحق خان کی صدارت کی حمائت کی۔ دوسرے دور میں بھٹو کے قریبی معتمد فاروق لغاری کو صدر بنایا اِن دونوں نے باری باری بے نظیر کی حکومت برطرف کی اور…اور پھر ان دونوں کو بھی ذلت آمیز طریقے سے اقتدار چھوڑ کر گھر جانا پڑا (غلام اسحاق خان نائب تحصیلدار تھا، صدر کے عہدے پر کیسے پہنچا، یہ الگ داستان ہے) یہ عصر حاضر کی بات ہے۔ جنرل پرویز مشرف کہاں ہے، نوازشریف، آصف زرداری! 15 سے 30 سال تک مکمل فرعونیت کے ساتھ حکمرانی! اور اب! پرانے ہندو بول یاد آ رہے ہیں اجل کی بجائے دوسرا نام لے لیں) کہ ’’کہاں گئے وہ دارا سکندر! کہاں وہ بارہ دری گئی؟ چلے گئے سب اجل کے مُکھ میں، اندر رہا نہ پری رہی…‘‘
 عبرت کا مقام یہ کہ ہر حکمران پہلے والے حکمران کے انجام سے سبق نہیں سیکھتا اور خود بھی اسی انجام کی طرف چل پڑتا ہے۔ حبیب جالب نے کیانقشہ بیان کر دیا کہ ’’اک شخص جو کل یہاں تخت نشیں تھا، اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا۔‘‘ اور کیا عجیب اتفاق ہے۔ جس روز آصف زرداری کی گرفتاری کی خبر چھپی اسی روز یہ خبر بھی چھی کہ کوئی شخص مصر میں دفن فرعون کا سر کاٹ کر لندن لے گیا ہے اس کی 4 جولائی کو نیلامی ہو رہی ہے۔ اس کا مصر کی حکومت نے سخت نوٹس لیا ہے! فرعون خود کو خدا کہتا تھا اور اب!الطاف حسین سے بڑا فرعون کون ہو گا؟ آخری عمر میں لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ حوالات۔
اخبارات میں شائع ہونے والی ایک تصویر کو دیکھ کر دماغ انتہائی صدمے سے دوچار ہے، دل دکھ سے بھر گیا ہے۔ کراچی کے ایک قبرستان میں قائداعظم ؒ کے بعد پاکستان کے عظیم مخلص رہنما، وزیراعظم لیاقت علی خاں کی والدہ محترمہ کی انتہائی ناگفتہ بہ اور خستہ حالت والی قبر!! اتنی بری حالت! قبر کے اردگرد کی مختصر چار دیواری بارشوں سے اکھڑ کر ارد گرد بکھری ہوئی، قبر کے اوپر اور اردگرد جھاڑ جھنکار، سرہانے پر ایک میلا کچیلا گرد آلود کتبہ، اس پر ایک مدہم تحریر!! وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خاں کی والدہ محترمہ کی آخری آرام گاہ! ملک کی خاطر موت کے سامنے سینہ سپر شہید، ملک کے محسن وزیراعظم کی والدہ کی آخری آرام گاہ کا یہ حال؟ اِنّا لِلّٰہ و اِنّا الیہ راجعون! لیاقت علی خان کا نام استعمال کر کے کراچی پر قبضہ کرنے والے ایم کیو ایم، ن لیگ، پیپلزپارٹی کے کتنے سردار، نواب، مہاراجے حکمران آئے اور گئے، کسی کو یہ قبر اوراس کی ناقابل بیان خستہ حالت دکھائی نہ دی!! ماں تو سب کی ماں ہوتی ہے، یہ تو ماں بھی بڑی تھی، جس نے لیاقت علی خان جیسے پاکستان ساز کو جنم دیا!خدا پناہ!
٭سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت 14 جون کو سپریم جوڈیشل کونسل کے روبرو شروع ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بتا چکے ہیں کہ اس روز صرف اٹارنی جنرل کو بلایا جائے گا اور یہ طے کیا جائے گا کہ کیا یہ ریفرنس قابل سماعت ہے یا نہیں۔ قابل سماعت ہونے کی صورت میں فریقین کو کسی اگلی تاریخ پر پیش ہونے کا نوٹس دیا جائے گا۔ قابل سماعت نہ ہونے پر ریفرنس وہیں ختم ہو جائے گا۔ اس ریفرنس پر پاکستان بار کونسل کے صدر امان اللہ کنرانی نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں گھیرائو جلائو، اسلام آباد میں لاشیں گرانے کا اعلان! ریفرنس کے خلاف یہ دلیل کہ ریفرنس والے جج کا تعلق بلوچستان سے ہے اس لئے ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا۔ امان اللہ کنرانی نے اس ریفرنس کو عدلیہ کی توہین قرار دیا ہے۔ یہ توہین ان صاحب کو اس وقت یاد نہ آئی جب چند ماہ قبل اسلام آباد کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو برطرف کیا گیا! جب سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر ہوا؟ جب وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا! ماضی میں جنرل ایوب خان کے دور میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اخلاق احمد، یحییٰ خان کے دور میں جسٹس شوکت علی کو برطرف کیا گیا۔ ضیاء الحق کے دور میں جسٹس صفدر علی شاہ کے خلاف ریفرنس دائر ہوا جو ناکام ہو گیا۔ پاکستان بار کے صدر نے کبھی ان ریفرنسوں کو توہین عدالت قرار نہیں دیا کیوں؟

تازہ ترین خبریں